محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک ۔
۱۔ لاحول نہیں 
کوئی دینی پروگرام تھا۔ ایک خوبصورت برقعہ پوش خاتون بھی شہ نشین پربیٹھی ہوئی تھیں۔ انھوں نے چہر ہ کھلارکھاتھا۔ وہ تقریب سے چلاآیا۔
اس کو لگ رہاتھاکہ وہ کچھ اور دیرتک ا س تقریب میں بیٹھارہے گاتو اسکے حسن ، اس کی پاکیزہ اورروشن اداؤں میں گرفتار ہوجائے گا۔ اس نے چاہتے ہوئے بھی اس خوبصورت برقعہ پوش چہرے پر ’’لاحول‘‘ نہیں بھیج سکاتھا۔اس لئے اپنے دل کی مائل ہوتی کیفیت پرقابوپانے کے لئے وہاں سے چلاآیاتھا۔
۲۔ سماجی محاذ
اس قوم کے نوجوان کاروبار میں اپنی اچھی پرفارمنس بتارہے تھے۔البتہ سرکاری نوکریوں سے عاری کچی نسل سوشیل میڈیا کی رنگین اور خواب آور دنیا میں دھوم مچا رہی تھی اورسوشیل میڈیا کے بیانر تلے جھوم رہی تھی۔
نتیجتاً اس قوم کے بزرگوں ہی کو مساجد کے ساتھ ساتھ سماجی ، ثقافتی اور ادبی محاذکو سنبھالناتھا۔ وہ اپنی نئی نسل کافریضہ خود انجام دے رہے تھے۔
۳۔ اہل ِ بے یقیں 
ننگے لوگوں کواندازہ تھاکہ ہماری کوشش جاری رہی تودنیا کے حمام میں ایک دن سبھی ننگے ہوجائیں گے ۔ مشرکین کویقین تھاکہ وہ دن ضرور آئے گاجب ہم اپنے بتوں کا پرچم بلندکرسکیں گے۔ اسی طرح منافقین  اپنے مقصد کو لے کر کبھی ناامید نہیںہوئے۔
پریشانی صرف اہل ِ ایمان سے تھی ۔ وہ سوچتے تھے کہ خدا اپناوعدہ پوراکرے گایانہیں ؟ اگر کرے گاتو ہمارے بچوں کے دور میں کرے گایاہماری آنکھیں بند ہونے سے پہلے کرے گا؟ اگر ہم دنیامیں نہ ہوں اور توحیدکاپرچم ساری دنیا میں بلند ہوجائے تو ہماری آنکھیں وہ منظر نہیں دیکھ سکیں گی نا ؟اللہ تعالیٰ ایسا کیوں چاہتاہے ؟ جو کچھ ہوہمارے سامنے ہو۔
گول میز کانفرنس میں یہی بات صیہونی تنظیم کے سربراہ نے کہی اور صاف طورپر کہہ دیاکہ ’’ہمارامقابلہ ایک اللہ پر ایمان رکھنے والی بے یقین عرب اقوام سے ہے۔ پوری دنیامیںیہ یاان ہی کی طرح کی دوسری اقوام جہاں کہیں ہوں انھیں چن چن کر قتل کرناہی ہمار افریضہ ہے،ہم دراصل ان ہی کے خدائے واحد کی جانب سے ان کی سرکوبی کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ آپ لوگ بھی سرکی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہے ہوں گے ‘‘ کانفرنس کے تمام مندوبین اثبات میںسر ہلاتے نظر آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے