از قلم : مجاہد عالم ندوی

استاد : الفیض ماڈل اکیڈمی بابوآن بسمتیہ ارریہ بہار

عید الاضحیٰ اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم الشان مذہبی اور روحانی تہوار ہے ، جو محض خوشی و مسرت کا دن نہیں بلکہ اطاعت الٰہی ، ایثار ، قربانی ، اخلاص ، صبر ، تقویٰ ، محبت ، بھائی چارے اور انسانیت نوازی کا عملی درس دینے والا مقدس موقع ہے ۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب پوری امت مسلمہ سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے اللہ تعالٰی کے حضور اپنی بندگی ، وفاداری اور اطاعت کا اظہار کرتی ہے ۔ عید قرباں انسان کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ اللہ کی رضا کے مقابلے میں دنیا کی کوئی خواہش ، محبت یا مفاد اہم نہیں ۔

عید الاضحیٰ کا پس منظر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی سے وابستہ ہے جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کو وفاداری ، یقین محکم اور تسلیم و رضا کا لازوال پیغام دیا ۔ ایک باپ نے اللہ کے حکم پر اپنی سب سے عزیز متاع قربان کرنے کا ارادہ کیا اور ایک فرماں بردار بیٹے نے بھی اللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ۔ یہ واقعہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ایمان ، صبر اور اطاعت کی ایسی روشن مثال ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کا درس دیتی ہے ۔

اسلام میں قربانی کا اصل مقصد محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس ، خواہشات ، غرور ، انا ، لالچ ، حسد ، نفرت اور دلوں میں چھپی برائیوں کو اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے قربان کرنا ہے ۔

قرآن کریم واضح انداز میں اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی کو نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس کے حضور انسان کا تقویٰ ، اخلاص اور نیت قبول ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عید الاضحیٰ ہمیں ظاہری عبادت کے ساتھ باطنی اصلاح ، کردار کی پاکیزگی اور اخلاقی بلندی کا درس دیتی ہے ۔

آج کے دور میں جبکہ معاشرہ نفرت ، خود غرضی ، حسد ، تعصب اور مادہ پرستی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ، عید قرباں ہمیں محبت ، رواداری ، ہمدردی اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے ۔ قربانی کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے دل سے کینہ ، دشمنی ، بغض اور تکبر کو نکال دے اور دوسروں کے لیے آسانی ، محبت اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرے ۔ اگر انسان قربانی تو کرے مگر اس کے دل میں نفرت اور بدخواہی باقی رہے تو قربانی کی اصل روح ادھوری رہ جاتی ہے ۔

عید الاضحیٰ ایثار و مساوات کا بھی عظیم مظہر ہے ۔ اسلام نے قربانی کے گوشت میں غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں ، بیواؤں ، رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کا حق مقرر کر کے انسانیت کی عظیم خدمت کا راستہ دکھایا ہے ۔ یہ تہوار ہمیں احساس دلاتا ہے کہ حقیقی خوشی صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے میں ہے ۔ یہی وہ جذبہ ہے جو معاشرے میں محبت ، اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ زندگی میں مشکلات اور آزمائشیں آئیں تو انسان کو صبر ، استقامت اور اللہ پر کامل بھروسہ قائم رکھنا چاہیے ۔ مومن کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے اور مشکلات کے باوجود حق و صداقت کے راستے پر ثابت قدم رہے ۔ یہی ایمان انسان کو مضبوط کردار ، بلند حوصلے اور عظیم مقصد عطا کرتا ہے ۔

عید الاضحیٰ کے موقع پر صفائی ستھرائی ، نظم و ضبط اور احتیاط کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے ۔ اسلام پاکیزگی ، حسن اخلاق اور ماحول کی صفائی کا درس دیتا ہے ۔ قربانی کے بعد جانوروں کی آلائشوں کو مناسب جگہ پر ٹھکانے لگانا ، گندگی سے بچنا ، عوامی مقامات اور گلی کوچوں کو صاف رکھنا اور دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بننا ہماری دینی ، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے ۔ افسوس کہ بعض مقامات پر قربانی کے بعد صفائی کا خیال نہ رکھنے سے ماحول آلودہ ہو جاتا ہے ، جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ۔ ایک باشعور مسلمان کی پہچان یہی ہے کہ وہ عبادت کے ساتھ صفائی ، نظم اور حسن معاشرت کا بھی بہترین نمونہ پیش کرے ۔

یہ مبارک تہوار امن ، محبت ، عفو و درگزر اور اخوت کو فروغ دینے کا بہترین موقع ہے ۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید الاضحیٰ کو صرف ایک رسمی تہوار کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔ ہمیں چاہیے کہ سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اپنی منفی خواہشات کو قربان کریں ، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا سہارا بنیں ، نفرتوں کو ختم کریں ، معاشرے میں محبت و رواداری کو عام کریں اور اللہ تعالٰی کی رضا کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لیں ۔

بلاشبہ عید الاضحیٰ انسانیت کے لیے ایک عظیم پیغام ہے کہ کامیابی صرف اسی میں ہے کہ انسان اللہ تعالٰی کے حکم کے سامنے جھک جائے ، اپنے کردار کو تقویٰ و اخلاص سے مزین کرے ، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اپنی زندگی کو قربانی ، خدمت خلق ، محبت اور انسانیت کے اعلیٰ اصولوں کے مطابق گزارے ۔ اگر ہم عید قرباں کے حقیقی فلسفے کو سمجھ لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ امن ، انصاف ، محبت اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے