عبدالغفار صدیقی

سوشل میڈیا پر گردش کررہی خبروں کے مطابق مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کی توثیق بعض معتبر ذرائع سے بھی ہوگئی ہے۔ دیر سے ہی سہی مگر یہ درست قدم ہے۔ میں ان تمام نوجوانوں کو مبارک باد دیتا ہوں جنھوں نے جنتر منتر دہلی اور ملک کے دیگر مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔مبارک باد ان کے والدین اور سرپرستوں کو بھی جنھوں نے اپنے بچوں کواس احتجاج اور تحریک میں شامل ہونے کی اجازت دی، ان کی ہمت بندھائی اور خطرا مول لیے۔ آج ملک کے کروڑوں انصاف پسندوں کے دل میں امید کی کرن جاگ اٹھی ہے۔ امید کی جوت ان مایوس دلوں میں بھی جگی ہے،جو یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کالی رات کا شاید سویرا نہیں ہوگا حالانکہ ہر رات کے حصہ میں آخر کار پسپائی ہے خواہ وہ اماوسیہ کی کالی رات ہی کیوں نہ ہو۔

دھرمیندر پردھان جی کو یہ قدم بہت پہلے اٹھالینا چاہئے تھا۔احتجاج سے پہلے ہی۔ اسی وقت جب پیپر لیک کے معاملہ بڑھے تھے اور نوجوان خود کشی کررہے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کی اخلاقی ساکھ قائم ہو جاتی۔ مگر اخلاق کی تو ماب لنچنگ کب کی کی جاچکی ہے۔ گزشتہ چودہ سال میں کتنے ہی آندولن ہوئے، لیکن اپنی منزل نہ پاسکے۔ کسانوں کے طویل آندولن کا نتیجہ بھی صرف اسی صورت میں نکلا تھا کہ ایم ایس پی سے متعلق بل ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا تھا۔اس ایشو پرکسی وزیر کا استعفیٰ نہیں ہوا۔نہ ہی یہ گارنٹی دی گئی تھی کہ آئندہ کبھی یہ بل نہیں آئیں گے۔ مگر اس بار سرکاری وزیر کا استعفیٰ ایک اہم قدم ہے۔ دیر سے ہی سہی اس قدم کو خوش آمدید کہنا چاہئے۔

دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سے وہ زندگیاں لوٹ کر تو نہیں آئیں گی جو پیپر لیک کے ایشو پر ہمیشہ کے لیے دنیا چھوڑ کر چلی گئی ہیں، مگر امید ہے کہ ان کی آتما کو شانتی ملے گی اور ان کے سرپرستوں اور وارثوں کے دل کو سکون پہنچے گا۔ دھرمیندر پردھان نے یہ استعفیٰ اپنی ناکامی پر نہیں دیا ہے،بلکہ احتجاج کے دباؤ میں آکر دیا ہے۔اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ سرکار انھیں کوئی دوسری وزارت دے سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بھی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔

دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد دیش کے نوجوانوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سرکار سنجیدہ ہے۔ملک کو جس طرح نفرت کی آگ میں دھکیلا جارہا ہے، جس طرح تعلیمی اداروں کو بند کیا جارہا ہے، ملک بھر میں ایک دو نہیں ہزاروں اسکول بند کردیے گئے۔ لاکھوں طلبہ نے اسکول چھوڑ دیا، جوہر یونیورسٹی بلڈوزر کے نرغہ میں ہے،اس پر عوامی فلاح کے تعلق سے سرکار کی نیت پر سوال اٹھنے لازمی ہیں۔حالانکہ ایک منتخب حکومت کا فرض ہے کہ وہ بلاتفریق سب کے لیے کام کرے۔ ملک کی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالے،عوام کے درمیان فاصلے پیدا نہ کرے، بلکہ ان میں آپسی بھائی چارہ کو فروغ دے،گڑے مردے نہ اکھاڑے بلکہ ملک کو نئی اونچائیوں پر لے جانے کی کوشش کرے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ موجودہ حکومت نعرہ تو سب کے وکاس اور سب کے وشاوس کا لگاتی ہے مگر اس کی پالیسی اور کارکردگی کچھ اور ہی بیان کرتی ہے۔ایک سیکولر ملک میں آئے دن قانون و آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔یہ ملک کے روشن مستقبل کے لیے مناسب نہیں ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ کاکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janta Party) کا آغاز مئی 2026 میں ایک طنزیہ (Satirical) آن لائن تحریک کے طور پر ہواتھا۔ اس کی بنیاد ابھی جیت دیپکے (Abhijeet Dipke) نے اس وقت رکھی جب بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں ایک متنازع عدالتی تبصرہ، جس میں انہیں ”کاکروچ” سے تشبیہ دی گئی، سوشل میڈیا پر شدید ردِّ عمل کا باعث بنا۔ اس واقعے نے پہلے میمز اور طنزیہ پوسٹوں کی شکل اختیار کی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ نوجوانوں کی ناراضی، بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور حکومتی جواب دہی کے مطالبات کی علامت بن گئی۔

ابتدا میں اس کا مقصد ایک حقیقی سیاسی جماعت بنانا نہیں تھا بلکہ طنز و مزاح کے ذریعے نظام پر تنقید کرنا تھا۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس تحریک کو غیر معمولی عوامی پذیرائی ملی، لاکھوں نوجوان اس سے وابستہ ہوئے اور اس نے احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ بعد میں یہ پلیٹ فارم تعلیمی اصلاحات، نوجوانوں کے روزگار، شفاف امتحانی نظام اور حکومتی احتساب جیسے مطالبات کا ترجمان بن گیا، جس کی وجہ سے اسے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی وسیع توجہ حاصل ہوئی۔ آج اس کی طاقت کا لوہا مانتے ہوئے محترم وزیر کو مستعفی ہونا پڑا۔ میں سمجھتا ہوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محترم سوریہ کانت بھی اس موقع پر اپنا جائزہ لیں گے اور مستقبل میں لفظوں کا استعمال تول کر کریں گے۔ اس لیے کہ کبھی کبھی ہماری زبان سے نکلے ہوا ایک لفظ ہی چنگاری بن جاتا ہے اور خرمن کو آگ لگا دیتا ہے۔

مجھے نہیں لگتا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے دباؤ میں دیے گئے یا لیے گئے دھرمیندر کے استعفیٰ سے بہت کچھ بدلنے والا ہے۔یہ استعفیٰ تو جین زی کے سیلاب کے حکومت کی دہیلیز تک پہنچنے کے بعد ہوا ہے۔ حکومت کو اندازہ ہوگیا تھا کہ نوجوانوں کو چپ نہیں کرایا جاسکتا۔انھیں ڈرا یا بھی نہیں جاسکتا، اس لیے کہ یہ نوجوان ہیں، جوانی دیوانی ہوتی ہے،اس نے کئی ہمسایہ ملکوں میں حکومت کے تختے پلٹ دیے ہیں۔ کاکروچوں کو جس طرح اپوزیشن جماعتوں اور ملک کے دانشوروں کی حمایت مل رہی تھی خود بی جے پی کے رہنما جنھیں اب مارگ درشک منڈل میں رکھا گیا ہے، شری مرلی منوہر جوشی جی نے طلبہ کی حمایت میں بیان دیا تھا۔ بیرون ملک بھی اس آواز پر لوگ کان دھرنے لگے تھے۔ اس سے بہت ممکن تھا کہ کوئی بڑا انقلاب نہ آجائے۔ اس لیے سرکار نے یہی غنیمت جانا کہ وزیر تعلیم سے استعفا لے لیا۔ چلو جس وجہ سے ہی سہی اچھا کیا۔

اس آندولن نے ثابت کردیا کہ ملک میں طلبہ ایک بڑی طاقت رکھتے ہیں۔ اب وہ بیدا ربھی ہوچکے ہیں اور منظم بھی۔وہ اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند بھی ہیں۔یہ ملک کے لیے خوش آئیند پہلو ہے۔جس ملک کا نوجوان اور طالب علم بیدار ہو جاتا ہے اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہوجاتا ہے، اس ملک کے ستارے چمکنے لگتے ہیں۔

اس آندولن نے ملک میں امید کی شمعیں روشن کی ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کو نیا حوصلہ ملا ہے۔ اب اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرے اور اسے برقرار رکھے اور ملک کو صحیح راہ دکھائے۔

اس احتجاجی تحریک سے سرکار کو بھی سبق لینا چاہئے اور اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔مندر اور مسجد عوام کے لیے ضروری ہیں مگر ان کی زندگی کا دارومدار خوش حال بھارت پر ہے۔ بیروزگاری، مہنگائی، خوف، امن و قانون کی بگڑتی صورت حال ملک کو زوال کی طرف لے جارہی ہے۔سرکار کو قطعی یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ وہ بچوں کے سامنے جھک گئی ہے یا ان سے شکست کھاگئی ہے۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں۔یہ اپنی ضد منواہی لیتے ہیں۔ یہ تو ہم بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے مطالبات پر غور کریں اور اگر وہ واقعی ملک کے لیے خیر کا باعث ہوں توان کو کھلے دل سے قبول بھی کرنا چاہئے۔کسی بھی سرکار یا ادارہ کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ انتقامی جذبہ کے ساتھ کارروائی کرے۔اس لیے جن بچوں اور افراد کے خلاف اس دوران محض احتجاج میں شرکت و تعاون کی وجہ سے ایف آر وغیرہ ہوئی ہیں،ان کو واپس لینا چاہیے اور جن کا نقصان ہوا ہے ان کی بھرپائی کی جانا چاہئے۔ نیز ہمارے وزیر اعظم کو پیپر لیک معاملہ میں جان گنوانے والوں کے لیے بھی تسلی،تشفی اور صبر کے دو لفظ ضرور بولنے چاہئیں۔ ان کے دو بول نہ جانے کتنے غم زدہ دلوں کے لیے مرہم کا کام کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے