محمد وسیم راعین

آخری زمانہ میں عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت جو حقائق ہمیں شریعت کی رہنمائی سے معلوم ہوتے ہیں انہیں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر انے سے ایک فرد کا ظہور ہےجن کا نام اور ان کے والد کا نام ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےنام اور آپ کے والد کا نام پہ ہوگا اور انہیں مہدی کہا جائے گا ۔مہدی مسلمانوں کے معاملات کے ذمہ دار ہوں گے ۔ عیسی علیہ السلام بھی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ان تمام ہی باتوں کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں مشہور و معروف ہے ۔ امت کے افراد نے اسے قبول کیا ہے ۔ سوائے انہیں کے جو اس مسئلہ میں شذوذ کی راہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مہدی سے متعلق روایت کے بارے میں بعض لوگ مغالطہ کاشکار ہیں کہ مہدی سے متعلق روایت مشکوک ہیں بلکہ شیعہ کی گڑھی ہوئی ہیں۔ بعض جرأت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٍ مہدی سے متعلق وارد روايات اسرائیلیات کی قبیل سے ہیں بلکہ حد تو یہ ہے کہ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ مہدی سے متعلق روایتیں ،حق کا باطل پہ غلبہ کی رمز ہیں۔

شیعہ اس باب میں ایک الگ ہی نظریہ کے حامل ہیں کہ مہدی محمد بن حسن عسکری ہیں جو سامرا کے سرنگ میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ روزانہ ان کے خروج کا روزانہ انتظار کرتے ہیں اورسرنگ کے سرا پہ’’اخرج یا مولانا‘‘پکار تے رہتے ہیں ۔لیکن ناکامی کے سوا اور کیا ہاتھ آ سکتا ہے ۔ اس قسم کی غیر معقول حرکت کے سبب یہ انسانوں کے لئے عار اور ہر عاقل کے لئے مسخرہ بنے ہوئے ہیں ۔

مہدی سے متعلق روایتوں کی کثرت ہے ۔اہل علم نے اس سے متعلق کتابیں تصنیف کی ہیں۔علماء کی ایک جماعت اس کے متواتر ہونے کے قائل ہیں اور انہیں کے بموجب اہل سنت والجماعت کا عقید ہے ۔

ذخیرہ احادیث سے مہدی سے متعلق چند روایت درج ذیل میں ذکر کی جا رہیں ہیں :

۱۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ «مِنْ أَهْلِ بَيْتِي» يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمُ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا، وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا»(سنن ابي داود: 4282)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اگر دنیا کے فنا ہونے میں ایک دن بھی باقی ہو تو اللہ تعالی اس دن کو لمبا کردے گا حتی کہ اللہ اس میں ایک آدمی کو اٹھائے گا جو مجھ سے ہوگا یا میرے اہل بیت سے ہوگا اس کا نام میرے نام اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے جیسا ہوگا ۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جیسے کہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی ہوگی ‘‘۔

۲۔ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَهْدِيُّ مِنِّي، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، أَقْنَى الْأَنْفِ، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ»(سنن ابي داود:4285)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مہدی مجھ سے ہوگا اس کی پیشانی فراخ اور ناک بلند ہوگی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے کہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوگی اور وہ سات سال سے حکومت کرے گا‘‘۔

۳۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي، مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ»(سنن ابي داود : 4284)ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا :’’مہدی میری نسل یعنی فاطمہ کی اولاد سے ہوگا‘‘۔

4۔ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَتَذَاكَرْنَا الْمَهْدِيَّ، فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمَهْدِيُّ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ»(سنن ابن ماجه: 4086) سنن ابن ماجہ کی روایت میں سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے تو ہم نے مہدی کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہتےہوئے سنا کہ: ’’مہدی فاطمہ کی اولاد سے ہوگا‘‘۔

احادیث سے ثابت شدہ حقائق کے باوجود وقفہ وقفہ سے کوئی نہ کوئی مہدی ہونے کا دعوی کرتاہے اور کمزور عقیدہ و ایمان والے مسلمان کے لئے مصیبت بنتا ہے ۔

موجودہ وقت میں مہدی ہونے کا مدعی ہے وہ عثمان پور ‘دربھنگہ‘ بہار سے تعلق رکھنے والا شکیل بن حنیف ہے۔اپنے علاقہ میں عصری تعلیم حاصل کرنے کے بعد دہلی کارخ کیا اوریہیں سے اپنی سرگرمیوں کاآغاز کیا ۔ خود کومسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ۔بے علم اور نادان لوگ اس کے بہکاوے میں آکر اس کے مرید ہو گئے۔جب لوگوں پہ اس کی حقیقت کھل گئی تو اس نے اپنا مسکن تبدیل کیا لیکن اپنے باطل عقائد ونظریات کی تبلیغ کرتا رہا جس کی وجہ سے اس کے مریدوں اور بیعت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ایک اندازہ کے مطابق ان کی مجموعی تعداد دس ہزار ہے ۔ فی الحال وہ مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد کے قریب سکونت اختیار کیے ہوا ہے ۔ٍ

اوپر ذکر کئے روایتوں سے مہدی سے متعلق جو حقیقت سامنے آتی ہے کہ مہدی کا ظہور آخری زمانے میں ہوگا ۔ ان کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا ۔ان کا تعلق آل بیت سے ہوگا ۔ ان کی وجہ سے دنیا میں عدل و انصاف کا قیام ہوگا ۔ ان کی پیشانی فراخ اور ناک بلند ہوگی۔ دنیا میں ان کا قیام سات سال تک رہے گا۔

مذکورہ حقائق کی روشنی میں ادنی شعور رکھنے والا شخص آسانی سے اپنے آپ کو مہدی کہنے والے شخص کی حقیقت جان سکتا ہے ۔

کیونکہ یہ نہ تو وہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل سےہے اور نہ ہی نام ونسب میں مہدی سے کوئی مماثلت ہے ، یہ عجمی ہے جبکہ مہدی عربی ہوں گے ۔مہدی کا ظہور مکہ میں ہوگا اور پھر ملک شام چلے جائیں گےجبکہ یہ بدبخت ہندوستان سے باہر نہیں گیا۔ مہدی کی مدتِ بقاء سات سال بتائی گئی ہے جبکہ یہ دو ہزار چار سے موجود ہے ۔مہدی کے ظہور سے زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی اور اس مزعوم مہدی کو نہ تو حکومت ملی ہے اور نہ ہی عدل وا نصاف کا قیام ہوا ہے اور نہ ہی دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ بلکہ دنیا میں ظلم و ستم میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔

لہذا ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے ۔ اہل علم سے جڑے رہنا چاہیے ۔ کسی بھی قسم کے فتنہ کے ظہور کے وقت جماعت کو لازم پکڑنا چاہیے اور علم میں مضبوط افراد سے رجوع کرکے فتنہ کی حقیقت جاننے کی فکر کرناچاہیے۔

اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فر مائے اور ہر قسم کی فتنوں سے ہمیں محفوظ رکھے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے