ڈاکٹر طارق صفی الرحمن مبارکپوری
صدر جمعیت فارغین جامعات سعودیہ، ہند
ایک مدت مدید سے حوثی مملکت سعودی عرب کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، اور ایک لمبی مدت سے سعودی عرب اپنے ان چند داخلی عناصر سے فکری اور عملی طور پر نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کی سرزمین بلکہ پاک ومقدس زمین پربھی فتنہ وفساد برپا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں، آخر وجہ کیا ہے ؟ کچھ تو اسباب ہوں گے ؟ کوئی تو وجہ ہوگی؟ باقی تمام افکار وعقائد اور نظریات واختلافات سے ہٹ کر آج ہم صرف ان حوثیوں سے متعلق بات رکھیں گے جنھوں نے حالیہ دنوں میں حرمین شریفین ، مکہ مکرمہ اور مدینہ نبویہ کو اپنا جنگی ہدف اور ٹارگٹ بنایا۔تھوڑی سی تمہید کے ساتھ حقائق ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق دے کر مبعوث فرمایا تھا؛ مسلمان اس دین حق پر قائم تھے،ایک ایسا دین جو صحیح منقول اور صریح عقل کے موافق تھا۔ عہد صدیقی اور عہد فاروقی مسلمانوں کے داخلی فتنوں سے محفوظ رہا، امیر المؤمنین، خلیفۂ راشد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے داخلی فتنوں کا شکار ہو کر شہید کر دیے گئے اور یہیں سے مسلمانوں کے داخلی فتنوں اور آپسی جنگ وجدال کا سلسلہ شروع ہوا، مسلمانوں کے درمیان صفین کے مقام پر جنگ ہوئی۔ اسی دوران خوارج کا گروہ نکل آیا جس کے بارے میں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک گروہ دین سے نکل جائے گا ، اسے ان دونوں گروہوں میں سے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔”(اسے امام مسلم (1064) نے روایت کیا ہے۔) خوارج کا خروج اس وقت ہوا جب دونوں فریقوں نے حکم مقرر کیے اور لوگ باہمی اتفاق کے بغیر مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔
پھر خوارج کی بدعت کے بعد تشیع کی بدعتیں وجود میں آئیں، اور مختلف فرقوں کا ظہور مسلسل ہوتا گیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی خبر دی ہے۔ ان میں سے ایک حدیث یہ ہے: "یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔” (اسےابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے ۔)
آغاز تشیع اور حوثیت کی بنیاد:تشیع کا آغاز کوفہ سے ہوا، پھر بعد میں دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ ان کے انتہائی غالی فرقوں میں سے ایک اثنا عشریہ ہے، اور ان کے اندر بھی متعدد فرقے ہیں۔ ان میں جارودیہ بھی شامل ہیں، جو ابو الجارود زیاد بن منذر الہمدانی الاعمیٰ الکوفی کے پیروکار تھے۔ جارودیہ غالی رافضیوں میں شمار ہوتے ہیں اور موجودہ دور کے حوثی بھی اسی سلسلے کے پیروکار قرار دیے جاتے ہیں، جن کا پیشوا بدر الدین الحوثی 1345ھ میں پیدا ہوا۔ انہوں اس حوثی فرقہ نے اپنے اندر دو گمراہیوں کو یکجا کیا: جارودی مذہب اور اثنا عشری مذہب؛ پھر اس غلو کو خمینی نظریۂ ولایتِ فقیہ کے عقیدے سے مزید مکمل کیا۔جارودیہ، جو حوثیوں کے اسلاف ہیں، زیدیہ کو کافر قرار دیتے، ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے خون اور مال کو حلال سمجھتے تھے؛ کیونکہ اعتقاد، ماخذ، منہج اور سیاست کے اعتبار سے انہوں نے اثنا عشریہ ہی کا راستہ اختیار کیا۔ آج جارودیہ کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ان میں سے صرف ایک معمولی سا گروہ باقی رہ گیا ہے، جسے حوثی کہا جاتا ہے۔ جب ایران میں "ملاؤں” کی حکومت قائم ہوئی اور انہوں نے اپنے دستور میں رافضی انقلاب کو تمام اسلامی ممالک تک پہنچانے کا مقصد اختیار کیا تو یمن بھی ان کے منصوبوں اور اہداف میں شامل تھا، اور اس مقصد کو انجام دینے کے لیے انہیں حوثیوں کے سوا کوئی دوسرا گروہ مناسب نہ ملا۔
حوثی گروہ کے تین خطرناک عقائد : حوثی گروہ نے تین خطرناک عقائد کو اپنے جمع کرلیا ہے:پہلا: جارودی رافضی عقیدہ۔دوسرا: خمینی نظریۂ ولایتِ فقیہ۔تیسرا: اثنا عشریہ کا عقیدہ، جو سبئی اور صفوی نظریات کا اعتقادی اور تاریخی تسلسل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے عقائد میں یہ باتیں شامل کی جاتی ہیں کہ قرآن میں کمی واقع ہوئی اور اس میں تحریف ہوئی؛ قرآن کے بعد ان کے ائمہ پر آسمانی کتابیں نازل ہوئیں؛ ان کے ائمہ کے اقوال اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اقوال کی مانند ہیں؛ رسول اللہ ﷺ نے شریعت کا ایک حصہ چھپا کر اسے اپنے ائمہ کے پاس رکھ دیا؛ ان کے ائمہ خطا اور نسیان سے معصوم ہیں اور غیب کا علم رکھتے ہیں؛ اور وہ تمام مسلمانوں، بالخصوص رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور آپ ﷺ کی اکثر ازواج کو کافر قرار دیتے ہیں۔ان کے بڑے پیشوا بدر الدین الحوثی نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اپنے عقیدے کے متعلق کہا: میں اپنی ذات کی طرف سے ان کی تکفیر کا قائل ہوں۔وہ امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما پر زنا کی تہمت بھی لگاتے ہیں۔ حوثی جنگ کے پیچھے کار فرما منصوبہ : ان کے منصوبے کو ان کے ہاں موجود ولایتِ فقیہ کے عقیدے سے سمجھا جا سکتا ہے اور اسے وہ اپنے نام نہاد عصر ما بعد الظہور یعنی "ظہور کے بعد کے دور” کی تاریخ کو عملی صورت دینے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بعض عقائد کے مطابق ان کے فرضی مہدی کے ظہور کے بعد وہ یہ کام کرے گا:پہلا عقیدہ: فرضی مہدی ابو بکر، عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے انتقام لے گا:ان کےلیڈران اور علماء کے مطابق امت محمدیہ میں پائی جانے والی تمام برائیوں کی جڑ صحابہ کرام تھے بالخصوص نبی اکرم ﷺ کے تین ابتدائی خلفاءابو بکر وعمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اور کاتب وحی معاویہ رضی اللہ عنہ۔ ان کا لیڈر حسین الحوثی کہتا ہے: ’’اس امت میں ہونے والی ہر برائی، اس امت پر ہونے والا ہر ظلم اور امت کو پیش آنے والی ہر تکلیف کا ذمہ دار ابو بکر، عمر اور عثمان ہیں؛ خصوصاً عمر، کیونکہ وہ اس پورے عمل کا منصوبہ ساز تھا‘‘۔وہ یہ بھی کہتا ہے: ’’معاویہ عمر کی برائیوں میں سے ایک برائی ہے، ابو بکر عمر کی برائیوں میں سے ایک برائی ہے، اور عثمان بھی عمر کی برائیوں میں سے ایک برائی ہے”۔ اور کہتا ہے:”سلف صالح ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے امت کے ساتھ کھیل کھیلا، انہوں نے امت پر ظلم کی بنیاد رکھی اور امت کو تقسیم کیا‘‘۔
اس طرح کی بکواس اور بے بنیاد باتیں دراصل ان عقائد کا شاخسانہ اور ان حقد وکینہ کا زبانی اظہار ہے جن کا برملا اظہار ان کے بعض علماء نے کیا ہے کہ ان کا منتظر مہدی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو دوبارہ زندہ کرے گا، پھر انہیں کھجور کے تنے سے سولی دے گا اور ہر روز انہیں ہزار مرتبہ قتل کرے گا۔ ان کا عالم مجلسی نے اپنی کتاب "حق الیقین” میں کہا ہے: "جب مہدی ظاہر ہوگا تو وہ عائشہ کو زندہ کرے گا اور اس پر حد قائم کرے گا‘‘۔
دوسرا عقیدہ: عربوں کو بلا تفریق قتل کرنا:رافضی شیعہ کتابوں میں عرب کے خلاف بلا تفریق جنگ وجدال اور قتل وغارت گری کی بات کی گئی ہے، عربوں سے دشمنی کا برملا اظہار ہے اور اس سلسلے ائمہء آل بیت کی جانب روایات بھی منسوب کر لی گئی ہیں، چنانچہ رافضی علماء میں سے غالی رافضی عالم نعمانی اپنی کتاب "الغیبۃ” میں جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے یہ روایت بیان کرتا ہے کہ انہوں نے کہا:”ہمارے اور عربوں کے درمیان اب صرف ذبح باقی رہ گیا ہے۔” اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان کا فرضی مہدی عربوں پر اپنی تلوار کیوں چلائے گا؟ انہیں قتل کیوں کرے گا؟ ان کی گردنوں کو تن سے جدا کیوں کرے گا؟ کیا رسول اللہ ﷺ عربی نہیں تھے؟ اور کیا گہوارہ اسلام مکہ ومدینہ عرب کی زمین نہیں ہے؟ کیا حرمین شریفین مقدس ومکرم نہیں ہے؟ کیا علی اور ان کی اولاد عرب نہیں تھے؟ کیا ان کا مبینہ مہدی بھی عربی النسل نہیں ہوگا؟ یا اس لیے کہ ان کے عقیدے کا موجد سبائی تھا؟
ایران کی خمینی حکومت کی عراقی عوام کے خلاف جنگ، جس میں شیعہ اور سنی کے درمیان بھی کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا، اس اصول کے نفاذ کی ایک ابتدا قرار دی جاتی ہے، اور وہ اصول عربوں کا عمومی قتل ہے۔ اور عرب ممالک میں ہورہے صفوی فسادات اور قتل عام کا سبب بھی یہی خونخوار عقیدہ ہے ۔
تیسرا عقیدہ: صفا اور مروہ کے درمیان حجاجِ کرام کوقتل کرنا:رافضی شیعہ کتابوں میں صفا اور مروہ کے درمیان حجاج کرام کو قتل کرنے کا عقیدہ بھی پایا جاتا ہے اور اس سلسلے ائمہء آل بیت میں سے صادق کی جانب جھوٹی روایت منسوب کر تے ہوئے رافضی عالم مجلسی نے اپنی کتاب بحار الأنوار میں لکھتا ہے:گویا میں حمران بن اعین اور میسر بن عبدالعزیز کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان اپنی تلواروں سے لوگوں کو مار رہے ہیں‘‘۔ولایت فقیہ (یعنی شیعہ فقیہ ان کے امام غائب کا نائب ہے) کا ایجاد کردہ عقیدہ جو رافضیوں کے امام خمینی کا نظریہ تھا، اس نے اپنے اس خواب کو مکہ مکرمہ کے حرم میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ چنانچہ اس کے پیروکاروں نے مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر اور حدود حرم جیسی پاک زمین میں اس مجوسی خواب کو عملی جامہ پہنانے کی متعدد کوششیں کیں۔
ایام حج میں حجاج کرام کو قتل کرنے کے لئے تین ذی الحجہ 1406 ہجری کو انہوں نے جدہ کے شاہ عبدالعزیز ہوائی اڈے کے ذریعے اکیاون کلو گرام دھماکا خیز مواد اسمگل کرنے کی کوشش کی،مقصد اسے حرمین شریفین اور مقدس مشاعر میں استعمال کرنا تھا۔پانچ ذی الحجہ 1407 ہجری کو انہوں نے چاقو اٹھا کر جلوس نکالے اور حجاج اور عام شہریوں کو دھکے دیے، جس کے نتیجے میں بدامنی پھیلی اور 402 افراد ہلاک ہوئے۔چھ ذی الحجہ 1409 ہجری کو انہوں نے دو دھماکے کیے؛ پہلا مسجد حرام کی طرف جانے والی سڑکوں میں سے ایک پر، اور دوسرا مسجد حرام کے قریب واقع پل کے اوپر کیا گیا۔اورقریب کے سالوں میں تقریبا دس سال قبل 26 محرم 1438 ہجری (2017) کو حوثیوں نے مکہ مکرمہ کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے مکہ مکرمہ پہنچنے سے 65 کلومیٹر پہلے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔
اور حالیہ دنوں میں پھر یہ مسئلہ عالمی توجہ کا مرکزبنا ہوا ۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق 15 ستمبر 2026 کو حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ کی جانب ایک ڈرون بھیجا گیا جسے مکہ مکرمہ کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا۔ اور فی الحال حرمین شریفین، مکہ مکرمہ ومدینہ نبویہ کو حوثی ٹارگٹ کی وجہ سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ۔ حرمین شریفین کے ارد گرد حفاظتی انتظامات سخت کر دئے گئے اور کسی بھی قسم کی حوثی کاروائیوں کے لئے فوج کو الرٹ کر دیا گیا۔ چوتھا عقیدہ: مسجد حرام، مسجد نبوی اور حجرۂ نبوی کو منہدم کرنا:
رافضیوں کے مفسدانہ عقائد میں سے جن میں حوثی شیعہ ان کے ہم مشرب وہم عقیدہ ہیں اور جن کی تکمیل کے لئےوہ سعی نامحمود کررہے ہیں اور حالیہ جنگ اور حرمین شریفین کو ٹارگٹ کرنا اسی فاسد عقیدہ کا ایک حصہ ہے یہ بھی ہے کہ خانہ کعبہ کو ڈھا دیا جائے، مسجد حرام کو ویران کر دیا جائے اور حجرہ عائشہ یعنی حجرہ نبوی کو تہس نہس کر دیا جائے، اس سلسلے میں انہوں نے جعفر صادقؒ کی طرف یہ بات منسوب کی ہے: ’’قائم مسجد حرام کو منہدم کر دے گا، یہاں تک کہ اسے اس کی بنیادوں تک پہنچا دے گا، اور رسول اللہ ﷺ کی مسجد کو بھی اس کی بنیادوں تک پہنچا دے گا۔”(اس بات کو ان کے شیخ طوسی نے اپنی کتاب الغَیبَہ میں روایت کیا ہے۔) اسی طرح ان کے شیخ ابن رستم نے اپنی کتاب دلائل الإمامۃ میں یہ بہتان باندھا ہے کہ ان کا مبینہ مہدی کہتا ہے:”اور میں یثرب آؤں گا اور حجرے کو منہدم کر دوں گا۔”
پھر جب ان کا مبینہ مہدی اپنی مخفی جگہ سے نکلنے میں تاخیر کرنے لگا تو 317 ہجری کے حج کے موقع پر قرامطہ (شیعوں) نے خانۂ کعبہ کا دروازہ اکھاڑ لیا، غلاف کعبہ کو تار تار کیا، اور تقریباً تیس ہزار حجاج اور اہلِ بیت اللہ الحرام کو قتل کر کے ان میں سے بیشتر شہداء کی لاشوں کو زمزم کے کنویں میں ڈال کر اسے بند کردیا۔ انہوں نے حجرِ اسود تک کو اس کے مقام سے اکھاڑ لیا، جو بائیس سال تک ان کے قبضے میں رہا۔اور پھر ٹکڑوں کی شکل میں اس کے چند حصے مسلمانوں کے حوالہ کئے گئے۔اب حالیہ عرصہ میں حوثی اس عقیدہ کو عملی جامہ پہنانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض شیعہ ملا اس امید پر قائم ہیں کہ حوثی جماعت ہی ان کے مبینہ مہدی کے ظہور کے لیے راہ ہموار کرنے والی جماعت ہے۔ ایرانی ملا علی الکورانی نے اپنی کتاب عصر الظہور میں لکھتا ہے:”یمن کا اسلامی انقلاب مہدی علیہ السلام کے لیے راہ ہموار کرنے والا ہے، اور یہ تمام انقلابات میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ انقلاب ہے۔”
اور یہی وجہ ہے کہ حوثی فرقے کے ایک پیروکار نے اس فرقے کے سابق سربراہ حسین الحوثی کو مہدیِ منتظر قرار دیا ، جوکہ 2004ء میں یمنی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا تھا،اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قبر سے دوبارہ واپس آ کر اپنی جماعت کی قیادت کرے گا۔دین اور مقدسات دین سے اس فرقہ حوثی کو کتنا لگاؤ ہے اور ان کے دل میں کرنا مساجد وقرآن کا کتنا احترام ہے اس کا اندازہ المنبر الیمنی” نامی رسالہ کی رپورٹ سے ہوتا ہے ، رسالہ شعبان 1438 ہجری کے اپنے پہلے شمارے میں "الحوثیون وانتہاک المساجد” (حوثی اور مساجد کی بے حرمتی) کے عنوان کے تحت لکھتا ہے:اسّی سے زیادہ مساجد کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا گیا، ایک سو پچاس ائمہ اور خطیبوں کو اغوا کیا گیا، اور قرآنِ کریم کے سولہ مراکز اور دینی مراکز کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا‘‘۔
پانچواں عقیدہ: اسلامی دین کو منسوخ کرنا اور آلِ داؤد کی حکومت قائم کرنا:ان کے فاسد عقائد میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے فرضی مہدی کے لئے راہ ہموار کی جائے تاکہ وہ حرم مکی کے اندر رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان بیٹھ کر اسلامی شریعت کو منسوخ کر کے ایک نئی کتاب اور نئے فکر پر بیعت لے ۔رافضی عالم نعمانی اپنی کتاب "الغَیبَۃ” میں ایک روایت امام محمد بن علی بن الحسینؒ کی طرف منسوب کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے مبینہ مہدی کے بارے میں فرمایا: "خدا کی قسم! گویا میں اسے رکن اور مقام کے درمیان دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں سے ایک نئی کتاب پر بیعت لے رہا ہے، جو عربوں کے لیے سخت ہوگی۔” بلکہ شیعوں کے شیخ کبیر کلینی نے شیعوں کی مقدس کتاب "الکافی” میں یہ باب قائم کیا ہے:”اس بارے میں باب کہ ائمہ علیہم السلام کے متعلق یہ ہے کہ جب ان کا امر ظاہر ہوگا تو وہ داؤد اور آلِ داؤد کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے، اور ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی۔”
یہ ہیں شیعہ عقائد وافکار جن کی روشنی میں ایک سیدھا سادھا مسلمان بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ حوثیوں کے موجودہ جنگ کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں۔ اور وہ کیوں مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ، حرمین شریفین اور سعودی اہم تنصیبات ومراکز کو ٹارگٹ بنا رہے ہیں، آتش ولہو کے اس کھیل کے پیچھے کتنے خطرناک ارادےہیں ۔اے اللہ! تو جس طرح چاہے ہمیں ان کے شر سے محفوظ فرما، حرمین شریفین اور مقدسات اسلامیہ کی حفاظت فرما، اور دشمنوں پر اپنا خاص لشکر روانہ فرما جو ان کے وجود کو صفحہء ہستی سے مٹا دے اور انہیں نشان عبرت بنا دے۔ آمین۔
