ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی بارہ بنکی انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چین نے آزاد فلسطینی ریاست کے لئے اپنی آواز بلند کی ہے، اُس نے یونائیٹڈ نيشن میں فلسطین کو پوری آزادی ملنے تک اپنی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ چین کے اِس اعلان کا اثر یہ ہوا ہے کہ اسرائیل میں ٹیکنو کمپنیز یعنی وہ کمپنیاں جو اپنی ٹیکنالوجی کا لوہا پوری دنیا کو منوا چکی تھیں وہ اسرائیل سے اب اپنا کام بند کر رہی ہیں اور اپنا %50 پیسہ نکال چُکی ہیں باقی پیسہ نکالنے کیلئے دِن رات بھاگ دوڑ میں مصروف ھیں اِس سے اسرائیل کا اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ اِس سے عرب اسرائیل پروجیکٹ بھی بہت متاثر ہوا ہے اور اُن کے درمیان ہونے والے مذاکرات (نرملائزیشن) کی بات تقریباََ ختم ہو گئی ہے۔ یہ اسرائیل کے خواہشات پر چابک چلانے جیسا عمل ہے۔ آپ لوگ اِسے فلسطین کے مقدمہ کی پہلی جیت بھی کہہ سکتے ہیں اب اسرائیل کے خلاف پورے یورپ میں پھر سے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، خاص کر لندن میں بہت بڑے مظاہرے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اِس وقت حکومتیں عوامی دباؤ محسوس کر رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ چاہتے ہوۓ بھی اسرائیل کی کھل کر مدد نہیں کر پا رہی ہیں، ان حکومتوں کو گاہے بگاہے اپنی عوام کو خاموش کرنے کے لئے اسرائیل کی مذمت خود بھی کرنا پڑتی ہے جِس سے عوام کے غصّہ پر پانی کی چھیٹیں ماری جا سکیں اور ان کے غصّے پر قابو پایا جا سکے۔
اسرائیل کی غنڈا گردی اور اس پر امریکی اتّحاد کی اسرائیلی حمایت دُنیا بھر کی خاموش رہنے والی عوام میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ اِس بیچینی نے روس اور شمالی کوریا کو بھی قریب سے قریب تر کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ اور یورپی اتحاد کے خِلاف پوری دُنیا ایک جوٹ ہونے لگی ہے اِن لوگوں نے بھی اپنے آپسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہو جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ایک نیا اتّحاد برکس (BRICS) کی صورت میں نظر آنے لگا ہے۔ یہ اپنی کرینسی بھی لانچ کرنے جا رہا ہے جو ڈالر کو منھ کے بھل پٹک دیگا جِس سے امریکا اور یورپی یونین دھڑام سے گرینگے جب امریکہ کا ڈالر، کمزور ہوگا تو لامحالہ امریکا اور اُسکی یورپی یونین بھی کمزور ہوگی جب یوروپی اتّحاد کمزور ہوگا تُو اسرائیل خود بخود اختتام کی طرف چلا جائے گا۔
اسرائیل کی غنڈا گردی کے نتیجہ میں گلوبل آرڈر چینج ہونے جا رہا ہے جِس کی تصدیق ہو گئی ہے اور اب چین، روس، ایران اور جنوبی کوریا کا اتّحاد بن گیا ہے اب ان ممالک پر کیا گیا کوئی بھی کسی بھی طرح کا حملہ اتّحاد پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اِس اتّحاد میں ترکی حکومت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور دُوسرے عرب ممالک بھی شامل ہو رہے ہیں۔
اِن سب کے علاوہ بھی اور دُوسرے ملکوں کو اِس اتّحاد میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اِس میں وینیزویلا ( venezuela) سے لیکر افغانستان (afghanistan) تک شامل ہونگے اور ان سب کا لین دین لوکل کرنسی (local currency) میں کیا جائیگا جب تک متحدہ کرنسی (United currency) کا آغاز نہیں ہو جاتا.
