ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی بارہ بنکی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلسطین کو تباہ کرنے کے بعد اب لبنان کا نمبر؟

 

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ کا آغاز ہوگیا ہے جسکے نتیجے میں حسب اللّہ کے چیف سید حسن نصرالّه اُنکے بھائ اور اُنکی بیٹی فلسطین کو آزاد کرانے  کی مہم میں شہید ہوگئے، اسرائیل نے بیروت پر رُک رُک کر خوفناک فضائی بمباری کی تھی جس میں5000 پاؤنڈ کے تقریباً 88 بنکر بموں کا استعمال کیا گیا، غزہ میں بھی انہی بنكر بموں کا استعمال ہوا تھا لیکِن وہ بم 2000 پاؤنڈ کے تھے جو ابھی تک غزہ پر گرائے جارہے تھے اِن بموں کو کسی بھی شہر یا آبادی میں گرانے پر پابندی عائد ہے لیکِن امریکا کی پشت پناہی حاصل ہونے کے سبب اسرائیل کِسی پابندی کو نہیں مانتا یہاں تک وہ اقوامِ متحدہ کی بات کو بھی سیریس نہیں لیتا اور نہ ہی اقوامِ متحدہ کی کوئی بات سنتا ہے وہ اسے بالکل نظر انداز کر دیتا ہے اسرائیل کی اِس بمباری نے خطّے کو عالمی جنگ کے دروازے پر لاکھڑا کیا ہے اور  اس علاقے کو پوری طرح سے جنگ کی طرف ڈھکیل دیا ہے یہ لڑائی اب وہاں پہونچ گئی ہے جہاں سے واپس لوٹنا ناممکن ہے اِس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ اُسکا اگلا نشانہ ایران ہوگا کیوں کہ ایک ایران ہی ایسا مُلک ہے جو فلسطین کی آزادی کے لئے کھل کر بول بھی رہا ہے اور مزاحمت کاروں کی امداد بھی کر رہا ہے جو اسرائیل کو ناگوار ہے خاموش رہنے والے تمام ممالک فلسطینی لاشوں کی قیمت کے عوض میں ملائی کھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ صیہونی طاقتیں ایران کو گھیرنے میں لگی ہوئی ہیں لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہیں صیہونیت یھودیوں کی وہ قومی تحریک و تنظیم ہے جو یھودیوں کو دوبارہ مکمّل اسرائیل کو بسانے کے لئے پرعزم ہے یعنی کنعان سے لیکر بیت المقدس اور پورے فلسطین پر مشتمل مُلک ہے جو اسکے قیام کی حمایت کرتی ہے جدید صیہونیت انیسویں صدی کے اواخر میں وسطیٰ اور مشرقی یوروپ میں ایک یہودی قومی احیاء کی تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھی، اِسکے رُکن اور مغربی طاقتیں دونوں مل کر دو دہائی سے زیادہ کا وقفہ گزرنے کے باوجود بھی ایران کو کمزور بنانے کے لئے اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا مغربی ممالک اور اسرائیل کبھی کِسی مُسلم ملک کو ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتے ہیں آپ انکی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں وہ لیبیا ہو یا عراق کرنل قذافی ہوں یا صدام حسین سب پر جنگ اِسی لئے مسلّط کی گئی کیونکہ وہ ترقّی کر رہے تھے اب ایران کا نمبر ہے بائیڈن کے امریکی صدر رہتے ہوئے ہی ایران اور یمن پر اسرائیل حملا ور ہوگا روس نے بھی اِس طرح کے خدشات ظاہر کیئے ہیں دُنیا بھرکے لیڈران نے اسرائیل کو جنگ سے دور رہنے اسے روکنے اور منع کرنے کی بھرپور کوششیں کیں لیکِن سب بے سود رہا اُس نے کِسی کی بھی نہیں سنی اُس نے تقریباً دُنیا کے سبھی ملکوں کو ٹھینگا دکھا دِیا اُسکے پروپیگنڈہ وار کے نتیجے میں آج دنیا بھر کے مُسلمان مارے جا رہے ہیں کوئی بھی داڑھی اور ٹوپی والا انسان محفوظ نہیں ہے وہ چاہے کسی بھی خطہ کا باشندہ کیوں نہ ہو۔ اسرائیل ایک ایسی شیطانی طاقت ہے جِس سے محفوظ رہنا دشوار کن ہے اِسکا ثبوت فلسطین کا غزہ، ویسٹ بینک اور لبنان کا علاقہ اور وہاں کے مظلوم عوام ہیں جسے گاجر ، مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے جسے بےحس مُسلم حکمراں جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں اسکے دو مقصد ہو سکتے ہیں پہلا یہ کہ اُنہیں کوئی لالچ دی گئی ہو یا دوسرا اُنہیں دھمکایا گیا ہو دونوں ہی صورتیں اچھی تصویر مرتّب نہیں کرتیں انسان جب بھی لالچ میں آتا ہے تو اُسکا دماغ ایک عجیب کیمیکل پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہوتا ہے جو حساب کتاب کی صلاحیتیں تباہ کر دیتا ہے اور اِس طرح وہ غلط فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لالچ میں لوگ اپنی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں بس وہیں سے وہ بے حقیقت ہو کر رہ جاتے ہیں اور یہی چیز ایک دن اُنہیں لالچی فیصلے کرنے کے لئے آمادہ کر لیتی ہے جو کبھی سچ نہیں ہوتے وہیں یہ دُوسرے قِسم کے لوگ جنہیں ہم ڈرپوک کہتے ہیں وہ ہمیشہ خوف میں زِندگی گزارتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں اُنکا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا وہ ہمیشہ ڈر کے سائے میں بیٹھ کر زندگی بسر کرتے ہیں۔اُنکی خود کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی وہ دوسروں کے زیرِ سایہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔اُنہیں نہ کبھی اپنی طاقت کا علم ہوتا ہے اور نہ اسکا احساس۔ حسن نصرالله کو مار کر اسرائیل نے کوئی ایوارڈ حاصل نہیں کیا ہے بلکہ صِرف غزہ اور فلسطین پر جو نگاہیں لگی ہوئی تھیں اُنہیں وہاں سے منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے فلسطین سے لوگوں کا دھیان ہٹایا گیا ہے کل اسمٰعیل ہانیہ کا نمبر تھا آج نصراللہ کا ہے آنے والے کل میں کوئی اور ہوگا یہ سلسلہ چلتا رہے گا حضرت علی علیہ السّلام سے جو قربانی کا سلسلہ شروع ہوا تھا وہ حسن اور حسین سے ہوتا ہوا اسمٰعیل ہانیہ اور سیّد نصراللہ تک آیا ہے لیکن ابھی یہ ختم نہ ہوگا بلکہ اور آگے بھی اِن شہادتوں کا سلسلہ جاری رہیگا ایران کی خاموشی کی بھی ایک وجہ ہے رفع بارڈر پر 18٫00000 (اٹھارہ لاکھ)فلسطینی يتیم بچّے اور خواتین پھسے ہوئے ہیں ہیں اگر ایران نے اسرائیل پر کوئی ایکشن لیا تُو اسرائیل اِن بچو اور عورتوں کو قتل کردیگا جِس وجہ سے ایران خاموش ہے اُسے اِن فلسطینیوں کی پرواہ ہے انکے مارے جانے کا پورا خدشہ ہے اِس لئے ایران کا چُپ رہنا لازمی ہوگیا ہے  فلسطین کی آزادی کے لئے قُربانیاں ضروری ہیں بغیر قربانیوں کے کوئی بھی چیز اگر حاصل ہو بھی جاتی ہےتو اُسکی قیمت کم ہوجاتی ہے وہیں اگر اُسی چیز کی قیمت اپنی اور اپنی اولادوں کی جانیں دیکر ادا کی گئی ہو تو اُسکی قیمت کا اندازہ آپ خود ہی لگا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے