Oplus_131072

ڈاکٹر ماجد داغی، گلبرگہ

ڈاکٹر رفیق رہبر کی اوّلین تصنیف ” مشاہدات” کے تجزیہ سے قبل مصنف کا مختصر تعارف بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کی تحریریں اردو اخبارات، رسائل و جرائد میں بہت کم شائع ہوتی رہی ہیں. اس لیے مختصر تعارف کے ذریعے اردو ادب کے قارائین کو مصنف کی تعلیمی، تدریسی اور ادبی سرگرمیوں سے روشناس کرنا ہمارا مقصد ہے تاکہ تعارف ان کے رشحاتِ قلم کے ادراک کا وصیلہ ثابت ہو۔
اُس زمانے کے بچوں میں مدرسوں میں داخلوں کا بڑا شوق تھا اور پچھتر فیصد سے زائد بچے ماہ جون میں ہی پیدا ہوا کرتے تھے تاہم انہیں ٹھیک چھ سال بعد اسکول میں شریک کیا جاتا تھا. تاہم اب دستور اور قدیم رسم و رواج سے انحراف کرتے ہوئے بچے کسی بھی مہینے میں پیدا ہوکر رِوایَت شِکَنی کے مرتکب ہورہے ہیں، مگر حُسن اتفاق سے روایت پسندی کا خیال کرتے ہوئے رفیق رہبر بھی 12/جون 1950ء کو گلبرگہ کے ممتاز تاجر محمد ابراہیم صاحب کے گھر پیدا ہوئے اور 6 برس کی عمر میں انہیں ابتدائی تعلیم کے حصول کے لئے ماہ جون 1956ء میں مدرسہ تحتانیہ میں داخلہ دلوایا گیا تھا اور اسی مدرسہ کے وسطانیہ مومن پورہ گلبرگہ سے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ ملٹی پرپز ہائی اسکول میں شریک ہوئے اور یہیں سے جماعت دہم کامیاب کیا. 1974ء میں گورنمنٹ کالج گلبرگہ سے گریجویشن کی تکمیل کے بعد 1977 ء میں کرناٹک یونیورسٹی دھارواڈ سے ایم اے اردو میں امتیازی کامیابی حاصل کی اور 1978ء میں گورنمنٹ بی ایڈ کالج سے بیاچلر آف ایجوکیشن بھی کامیاب کیا. اسی برس گورنمنٹ کالج میں جُز وقتی لکچرر کی حیثیت سے ملازمت پر مامور ہوئے اور اگلے برس ہی خواجہ ہائی اسکول گلبرگہ میں مددگار مدرس کی حیثیت سے ذمہ داری قبول کرلی اور اندرون ایک برس ہی خدمات کی انجام دہی کے بعد نومبر 1979ء میں حیدرآباد کرناٹک ایجوکیشن سوسائٹی کے، وی جی ویمنس کالج میں مستقل تقرر عمل میں آیا اور چند مہینوں میں ہی ان کا تبادلہ مَلک شہر یار ایرانی (ایم ایس آئی) کالج میں کردیا گیا جہاں ڈاکٹر عبدالرحیم افضل پوری ان کے رفیقِ کار رہے. ملازمت کے دوران 1987ء میں اناملائی یونیورسٹی مدراس سے فاصلاتی تعلیم کے تحت ایم ایڈ کی سند حاصل کی اور سلسلہ تعلیم جاری رکھتے ہوئے گلبرگہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر طیب انصاری کی نگرانی میں ” محمد اکبرالدین صدیقی حیات و کارنامے” کے زیرِ عنوان تحقیقی مقالہ قلمبند کیا. جس پر انہیں گلبرگہ یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی.
اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے جذبہ کے تحت ڈاکٹر وہاب عندلیب کی سرپرستی میں انہوں نے 1978ء میں انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ سے وابستگی اختیار کی اور انجمن کی سرگرمیوں میں تاحال حصّہ لے رہے ہیں.
تین دہائیوں تک پیشہ درس و تدریس کی خدمات کے بعد ڈاکٹر رفیق رہبر یکم / جولائی 2008ء کو وظیفہ حسن خدمات پر سبکدوش ہوئے.

ڈاکٹر رفیق رہبر کی زیرِ نظر اوّلین تصنیف ” مشاہدات ” ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤز نئی دہلی کے زیرِ اہتمام جملہ 128 صفحات پر سنہ 2024ء میں روشان پرنٹرس دہلی نے طباعت سے آراستہ فرمایا، جس کی قیمت 300 روپے ہے. اس کتاب کو معظم گرافکس گلبرگہ نے جہاں تزئین و صفحہ سازی سے حُسن بخشا تو وہیں پر محمد حَسن محمود نے اسے کمپیوٹر کیلیگرافی سے بصیرت افروز بنا دیا ہے.
دو درجن تخلیقات پر مشتمل مشاہدات میں گیارہ شخصیات پر مضامین، پاؤ درجن سفر نامے، پاؤ درجن کتابوں پر تبصرے اور چار افسانوں کے علاوہ اردو زبان و تعلیم پر دو مضامین کے منجملہ ایک سوانحی مضمون ‘میری کہانی’ شامل ہیں. جو مصنف کی پینتالیس سالہ اردو سے وابستگی کے دوران ہوئی عرق ریزی کے ثمرات ہیں.
اس خصوص میں ‘عرضِ مصنف’ کے زیرِ عنوان ‘مشاہدات’ کے ابتدائی سطور میں لفظوں کے دَر و بَسْت اور املا سے قَطْعِ نَظَر ڈاکٹر رفیق رہبر نے صاف کر دیا ہے کہ
” زیرِ نظر کتاب میں شامل مختلف عنوانات پر محیط یہ مضامین میری پینتالیس سالہ اردو سے وابستگی کے زائِیدَہ ہیں.”
ڈاکٹر رفیق رہبر نے اپنی تعلیم و تربیت کے تَئِیْں والدین، بڑے بھائی، ماموں و مامی کی رہنمائی کے علاوہ سُپُرْدِ قَلَم تحریروں کے لئے ڈاکٹر عبدالرحیم افضل پوری، ڈاکٹر وہاب عندلیب اور جناب ولی احمد کو مُحَرِّک قرار دیا ہے. جبکہ ڈاکٹر اکرم نقاش سے اس کتاب کی صُورَت گَری کے لئے اظہارِ تشکر کیا ہے.
یہ کتاب سوائے گلبرگہ کے کشمیر سے کنیاکماری تک مختلف ریاستوں کے صدر مقامات کے حامل تیرہ شہروں کے بک ایجنسیز، بک امپوریمس، بک ڈپوز، بک سیلرز، بک ہاؤزس، کتب خانوں، پبلشرز اور مکاتب پر دستیاب ہونگی جبکہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں یہ کتاب صرف مہاراشٹرا کے صدر مقام ممبئی میں مل سکے گی. گویا کتاب کے لئے مصنف کے وطنِ مالوف میں سراغ لگانا ہوگا.
ڈاکٹر رفیق رہبر نے مختلف النوع موضوعات پر مشتمل اپنی تصنیف کو والدِ محترم الحاج محمد ابراہیم صاحب مرحوم، والدہ محترمہ وحیدہ بیگم صاحبہ، شریکِ سفر حیات بیگم اور فرزند و دختران کے نام انتساب کیا ہے اور اس صفحہ کی پشت پر والدِ محترم الحاج محمد ابراہیم صاحب کی پُر تقدس تصویر کی اشاعت اپنے بزرگوں اور افرادِ خاندان سے گہری محبت کی ترجمان ہے.
صاحبِ تصنیف نے جب واضح کر دیا ہے کہ انہیں ادیب یا قلمکار ہونے کا کوئی دعویٰ ہرگز نہیں ہے تو ناقدین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشاہدات کے مشمولات کا فنی جائزہ لیں. البتہ پیشہ درس و تدریس کی ضروریات کے پس منظر میں کتاب کے اوّلین مضامین ” فیض کی ایامِ اسیری کی شاعری”، ” مولانا ابوالکلام آزاد ایک ہمہ جہت شخصیت”، ” سر سید احمد خان شخصیت اور خدمات” ان کی استادانہ صلاحیتوں کے غماز ہیں.
ڈاکٹر وہاب عندلیب نے ‘پیش لفظ’ میں اس کتاب کے مشمولات و موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

” کتاب میں شامل موضوعات بیلاگی و بے باکی کا نمونہ ہیں.”

ڈاکٹر رفیق رہبر چونکہ درس و تدریس کے بعد بھی ادباء و شعراء کی انجمنوں، ادبی نشستوں، محفلوں اور اردو زبان و ادب کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں لازمی طور پر ان کے اندر کا مَدہوش و سَرگَشْتَہ قلمکار بھی جب جب انگڑائیاں لیتا رہا یہ مضامین، افسانے، سفر نامے اور دیگر تخلیقات کو ضبطِ تحریر میں لاتے رہے ڈاکٹر اکرم نقاش نے ان تحریروں کو کسی خاص صنف سے مختلف قرار دیتے ہوئے انہیں ‘ہمہ رنگی نگارشات” قرار دیا ہے. ملاحظہ فرمائیں کہ

” ان کا قلم ان کے تجربات و مشاہدات کو ضبطِ تحریر میں لاتا رہا اور یہ تحریریں کسی خاص صنف کی ترجمان نہیں ہیں بلکہ انہیں متنوع و ہمہ رنگی تحریریں کہا جاسکتا ہے. ”

ڈاکٹر رفیق رہبر کا مُؤَرِّخانَہ وصف اِنہیں گلبرگہ کے دیگر اہلِ قلم حضرات سے مُنفَرِد شخصیت کا حامل بناتا ہے کہ وہ اپنی ہر بات مورخ کی طرز پر ازروئے تاریخ بیان کرنے کے عادی ہیں، ان کی جملہ تحریروں میں تاریخی حقائق و شواہد جگہ جگہ نمایاں نظر آتے ہیں. اگر ان کا موضوعاتی اشاریہ تیار کیا جائے تو گلبرگہ کے کئی تاریخی حقائق کے کَوائِف، اَحْوال اور وَقائِع کو محفوظ کیا جاسکتا ہے جو اسکالرز کے لئے حوالاجات کا حامل ہوگا.

شیرِ کرناٹک الحاج قمرالاسلام:
اس مضمون میں قمرالاسلام کی پیدائش، وفات، سیاسی زندگی کا آغاز و ارتقاء، رکن اسمبلی،رکن پارلیمان، وزارتیں، آل انڈیا پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا ملی کونسل، اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لئے اردو فرنٹ کا قیام اور انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کو رکن اسمبلی کے فنڈ سے تعمیری فنڈ کا اجراء، جلوس میلاد النبی کی بنیاد، عالمی مصری قراء سے قراتِ کلامِ پاک کا اہتمام، عظیم الشان دعوتِ افطار کا اہتمام، وزارتِ اقلیتی بہبود کے تحت مختلف اسکالر شپس کی اجرائی، لڑکیوں کی شادی کے لئے بدائی اسکیم وغیرہ کے حوالے سے قمرالاسلام کی مجموعی خدمات کا مختصر مگر جامع احاطہ کیا ہے.

بے لوث محبِ اردو اور جہدکار ڈاکٹر وہاب عندلیب:
اس مضمون میں ڈاکٹر وہاب عندلیب کی موضع گگن مڈی میں پیدائش تا حال ان کے ہمراہ گزرے روز و شَب، حالات و کیفیات کا جائزہ لیا گیا ہے.
وہاب عندلیب کی گریجویشن و ڈبل پوسٹ گریجویشن میں فلسفہ اور اردو ادب کے علاوہ بی ایڈ کی تکمیل، ملازمت کا آغاز، مختلف درجات پر مختلف مقامات میں خدمات، وظیفہ حسن خدمات پر سبکدوشی کے بعد خواجہ بندہ نوازؒ ایجوکیشن سوسائٹی میں 22 برسوں تک ڈائریکٹر آف اسٹڈیز کی بحسن و خوبی ذمہ داری کی تکمیل، ادبی خدمات کی ابتداء تا حال مختصر جائزہ، انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کا قیام و استحکام، جملہ تصانیف کا تذکرہ، اعزازات و انعامات اور عظیم الشان جشنِ اعترافِ خدمات، گلبرگہ یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی تفویض وغیرہ کی تفصیلات بیان کی ہیں.
مذکورہ شخصیات کے علاوہ ‘ڈاکٹر طیب انصاری اجمالی تعارف’، ‘پروفیسر محمد اکبر الدین صدیقی کی ادبی خدمات’، ‘ماہرِ تعلیم محمد عبد العظیم’، ‘ ڈاکٹر عبدالرحیم افضل پوری کی یاد میں’، ‘رفیق دیرینہ سید عبدالمقیم سید بارے’، اور ‘آتشِ شوق کے خالق اسماعیل بدر’ کے عنوانات پر مذکورہ شخصیات کی زندگی اور کارناموں پر روشنی ڈالی ہے.
مشاہدات میں تین کتابوں (1) منظور وقار کی کتاب ” مسکرانا منع ہے” ایک تاثر،”(2) ڈاکٹر عبدالباری کی کتاب” زاویہ فکر و نظر” اور (3) سید عبدالقدیر” رشحاتِ فکر” کی روشنی میں” پر تبصرے بھی شامل ہیں.
مشاہدات کے درمیان (1) ”گھروندہ” (2) ”پسند کی شادی” (3) ”محبت کی آگ” اور (4) ”فیصلہ” چار افسانے بھی پیش کئے گئے ہیں. جس سے مصنف کی افسانہ نگاری سے بھی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے.
اس کتاب میں شامل سفر نامے ‘سفرِ مکہ و مدینہ’، ‘ روشنیوں سے معمور سعودی عرب کے شہر ‘ اور ‘شمالی ہند کی سیر’ کے علاوہ ‘میری کہانی’ کی تحریر کا ایک حصّہ بھی سفر نامہ جیسی دلچست، تاریخی و جغرافیائی معلومات فراہم کرتا ہے.
مصنف نے ‘میری کہانی’ کا آغاز اپنی پیدائش اور خاندان کے ذکر کے بغیر راست اسکول میں داخلہ سے شروع کیا ہے. تاہم انتساب نے خاندان کی جانکاری کی کمی کو تو پورا کردیا ہے، مگر مصنف کی تاریخِ پیدائش جاننے کے لئے جب میں نے ‘ کرناٹک کے اردو قلمکاروں کی ڈائریکٹری’ کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ اس ڈائریکٹری میں ریاست کے کئی ممتاز قلمکاروں کے ساتھ ان کا بھی تعارف غائب ہے.
‘ مشاہدات’ کے آخری چار صفحات پر آٹھ اجتماعی تصاویر شامل ہیں پہلی تصویر میں ریاست کرناٹک کے سابق گورنر جناب خورشید عالم خان سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرتے ہوئے دوسری تصویر میں شہر کے باوقار قائدین الحاج اقبال احمد سرڈگی اور ڈاکٹر قمرالاسلام رفیق رہبر کو تہنیت پیش کر رہے ہیں. دیگر تصاویر میں ان کے ہمراہ نیئر مسعود، کرشن کول، ڈاکٹر وہاب عندلیب، ڈاکٹر شمیم ثریا، پروفیسر حمید سہروردی، ڈاکٹر حشمت فاتحہ خوانی، شریف احمد قریشی، ڈاکٹر سید مجیب الرحمن، پروفیسر ہاشم علی، جناب امجد جاوید اور آخری تصویر میں اپنے فرزند محمد اشفاق کے ساتھ بیٹھے ہوئے یاد گار تصاویر ہیں.
ڈاکٹر رفیق رہبر کی اوّلین تصنیف مشاہدات کی اشاعت پر میں انہیں دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ کتاب مجموعی طور پر قابلِ قدر ہے، مجھے امید ہے کہ اس کتاب کی ادبی حلقوں میں ضرور پَذِیرائی ہوگی۔

*****

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے