عبد المقیت
ہندوستان کی جمہوریت کی بنیاد آئین، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق پر قائم ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں میں ایک نئی سیاسی اصطلاح عوامی مباحثے کا حصہ بن گئی ہے جسے عام طور پر بلڈوزر سیاست کہا جاتا ہے۔ اجین کی تاریخی شاہی مسجد ایک بار پھر جمہوریت، اقلیتوں کے حقوق، شہری منصوبہ بندی اور ریاستی طاقت کے استعمال سے متعلق ایک بڑی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔
گزشتہ دنوں اجین کی شاہی مسجد کے اطراف بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور اس کے متاثرہ حصے کو بچانے کا مطالبہ کیا۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ تاہم اس پورے واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بعد میں مسجد انتظامیہ اور مقامی انتظامیہ کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں متاثرہ حصے کو رضاکارانہ طور پر ہٹانے پر اتفاق ہوا۔ مسجد سے وابستہ کمیٹی کے رکن فہیم سکندر کے مطابق شہر قاضی، انتظامیہ اور کمیٹی کے ذمہ داران کے درمیان بات چیت کے بعد پرامن طریقے سے کام آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم برادری سڑک کی توسیع کے منصوبے کا احترام کرتی ہے اور متاثرہ حصے کو ہٹانے میں تعاون کر رہی ہے۔
قارئین: یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض تصاویر اور ویڈیوز سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انتظامیہ نے براہِ راست مسجد پر بلڈوزر چلا دیا، جبکہ موجودہ قانونی اور انتظامی صورتِ حال اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے پہلے مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے لیے ہٹانے کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ بعد ازاں مسجد کی انتظامی کمیٹی اور اجین میونسپل کارپوریشن کے درمیان سمجھوتے کے بعد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے متعلقہ اپیلیں نمٹا دیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے عدالت کے سامنے دی گئی یقین دہانیاں اس پر لازم ہوں گی۔
انتظامیہ کے مطابق اجین میں سڑک کی توسیع کا منصوبہ 2028 کے مہا کمبھ میلے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 730 میٹر طویل سڑک کو وسیع کرنے اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔ اس وسیع منصوبے میں متعدد عمارتیں اور مذہبی مقامات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے سامنے بھی انتظامیہ نے موقف رکھا تھا کہ اسی علاقے میں دیگر مذہبی تعمیرات کے حصے بھی ہٹائے گئے ہیں اور کارروائی صرف مسجد تک محدود نہیں ہے۔
لیکن اس کے باوجود سوال ختم نہیں ہوتا۔ کسی مذہبی یا تاریخی مقام کا معاملہ صرف زمین کے ایک ٹکڑے یا تعمیر شدہ ڈھانچے کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ایسے مقامات لوگوں کی مذہبی وابستگی، تاریخی یادداشت اور اجتماعی شناخت سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ حساسیت، شفافیت اور تمام ممکنہ متبادل راستوں پر بھی غور کرے۔
مسجد کمیٹی کا رضاکارانہ طور پر متاثرہ حصہ ہٹانے کا فیصلہ بظاہر ایک عملی حل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ طویل تنازعہ اور کشیدگی کے بجائے انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کیا گیا۔ لیکن اس فیصلے نے مسلم سماج کے اندر بھی مختلف جذبات کو جنم دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بعض افراد کو مسجد کے متاثرہ حصے کو خود ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ بعض لوگ جذباتی انداز میں پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے نظر آئے۔ ان مناظر نے اس واقعے کو محض ایک شہری ترقیاتی منصوبے سے آگے بڑھا کر ایک گہرے جذباتی اور سماجی مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہاں مسجد کمیٹی کے فیصلے کو اس کے اپنے بیان اور حالات کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ اس نے امن، گفت و شنید اور مسجد کے باقی حصے کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے یہ راستہ اختیار کیا۔ اس کے برعکس احتجاج کرنے والے بعض افراد نے سوال کیا کہ کیا کسی تاریخی مذہبی مقام کے تحفظ کے لیے متبادل راستے تلاش نہیں کیے جا سکتے تھے؟
اجین کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور کانگریس اقلیتی شعبہ کے سربراہ عمران پرتاپ گڑھی نے شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سڑک کی توسیع اور ترقی کے نام پر تاریخی ورثے کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں انتظامیہ کو زیادہ حساس رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے متبادل راستہ اختیار کرنے اور مسجد کے تاریخی ورثے کے تحفظ کی اپیل بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو انتظامیہ کی جانب سے مسجد کے گرد کارروائی کا ماحول پیدا ہونا بھی سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق سڑک کی توسیع کے لیے دوسری جانب سے زمین حاصل کرنے جیسے متبادل پر بھی غور کیا جا سکتا تھا۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے بھی اجین کے عوام کے احتجاج کی حمایت کی اور اسے پرامن احتجاج قرار دیا۔ ان کے مطابق مذہبی مقامات کو اس انداز میں ہٹانے کے بجائے معاملے کو مختلف طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مسلمانوں کے صبر و تحمل اور آئین پر اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے بلڈوزر کارروائیوں اور مذہبی مقامات سے متعلق حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھائے۔ ان کے بیان کا وسیع تر سیاسی تناظر یہ تھا کہ مسلمانوں کو آئینی طریقوں اور قانونی اداروں پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
اجین کا واقعہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ صرف کسی واقعے کے بعد بیان جاری کرنا اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا ایک سیاسی ردعمل تو ہوسکتا ہے، لیکن شہری حقوق اور آئینی اصولوں سے متعلق مسائل پر مستقل اور منظم سیاسی و قانونی جدوجہد ایک الگ معاملہ ہے۔ اگر اپوزیشن مذہبی آزادی، شہری حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور قانون کی یکساں عمل داری کو سیاسی مسئلہ بناتی ہے تو اسے ان معاملات کو محض انتخابی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ، عدالتوں، ریاستی اسمبلیوں اور عوامی سطح پر مسلسل بحث کا حصہ بنانا ہوگا۔ اسی طرح مسلم سیاسی و سماجی قیادت کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے ساتھ ساتھ قانونی راستوں، دستاویزی شواہد، مذاکرات اور پرامن جمہوری ذرائع کو کس حد تک مؤثر انداز میں استعمال کرتی ہے۔
قارئین: سڑک کی توسیع ہو، تجاوزات کے خلاف کارروائی ہو یا کسی مذہبی مقام سے متعلق تنازعہ، ریاست کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اسے طاقت استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ اسی موقع پر یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے ساتھ قانون، شفافیت، تناسب اور شہری وقار کے اصول بھی برقرار رہتے ہیں یا نہیں۔ مسجد کمیٹی کا رضاکارانہ طور پر متاثرہ حصہ ہٹانے کا فیصلہ ایک ممکنہ طور پر کشیدگی کم کرنے والا راستہ بن سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس واقعے سے پیدا ہونے والے سوالات ختم نہیں ہوئے۔ تاریخی ورثے کا تحفظ، مذہبی آزادی، شہری منصوبہ بندی اور مساوی قانونی تحفظ جیسے مسائل مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے ہر معاملے میں حکومت اپنے فیصلوں کی شفاف وضاحت کرے، انتظامیہ تمام فریقوں سے بات چیت کرے، عدالتیں قانونی عمل کی نگرانی کریں اور سیاسی جماعتیں شہری حقوق کے سوال کو مستقل جمہوری بحث کا حصہ بنائیں۔ جمہوریت کی طاقت صرف اس بات میں نہیں کہ حکومت کے پاس قانون نافذ کرنے کی طاقت موجود ہے، اس کی اصل طاقت اس اعتماد میں ہے کہ قانون طاقتور اور کمزور، اکثریت اور اقلیت، مذہبی اور غیر مذہبی سب کے لیے یکساں ہے۔ اجین کی شاہی مسجد کا واقعہ اسی بنیادی اصول کی یاد دہانی ہے۔ ترقی ضروری ہے، سڑکیں بھی ضروری ہیں، شہری سہولت بھی ضروری ہے لیکن ان سب کے ساتھ یہ یقین بھی ضروری ہے کہ ترقی کے راستے میں آئین، قانون اور شہری وقار پیچھے نہیں چھوٹیں گے۔بقول نبیل احمد نبیل۔۔۔
ان سے کہہ دو نہ کریں دست ہوس ہم پہ دراز
ہم تو پینے سے زیادہ ہیں پلانے والے
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں ریسرچ اسکالر ہیں)
