مولانا ،اے ،کے ،رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا کسیا،کشی نگر،یوپی
مکرمی ! آج دس سال سے اکثریتی فرقہ میں مذہبی جلوس کا رواج برسات کی طرح بڑھتا جارہاہے، وہیں جلوس اس سے پہلے بھی نکلا کرتے تھے ،مگر اس میں امن وشانتی، مذہبی رواداری،مذہبی بھجن اور گیت کا رواج تھا جو اسلحوں سے خالی ہوا کرتا تھا،مگر آج اس کی حیثیت بدل چکی ہے،کچھ متشدد برادران وطن نے اس کو فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے ،جبکہ ہماری موجودہ سرکارکااعلان ہے کہ اس قسم کی جلوسوں میں کو ئی نیا رواج نہ ڈالا جائے،مگر یہ حکم صرف اقلیتی طبقہ پرنافذ ہے، جبکہ اکثریتی طبقہ اپنے آپ کو اس سے بالا تر سمجھتا ہے اور شتر بے مہار کی طرح غنڈہ گردی پر آمادہ نظر آتا ہے،دیکھنے میں آرہاہے کہ ’’مورتی وسرجن‘‘ ایک ایسے جلوس کی شکل اختیار کرچکا ہے جولا ٹھی ڈنڈوں اور تلواروں سے لیس ہوتا ہے جس میں جاہل طبقہ کے نوجوان زیادہ شامل ہوتے ہیں ،توان مذہبی جلوسوں میں ہتھیار لیکر چلنا ’’چہ معنیٰ دارد‘‘؟ اور ہتھیار لہرانے کی کہاں ہے اجازت؟۔
میں نے عہد طفولیت میںایک قصہ سنا تھا کہ ایک بڑھیا بازار سے لوٹ رہی تھی اس کا کچھ پیسہ راستہ میں گرگیا جس کو وہ بیتابی سے تلاش کرنے لگی، گذرتے ہوئے راہگیروں نے بھی تلاش کرنے میں اس کی مدد کی مگر نہ مل سکا تو کسی ایک نے اس بڑھیا سے پوچھا کہ تیرا وہ پیسہ کہاں گرا تھا تو اس نے ایک اندھیری جگہ کی طرف اشارہ کیا تولوگ ہنسنے لگے اور کہاکہ یہاں کیوں تلاش کررہی ہو تو اس نے جواب دیا کہ یہاں روشنی ہے،بعینہٖ یہی صورت حال آج ہمارے ملک کے انتظامیہ اور میڈیا کا ہے کہ جب کوئی افسوسناک حادثہ پیش آجاتا ہے تو حکومت ومیڈیا کی ساری توانائی اس پر صرف کردی جاتی ہے اور پس منظر کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
آج بہرائچ فساد کو اس عینک سے دیکھا جائے تو بہت سے سوالات ابھر کر آتے ہیں:
(۱) ’’مورتی وسرجن‘‘ کوغیرمسلحہ کیوں نہیں رکھا جاتا؟ سارے مورتیوں کو اکٹھا کرکے ایک ساتھ کیوں وسرجن کیا جاتا ہے؟ ماضی کی طرح انفرادی ’’مورتی وسرجن ‘‘کیوں نہیں کیا جاتا؟
(۲) حساس علاقوں سے مورتی وسرجن کو گذرنے کے لئے حساس فورس کیوں نہیں؟ مذہبی مقامات پر ٹھہر کرہنگامہ برپا کرنا کیوں؟
(۳) آج ان مذہبی جلوسوں کے ذریعہ اقلیتی فرقہ کو مجروح کرنے اور اکسانے کے لئے غیر قانونی وغیر اخلاقی و غیر مہذب گانے بجاتے و مغلاظات بکتے رہے جب اس سے بھی اقلیتی فرقہ طیش میں نہیں آتا تو گھر میں گھس کراس کے مذہبی جھنڈے کو اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ بھگوا جھنڈا لہرا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ چھت کی ریلنگ توڑ دی جاتی ہے، اس کی اجازت کس نے دی؟پھر اس کے بعد رام گوپال مشرا پر گولی چلی جس سے اس کی موت ہوگئی، اس حادثے پر سب کو افسوس ہے ،مگر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہوتا ہے اور وہاںتوڑ پھوڑ کرتا ہے اور سامنے سڑک پرجم غفیر مع اسلحہ نعرہ بازی کررہا ہے تو کیا اس کو اپنے دفاع کا حق نہیں؟ اگر اس قسم کا واقعہ کسی اکثریتی فرقہ کے فرد نے انجام دیا ہوتا تو کیا ردِ عمل ہوتا؟ تو اس وقت ہماری حکومت اور میڈیا کو سانپ سونگھ گیا ہوتا۔
(۴) عام طور پر مذہبی جلسوں میں اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں تو سب سے پہلے منتظم کومورد الزام ٹھہرا کر گرفتار کیا جاتا ہے اور اس سے باز پرس کی جاتی ہے مگر ابھی تک اس مورتی وسرجن کی اصل ذمہ دار سے باز پرس نہیں ہوئی وہ آزاد گھوم رہا ہے اور ابھی تک پولیس اس تک نھیں پہنچ سکی ،کیوں کہ اصل ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنکی پہلے سے پلاننگ تھی کہ جلوس کے آڑ میں یہ گھناؤنی حرکت انجام دی دجائے گی مگر آج وہ گرفت سے باہر ہیں؟
(۵) اس میں کوئی شک نہیں کہ قاتل نے اپنی اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کے لئے گولی چلائی جس سے وہ زخمی ہوگیا اور اسی حالت میں اسپتال داخل کیاگیا، جہاں اس کی موت ہوگئی، مگر میڈیا نے اس واقعہ کو توڑ مڑور کر اور نمک مرچ لگا کر اتنا زہریلہ بنادیا ؟جب کہ پولیس رپورٹ کے مطابق اس کو گولی لگی وہ زخمی حالت میں اسپتال لا یا گیا اور دوران علاج اس کی موت ہوگئی، نہ تو اس کے جسم کو زد و کوپ کیا گیا اور نہ ہاتھ پاؤں کے ناخن اکھاڑے گئے، سب کچھ میڈیا کی کی زہر افسانی ہے ان چینلوں نے جلتے ہوئے بہرائچ پر گھی کا کام کیا اوربرادران وطن کوایسا ورغلایا وہ پاگل ہوکر سیکڑوں دکانوں اور گھروں کو نذر آتش کردیا مگر افسوس یہ ہے کہ جن لوگوں نے دوکانوں و مکانوں کو خاکستر کیا وہ آج بھی گرفت سے باہر ہیں؟فوری طور پر انکی گرفتاری ہونی چاہئے اور ان کے خلاف قتل وآگ زنی کا مقدمہ قائم ہونا چاہئے، تاکہ آئندہ اس قسم کے حرکت سے باز رہیں۔
اگر جلوس کے ساتھ فورس تھی تو اس نے اپنا کردار کیوں نہیں ادا کیا؟ کیوں تماشائی بنی رہی؟
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتظامیہ اور حکومت کی ملی جلی شازش کا نتیجہ ہے؟
میڈیا کا کردار بڑاہی گھناؤنا رہا ہے اس لئے اس کے خلاف ایف،آر،آئی درج کرنا ضروری ہے اگر حکومت یہ کارروائی نہیں کرتی ہے تو مقامی مسلم تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ ان چینلوں کے خلاف ایکشن لے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں تاکہ آئندہ اس قسم کی ناگفتہ بہٖ حالات نہ پیش آسکیں؟
