محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ قاتل ٹیکنالوجی، عاشق سربراہ 
اس ملک میں جتنی الیکٹرانک ڈیوائس تھیں، سب پھٹ پڑیں۔ جس کی وجہ سے کروڑوں کی تعداد میں لوگ مارے گئے۔
ساری دنیا کی عوام پریشان ہوکر رہ گئی۔ یہ کون سی بلاآخر ایجاد ہوگئی۔ ایسا کیسے ہوگیا لیکن جب پتہ چلاکہ ایک انسان دشمن ملک نے ایسا کیاہے تو عوا م اس ملک کے خلاف سڑکوں پراُترآئی۔ دوسری جانب مختلف ملکوں کے برسراقتدار چنندہ افراد کوایک دوگھنٹے ہی حیرانی کے عمل سے گزرنا پڑا۔ پھر تو ان کے ہونٹوں پرشیطانی مسکراہٹ آگئی اور وہ اس قاتل ٹیکنالوجی کو خریدنے کے لئے انسان دشمن ملک کے سربراہ کو فون پرفون کئے جارہے تھے۔اوراُدھر وہ سربراہ بات چیت میں مصروف تھا۔ کروڑہا ارب ڈالر کی ڈیلنگ اتنی آسانی سے نہیں ہوسکتی تھی نا۔
ا س نے دودن بعد قاتل ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھنے والے پوری دنیا کے سربراہوں کواپنے ہاں مدعو کیاہے ، مجھے مدعو نہیں کیاگیا لیکن اس کے باوجود بھی میں جاؤں گا، دیکھ لینا۔ کیوں میںملک الموت ہوں ، مجھے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔
۲۔ عزت نہیں ہے 
کچرے دان نے شکایت کردی ۔ کہاکہ ’’مجھے دھویابھی نہیں جاتا، پونچھابھی نہیںماراجاتا۔ ایسے ہی گنداپڑارہتاہوں ۔ واجد کے روم کاکچرادان بھی مجھ سے کہہ رہاتھاکہ ہم دونوں کی اس گھر میں کوئی عزت ہی نہیں ہے‘‘
میری نظر اپنے پلنگ کی دونوں جانب کی دیواروں اور دونوں الماریوں کی طرف چلی گئی۔ مجھے یقین تھاکہ وہ بھی شکایت کرنے لگیں گے کہ انہیں بھی کوئی صاف ستھرا نہیں رکھتا۔ میں گھبراکر فوراً کمرے سے باہر نکل آیا۔
۳۔ کودپھاند 
میرے ضمیر نے مجھ پر غصہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’اگر صلہ نہیں ملتاتو لکھنا نہیں چاہیے‘‘میں نے کہا’’یار تم بھی کیسی باتیں کررہے ہو، کل تک تم مجھے سمجھایاکرتے تھے اور آج ‘‘میرے ضمیرنے میری بات کاٹتے ہوئے کہا’’ ہاں، وہ کل کی بات تھی۔ اب میں تمہارے ساتھ رہتے رہتے تنگ آگیاہوں بلکہ بگڑگیاہوں ، ایک کام کروتم جو چیز تمہیں بوجھ لگے وہ چھوڑ دو اور وہ کام کرو جو تمہیں اچھالگے ، چاہے وہ کام غلط ہی کیوں نہ ہو‘‘
میں حیرت زدہ سا اپنے ضمیرکی کود پھاند کو دیکھ رہاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے