بعض اہلِ علم کو علمی خدمات کے اعتراف میں تکریمی ایوارڈ سے نوازا گیا

محمد ہاشم سلفی

نوگڑھ(سدھارتھ نگر)

ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کی سرپرستی اور مقررہ پروٹوکول کے مطابق جمعیت اہل حدیث، حلقہ نوگڑھ کے زیر اہتمام کلیہ جویریہ گرلس ایجوکیشنل اکیڈمی، بسہوا مسیرہ، نزد مہدیوا بازار، سدھارتھ نگر میں سالانہ انعامی و تعلیمی مظاہرہ منعقد ہوا۔

پروگرام کے آغاز میں ناظمِ جمعیت اہل حدیث، حلقہ نوگڑھ نے شریک اساتذۂ مکاتبِ اسلامیہ، طلبہ و طالبات، حکم صاحبان اور مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں اہلاً وسہلاً ومرحباً کہا۔ انہوں نے مکاتبِ اسلامیہ کے تعلیمی و تربیتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی جمعیت اہل حدیث کی جانب سے منعقد کیے جانے والے سالانہ تعلیمی مظاہرے کو کامیاب بنانے میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا بصمیمِ قلب شکریہ ادا کیا۔

اس کے بعد امیرِ جمعیت اہل حدیث، حلقہ نوگڑھ، شیخ عبدالرحیم امینی حفظہ اللہ نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے اساتذہ، طلبہ اور حاضرین کو جمعیت کے دعوتی و تعلیمی مشن سے آگاہ کرتے ہوئے علم و عمل کی اہمیت اور اس کے تقاضوں پر روشنی ڈالی، جمعیت سے مضبوط ربط و تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی اور تعلیمی مظاہرے کے مقاصد و فوائد بیان کیے۔ اس موقع پر انہوں نے تعلیمی مظاہرے کے مرکز، کلیہ جویریہ گرلس ایجوکیشنل اکیڈمی کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔

بعد ازاں تلاوتِ قرآنِ کریم مع تجوید سے تعلیمی مظاہرے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تلاوتِ قرآن، نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اردو تقریر اور ہندی تقریر کے مقابلے اسٹیج پر منعقد ہوئے، جب کہ دینیات کے تینوں زمروں کا تحریری امتحان دو بڑے کمروں میں لیا گیا۔ ادعیۂ ماثورہ کے درجات سوم، چہارم اور پنجم کا امتحان بھی باری باری زبانی طور پر لیا گیا۔

نتائج کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حکم صاحبان کا انتخاب ضلعی جمعیت کے مقررہ پروٹوکول کے مطابق حلقہ نوگڑھ سے باہر، حلقہ شہرت گڑھ سے کیا گیا۔ ان میں مولانا عبد الوحید سراجی، مولانا عبد الحفیظ سراجی، مولانا عبد الحسیب ریاضی، مولانا ضیاء الرحمن سراجی، مولانا محمد علی الجامعی اور ماسٹر فرحان احمد شامل تھے۔

الحمدللہ، تمام پروگرام مقررہ پروٹوکول کے مطابق وقت پر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئے۔

پروگرام کے دوران ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے فعال و متحرک ناظمِ اعلیٰ اور نازشِ جماعت، مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی بھی تشریف لائے اور تعلیمی مظاہرے کا بنفسِ نفیس جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف شعبہ جات کا مشاہدہ کیا، پروگرام کے نظم و ترتیب اور تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور مجموعی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ناظمِ حلقہ کی شبانہ روز کاوشوں اور تعلیمی مظاہرے کے کامیاب انعقاد کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔

مخیرِ جماعت اور ضلعی جمعیت کے نائب ناظم، مولانا رفیع احمد ندوی بھی ناظمِ اعلیٰ کے ہمراہ تشریف لائے۔ دونوں ذمہ داران کا ناظمِ حلقہ اور سینٹر انچارج حافظ شکیل احمد سلفی نے پرتپاک استقبال کیا۔ چائے سے فراغت کے بعد انہیں پروگرام کا معائنہ کرایا گیا اور شال پوشی کرکے تکریم کی گئی۔

بعد ازاں ناظمِ حلقہ نے دونوں معزز مہمانوں کی خدمت میں کلماتِ ترحیب پیش کرتے ہوئے ان کا تعارف کرایا اور ان کی آمد کے مقصد سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ چونکہ دونوں ذمہ داران کو مزید آگے بھی جانا تھا، اس لیے بلا تاخیر مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی کو مختصر خطاب کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے انتہائی مختصر مگر جامع و مانع خطاب میں حلقہ نوگڑھ کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا اور اس منظم پروگرام کے انعقاد پر امیر و ناظمِ حلقہ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مکاتب کی تعلیم کی اہمیت و افادیت، اساتذہ کرام کی محنتوں اور تعلیمی مظاہرے کے فوائد پر روشنی ڈالی، نیز اس سلسلے میں منفی سوچ رکھنے والوں کی تردید کی۔

جمعیت اہل حدیث حلقہ نوگڑھ کی جانب سے اس موقع پر بعض اہلِ علم کی طویل خدمات کے اعتراف میں توصیفی اسناد اور تکریمی ایوارڈز پیش کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ چنانچہ مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی کو ان کی طویل تعلیمی و تدریسی، تصنیفی و تالیفی، سماجی و رفاہی اور جماعتی خدمات کے اعتراف میں میمنٹو اور آنر سرٹیفکیٹ پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز امیرِ حلقہ شیخ عبدالرحیم امینی، ناظمِ حلقہ، نائب ناظم حافظ غیاث الدین عزیز سلفی اور سینٹر انچارج حافظ شکیل احمد سلفی نے مشترکہ طور پر پیش کیا اور ان سے مزید بہتر خدمات کی توقع کا اظہار کیا۔

پروگرام کے اختتام پر سینٹر انچارج کی جانب سے تمام اساتذہ، طلبہ و طالبات اور مہمانانِ گرامی کے لیے لذیذ بریانی کا ظہرانہ پیش کیا گیا۔ کھانے سے فراغت کے بعد اختتامی و انعامی نشست منعقد ہوئی، جس میں جمعیت اہل حدیث حلقہ نوگڑھ کے سرپرست شیخ مطیع اللہ صاحب سلفی اور امیرِ حلقہ شیخ عبدالرحیم امینی کو ہدیۂ تبریک اور تاثراتی کلمات پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ دونوں معزز صاحبان نے اختصار کے ساتھ نہایت دل پذیر اور حوصلہ بخش کلمات پیش کیے۔

اس موقع پر بعض اہلِ علم کی شال پوشی کے ذریعے تکریم کی گئی، جب کہ پانچ اساتذہ و علماء کرام کو ان کی طویل تعلیمی و تدریسی، سماجی و رفاہی اور جماعتی خدمات کے اعتراف میں شال پوشی کے ساتھ توصیفی سند اور تکریمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بالخصوص شیخ مطیع اللہ صاحب سلفی کی تصنیفی و تالیفی خدمات کا خصوصی اعتراف کیا گیا۔ تکریم پانے والے علماء کے نام یہ ہیں:

۱۔ فضيلة الشيخ مطيع الله محمد إسحاق السلفي حفظه الله

۲۔ فضيلة الشيخ شکیل أحمد الرؤفي حفظه الله

۳۔ فضيلة الشيخ أبو بكر محمدي حفظه الله

۴۔ فضيلة الشيخ مشتاق أحمد فيضي حفظه الله

۵۔ فضيلة الشيخ إقبال أحمد فيضي حفظه الله

بعد ازاں تعلیمی مظاہرے کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

انعامات کی تفصیل:

اول پوزیشن: 300 روپے نقد، میمنٹو، سندِ اعزاز، قرآن مجید معری، تفسیر عم پارہ، توشۂ خطیب، خوشبوئے حرم، اسلامی قانونِ وراثت اور قیامت۔

دوم پوزیشن: 200 روپے نقد، سندِ اعزاز، قرآن مجید معری، تفسیر عم پارہ، توشۂ خطیب، خوشبوئے حرم اور قیامت۔

سوم پوزیشن: 100 روپے نقد، سندِ اعزاز، قرآن مجید معری، تفسیر عم پارہ، توشۂ خطیب اور خوشبوئے حرم۔

تشجیعی انعام: ہر شریک طالب علم و طالبہ کو 50، 50 روپے نقد اور کتاب مومن کی مضبوط پناہ گاہ و مددگار: ماثور ادعیہ و اذکار پیش کی گئی۔

پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات

۱۔ تلاوتِ قرآن مجید (مخصوص آیات) مع تجوید

اول: محمد بلال روشن علی

دوم: ۱۔ محمد مدثر معین الدین، ۲۔ محمد ذیشان فخر عالم

سوم: محمد التمش محمد مجیب

۲۔ نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم

اول: فاطمہ خاتون نثار احمد

دوم: ۱۔ ابو حذیفہ ابوسفیان، ۲۔ صبا خاتون شمیم احمد

سوم: عفیفہ بانو نیاز احمد

۳۔ اردو تقریر

اول: کلثوم شکیل احمد

دوم: سروین بانو ذاکر حسین

سوم: مبشرہ خاتون ذاکر حسین

۴۔ ہندی تقریر

اول: صابرین بانو اکرام الدین

دوم: شہباز احمد فیروز احمد

سوم: نبیہہ ارم سراج احمد

۵۔ دینیات برائے درجہ سوم

اول: محمد زید ابوالقاسم

دوم: صادقہ بانو صغیر احمد

سوم: افیزہ ارشاد احمد

۶۔ دینیات برائے درجہ چہارم

اول: حسینہ خاتون علی حسین

دوم: صدف انجم اکرم حسین

سوم: سعدیہ صغیر احمد

۷۔ دینیات برائے درجہ پنجم

اول: فرحین بانو اکرام الدین

دوم: شمع پروین شکیل احمد

سوم: ایمن خاتون عامر علی

۸۔ دعائیں برائے درجہ سوم

اول: حفصہ خاتون عرفان احمد

دوم: نکہت بانو شہزاد احمد

سوم: طیبہ خاتون عبد الوحید

۹۔ دعائیں برائے درجہ چہارم

اول: ماریہ مبارک علی

دوم: نرگس جہاں ضیاء اللہ

سوم: ۱۔ ارباز عالم سیف اللہ، ۲۔ نادرہ عرفان یوسف

۱۰۔ دعائیں برائے درجہ پنجم

اول: مصباح بانو ابوالکلام

دوم: محمد احتشام حدیث اللہ

سوم: ۱۔ گل افشاں بانو ذاکر حسین، ۲۔ سیماب نازش صلاح الدین

اس طرح مختلف زمروں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد 34 رہی۔

تعلیمی مظاہرے میں 16 مدارس و مکاتب کے 152 طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جن میں 112 طالبات اور 40 طلبہ شامل تھے۔

آخر میں سینٹر انچارج حافظ شکیل احمد سلفی نے تمام مہمانان، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور معاونین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ ناظمِ حلقہ نے دعائے کفارۂ مجلس پڑھ کر پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے