صلاح الدین لیث المدنی

مرکز الصفا الاسلامی نیپال

 

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه أجمعين۔

تمہید

ماہِ صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں عرب اس مہینے کو منحوس سمجھتے تھے۔ وہ اس مہینے میں شادی، سفر، تجارت اور دیگر اہم کاموں سے اجتناب کرتے تھے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ صفر مصیبتوں اور آفتوں کا مہینہ ہے۔ اسلام نے اس باطل عقیدے کو ختم کیا اور واضح کیا کہ کسی زمانے، دن یا مہینے میں بذاتِ خود نحوست نہیں ہوتی، بلکہ ہر خیر و شر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ﴾

"بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔” (سورۃ التوبہ: 36)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مہینے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں، لہٰذا کسی مہینے کو اپنی ذات میں منحوس قرار دینا درست نہیں۔

احادیثِ نبویہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ»

"نہ بیماری خود بخود لگتی ہے، نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ صفر (کی نحوست) ہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے جاہلیت کے تمام باطل عقائد کی نفی فرمائی، جن میں ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا بھی شامل ہے۔

"ولا صفر” کا مفہوم

علمائے کرام نے اس حدیث کی مختلف تشریحات بیان کی ہیں، جن میں راجح یہی ہے کہ:

صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا باطل ہے۔

اس مہینے میں کوئی ایسی ذاتی تاثیر نہیں جو نقصان یا مصیبت کا سبب بنے۔

نفع و نقصان صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

جاہلیت کے باطل عقائد

اہلِ جاہلیت:

صفر میں شادی نہیں کرتے تھے۔

سفر سے گریز کرتے تھے۔

تجارت شروع نہیں کرتے تھے۔

اسے مصیبتوں کا مہینہ سمجھتے تھے۔

اسلام نے ان تمام عقائد کو باطل قرار دیا۔

موجودہ دور کی غلط رسومات

آج بھی بعض معاشروں میں درج ذیل غلط عقائد پائے جاتے ہیں:

صفر کو منحوس سمجھنا۔

صفر میں نکاح نہ کرنا۔

کاروبار یا مکان کی تعمیر شروع نہ کرنا۔

آخری بدھ (چہار شنبہ) کی مخصوص عبادات کرنا۔

مخصوص کھانے، نیاز یا رسمیں ادا کرنا تاکہ نحوست دور ہو۔

یہ تمام امور قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہیں، اس لیے ان سے اجتناب ضروری ہے۔

کیا صفر میں کوئی مخصوص عبادت ہے؟

قرآن و سنت میں ماہِ صفر کے لیے:

کوئی مخصوص نماز ثابت نہیں۔

کوئی مخصوص روزہ ثابت نہیں۔

کوئی مخصوص ذکر یا وظیفہ ثابت نہیں۔

کوئی مخصوص نیاز یا صدقہ ثابت نہیں۔

البتہ عام نفلی عبادات، صدقہ، تلاوتِ قرآن اور ذکر و دعا ہر وقت مشروع ہیں۔

مسلمان کا صحیح عقیدہ

مسلمان کا ایمان یہ ہونا چاہیے کہ:

نفع و نقصان صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

کوئی دن یا مہینہ بذاتِ خود منحوس نہیں۔

بدشگونی لینا ایمان کے منافی امور میں سے ہے۔

ہر معاملے میں اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔

سلفِ صالحین کا موقف

امام نوویؒ، حافظ ابن حجرؒ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور حافظ ابن قیمؒ سمیت جمہور اہلِ علم نے واضح کیا ہے کہ ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا جاہلیت کی رسم ہے، جسے اسلام نے ختم کر دیا۔

عملی ہدایات

صفر میں شادی کرنا جائز ہے۔

سفر کرنا جائز ہے۔

کاروبار شروع کرنا جائز ہے۔

مکان بنانا جائز ہے۔

ہر جائز کام اس مہینے میں بلا جھجک کیا جا سکتا ہے۔

حاصلِ کلام

ماہِ صفر اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ بارہ مہینوں میں سے ایک عام مہینہ ہے۔ شریعت میں اس کی کوئی نحوست ثابت نہیں، نہ اس کے لیے کوئی مخصوص عبادت یا رسم مشروع ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ بدشگونی، توہمات اور بے بنیاد رسومات سے بچے، قرآن و سنت کی پیروی کرے، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا رکھے اور ہر حال میں اسی سے خیر کی امید رکھے۔

دعا:

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ عطا فرمائے، بدعات اور توہمات سے محفوظ رکھے، اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے