إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
7 اکتوبر 2026:حضرت الاستاذ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ، مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء، کے سانحۂ ارتحال کی المناک خبر نے عالمِ اسلام، بالخصوص علمی و دینی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔ آپ کا اچانک دنیا سے رخصت ہوجانا اہلِ علم و محبت کے لیے ایک گہرا صدمہ اور ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم علمی نقصان ہے۔

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی وفات محض ایک فردِ علم کی جدائی نہیں، بلکہ علم و فضل، تدریس و تربیت اور دینی بصیرت کے ایک روشن باب کے اختتام کا احساس ہے۔ علماء امت کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں؛ ان کے جانے سے صرف ایک شخص ہم سے جدا نہیں ہوتا، بلکہ علم و حکمت کی ایک آواز اور تربیت و رہنمائی کا ایک سرچشمہ خاموش ہوجاتا ہے۔

آج ان کی وفات پر علمی و دینی دنیا غم زدہ ہے۔ ان کی جدائی کا غم ان کے اہلِ خانہ اور متعلقین تک محدود نہیں، بلکہ پوری ملت اور بالخصوص دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ حلقوں کا مشترکہ غم ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اللّٰهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه، وأكرم نزله ووسع مدخله۔

آمین یا رب العالمین۔

 

ابوالقاسم آزاد ندوی
ایڈیٹر، مجلہ البلاغ مہراج گنج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے