شفیع اللہ عبد الحکیم مدنی
امیر جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ، سدھارتھ نگر
حرمین شریفین کا تقدس کسی حکومت یا خاندان کی وجہ سے نہیں، خود رب العالمین نے اسے عطا کیا ہے۔
1. حرمین کا تقدس قرآن و سنت میں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (الحج: 25)
"جو بھی حرم میں ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، کسی انسان نے حرام نہیں کیا۔ یہاں کا درخت نہ کاٹا جائے، یہاں کا شکار نہ بھگایا جائے۔ (بخاری و مسلم)
مدینہ کے بارے میں فرمایا: "مدینہ حرم ہے ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا اور میں نے مدینہ کو حرم بنایا۔”
اس لیے حرم پر حملہ صرف سعودی عرب پر حملہ نہیں، پورے اسلام کے دل پر حملہ ہے۔
2. حوثی کون ہیں؟
حوثی یمن کے صوبہ صعدہ سے تعلق رکھنے والا ایک مسلح گروہ ہے۔ ان کا تعلق زیدی شیعہ مذہب سے ہے لیکن 1990 کے بعد ان میں اثنا عشری اور خمینی انقلاب کا نظریہ داخل ہو گیا۔ ان کے لیڈر بدرالدین الحوثی اور حسین الحوثی نے "انصار اللہ” کے نام سے تحریک شروع کی۔
ان کا نعرہ ہے: "الموت لأمريكا، الموت لإسرائيل، اللعنة على اليهود، النصر للإسلام” لیکن عملی طور پر ان کی 90% جنگیں یمنی مسلمانوں، مساجد، اور آخر میں حرمین کی طرف میزائل داغنے پر ہوئیں۔
3. حوثیوں کا حرمین کی طرف رخ:
2015 سے لے کر اب تک حوثیوں نے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:
– *مکہ مکرمہ کی طرف 3 سے زیادہ بیلسٹک میزائل* داغے جن کو طائف کے قریب سعودی دفاعی نظام نے تباہ کیا۔ پہلا میزائل اکتوبر 2016 میں، دوسرا جولائی 2017 میں۔
– *مدینہ منورہ اور جدہ ایئرپورٹ کی طرف* درجنوں ڈرون اور میزائل۔
– *خانہ کعبہ کے بارے میں ان کے لیڈروں کا بیان:* حوثی رہنما محمد البخیتی نے الجزیرہ پر کہا تھا "ہم سعودی مقدسات کو سیاسی ہتھیار بنائیں گے”۔
سوچیے! وہ کعبہ جس کی طرف ہم منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں، جس کے طواف کے لیے لوگ زندگی بھر پیسہ جمع کرتے ہیں، اسی کعبہ پر میزائل داغنا کیا دین سے محبت ہے؟
اگر یہ میزائل – اللہ نہ کرے – حرم میں گرتا تو کیا ہوتا؟ لاکھوں حاجی، عمرہ کرنے والے، نمازی شہید ہو جاتے۔ اسلام کی تاریخ میں ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ کعبہ پر حملہ کیا تھا، اللہ نے ابابیل سے اسے تباہ کیا۔ آج وہی کام میزائلوں سے ہو رہا ہے۔
4. ہمارا موقف کیا ہونا چاہیے؟
– ہم یمنی عوام کے خلاف نہیں ہیں۔ یمنی مسلمان ہمارے بھائی ہیں، اہل حکمت و ایمان ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔
– ہم کسی فرقے کے عام عوام کے خلاف نفرت نہیں پھیلاتے، لیکن اس مسلح فکر کے خلاف ضرور بولتے ہیں جو قبلہ کو نشانہ بنائے۔
– حرمین کا دفاع کسی حکومت کا دفاع نہیں، یہ عقیدہ کا دفاع ہے۔ آج سعودی حکومت حرم کی خادم ہے، کل کوئی اور ہو، ہمارا وفا حرم سے ہے۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ حرمین کے تقدس کے لیے آواز بلند کرے، حوثیوں سمیت ہر اس گروہ کی مذمت کرے جو حرمین کو نشانہ بناتا ہے، اور سوشل میڈیا پر افواہوں کا حصہ بننے کے بجائے اتحاد امت اور حرمین کے امن کے لیے دعا کرے۔
حرمین محفوظ ہیں تو امت کا دل محفوظ ہے۔
