ریاض(منصور قاسمی): ریاض کی معروف فلاحی تنظیم اترپردیش اوورسیز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا) کے زیر اہتمام ریاض سعودی عرب تشریف لائے معروف شاعر ہدایت اللہ خان شمسی کے اعزاز میں ایک شاندار اور پر وقار شعری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت انجینئر سید غفران احمد نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی مسند پر ہدایت اللہ خان شمسی براجمان رہے۔ عبدالرحمن راشد عمری نے نظامت کے فرائض خوبصورت انداز میں پیش کیے۔

مجلس کا باضابطہ آغاز حافظ زہیر احمد کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ نعت پاک کی سعادت منصور قاسمی کے حصے میں آئی۔ خطبہ استقبالیہ ڈاکٹر عبدالاحد چودھری نے پیش کیا ؛جبکہ مہمان خصوصی کا تفصیلی تعارف سراج عالم زخمی نے پیش کیا ۔

مہمان خصوصی نے کہا : مجھے ریاض آکر اور یہاں کے شعراء و ادباء سے مل کر بے حد خوشی ہوئی ۔ میں اپووا کا شکر گزار ہوں کہ اس خاکسار کے اعزاز میں اتنی شاندار محفل سجائی ، اس کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ ایک مدت تک میں بھی جدہ اور دیگر شہروں میں رہا ریاض کا شعری اور ادبی ماحول منفرد ہے یہاں کے سامعین بھی بھی خوبصورت اور باذوق ہیں ۔ "

مہمان اعزازی وسیم احمد نے کہا : اس طرح کی اعزازی نشستیں منعقد ہوتی رہنی چاہئیں، یہ مختصر ہے مگر پر لطف ہے۔ اس محفل میں شریک ہوکر بہت خوشی ہوئی۔ شاعروں نے بہترین کلام سے نوازا ۔

اپووا کے سرپرست انجینئر عبدالمعین خان اور ذمہ داران نے صاحب اعزاز ہدایت اللہ خان شمسی کی خدمت میں میمنٹو پیش کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔

 دیر رات تک چلنے والی اس محفل میں مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور معزز شخصیات نے شرکت کی جن کے اسماء گرامی ہیں ۔ ڈاکٹر ادریس خان غور ، ڈاکٹر ایس ایم شوکت پرویز، عبدالمبین ندوی ، ڈاکٹر دلشاد احمد ، ارشاد احمد خان ، حافظ زہیر احمد ، ابو باسط معاذ ، شمس بھونگیری ، عرفان احمد خان ، محمد اکمل ، ابوالمؤثر نديم اور سيد آصف احمد وغیرھم

نشست کا اختتام فیروز کمال کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا۔ شعرا کے ذریعے پیش کئے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں ۔

آکر تمھارے شہر میں مزدور ہو گیے

شہزادے اپنے گاؤں میں ہم بھی وگرنہ تھے

ہدایت اللہ شمسی

موت پڑی ہے عمر کے پیچھے

تم کہتے ہو عمر پڑی ہے

افتخار راغب

اک بلا کے ساتھ اکثر سو بلایئں آتی ہیں

مطمئن نہ ہو جانا اک بلا کے ٹلنے سے

سہیل اقبال

آب الماس تھا جب اشک کی صورت برسا

زخم بسمل کا لہو چشمۂ مرجاں نکلا

اول عبدالاول سنگرام پوری

ہر جسم کے اندر کئی لاشوں کا ہے انبار

چہرے سے یہاں کوئی بھی گھایل نہ ملے گا

منصور قاسمی

کام آۓ گا اک روز مرا نقش کف پا

منزل تو نہیں ہوں پہ میں منزل کا پتا ہوں

حسان عارفی

اے کاش کبھی آکر ملتے کسی منزل پر

اک سمت سے تم آتے اک سمت سے ہم آتے

عبدالرحمن راشد عمری

اپنے کیے پہ کوئی ندامت نہ تھی مگر

تم نے معاف کر کے پشیمان کر دیا

سراج عالم زخمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے