مغربی بنگال کے مسلم افسران کے مبینہ امتیاز، بشریٰ بانو کے تبادلے اور اصغر علی ووہرا کے معاملے سے اٹھنے والے سوالات

جاوید جمال الدین

جمہوریت میں شہری اور ریاست کے درمیان تعلق صرف حکومت کرنے اور حکومت کیے جانے کا نہیں ہوتا۔ یہ تعلق اعتماد، مساوات اور جواب دہی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ حکومت سے سوال کرے، اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت کرے اور انصاف کا مطالبہ کرے۔ اسی طرح ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکایت کو محض سیاسی اعتراض سمجھ کر نظرانداز نہ کرے، بلکہ اسے قانون اور آئین کی روشنی میں دیکھے۔

ملک کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والے چند حالیہ واقعات نے اسی بنیادی سوال کو پھر زندہ کردیا ہے۔ مغربی بنگال میں مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا معاملہ، آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کے تبادلے سے پیدا ہونے والی بحث اور میرا روڈ کے بزرگ شہری اصغر علی ووہرا کے برسوں پرانے اراضی تنازع میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ہونے والی پیش رفت—تینوں واقعات کی نوعیت الگ ہے، لیکن ان میں ایک مشترک سوال پوشیدہ ہے:

جب کسی شہری کو محسوس ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ کہاں جائے، کس سے شکایت کرے اور اپنی بات کس انداز میں رکھے؟

یہ سوال مسلمانوں کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ صرف سرکاری دعووں سے نہیں، بلکہ عملی طور پر اداروں کے رویے سے پرکھا جاتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ اصول بھی اہم ہے کہ ہر الزام کو ثبوت کے بغیر حتمی حقیقت نہ سمجھا جائے۔ جذبات اپنی جگہ، مگر انصاف کی بنیاد دستاویز اور شواہد پر ہی قائم ہوتی ہے۔

جب سرکاری عہدہ مذہبی شناخت سے ٹکرا جائے

مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مغربی بنگال کے دوروں کے دوران بعض سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا معاملہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے سامنے اٹھایا ہے۔

ان کی جانب سے بھیجے گئے خط میں تین افسران—آئی پی ایس افسر سید وقار رضا، آئی پی ایس افسر جاوید شمیم اور آئی اے ایس افسر خلیل احمد—کے بارے میں دعوے کیے گئے کہ انہیں بعض سرکاری پروگراموں سے الگ رکھا گیا یا وہاں سے جانے کو کہا گیا، جبکہ ان کی جگہ غیر مسلم افسران کو شامل کیا گیا۔

اگر یہ دعوے سرکاری ریکارڈ اور قابل اعتماد شواہد سے ثابت ہوتے ہیں تو سوال صرف تین افسران تک محدود نہیں رہے گا۔ پھر معاملہ سرکاری اداروں میں مساوات، مذہبی غیر جانب داری اور انتظامی انصاف کے اصولوں تک پہنچے گا۔

لیکن یہاں صحافت اور انصاف دونوں کا ایک بنیادی اصول یاد رکھنا ضروری ہے: الزام اور ثابت شدہ حقیقت ایک چیز نہیں ہیں۔

بی جے پی نے ان الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے اور مہوا موئترا کے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کے طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ کسی سیاسی بیان کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستاویزات، پروگراموں کے ریکارڈ، متعلقہ افسران کے بیانات اور سرکاری وضاحتوں کی روشنی میں ہی ممکن ہے۔

یہاں ایک اور باریک فرق بھی سمجھنا ہوگا۔ اگر کسی افسر کو انتظامی ضرورت، سکیورٹی یا پروٹوکول کی وجہ سے کسی پروگرام سے الگ رکھا گیا ہو تو اسے خودبخود مذہبی امتیاز قرار دینا درست نہیں۔ لیکن اگر ایک ہی نوعیت کے عہدوں پر فائز افسران کے ساتھ صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر مختلف سلوک ہوا ہو تو اس کی وضاحت اور جواب دہی ضرور ہونی چاہیے۔

یعنی اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ افسر مسلمان تھا یا غیر مسلم؛ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟

بشریٰ بانو کا معاملہ اور ٹائمنگ کا سوال

اسی بحث میں مغربی بنگال کی 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا معاملہ بھی شامل ہوگیا ہے۔

بشریٰ بانو اس سے قبل کھڑگپور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ 14 ستمبر کے سرکاری حکم کے مطابق انہیں ریاستی مسلح پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کیا گیا۔ سرکاری طور پر تبادلے کو عوامی مفاد اور انتظامی ضرورت سے تعبیر کیا گیا۔

لیکن اس سے کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ان کا ایک ویڈیو سامنے آیا جس میں انہوں نے ’السلام علیکم‘، ’ان شاء اللہ‘ اور ’جزاک اللہ‘ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ بعض دائیں بازو کے پلیٹ فارموں نے اس پر اعتراض کیا اور ایک تنظیم کی جانب سے شکایت کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔ اس کے بعد تبادلے کی ٹائمنگ نے ایک نیا سوال پیدا کیا: کیا دونوں واقعات کے درمیان کوئی تعلق تھا؟

اس سوال کا جواب محض قیاس سے نہیں دیا جاسکتا۔

تبادلے کا سرکاری حکم اپنی جگہ ایک دستاویز ہے، جبکہ اس سے قبل پیش آنے والا سوشل میڈیا تنازع اپنی جگہ ایک واقعہ۔ دونوں کے درمیان سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔

لیکن اس واقعے نے ایک اہم ادارہ جاتی سوال ضرور اٹھایا ہے: ایک سرکاری افسر کے مذہبی اظہار اور اس کی آئینی و پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے؟

وردی میں موجود افسر سے غیر جانب داری، قانون کی پابندی اور آئینی وفاداری کی توقع بالکل بجا ہے۔ مگر یہی اصول تمام افسران کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مخصوص طرزِ اظہار سروس رولز سے متصادم ہے تو اس کی واضح قانونی بنیاد ہونی چاہیے اور وہی اصول ہر افسر پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔

اس لیے بشریٰ بانو کے معاملے میں بھی بحث کو ’مسلمان افسر‘ یا ’خاتون افسر‘ کے دائرے میں محدود کرنے کے بجائے اس سوال تک لانا زیادہ مناسب ہوگا کہ کیا کارروائی مقررہ ضابطے کے مطابق ہوئی اور کیا یہی پیمانہ دوسرے افسران پر بھی لاگو ہوتا ہے؟

یہی فرق جذباتی احتجاج اور سنجیدہ شہری حقوق کی جدوجہد کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔

اصغر علی ووہرا: ایک ملاقات، ایک پرانا تعلق اور ایک نیا موڑ

دوسری طرف میرا روڈ کے 81 سالہ اصغر علی ووہرا کا معاملہ اس پوری بحث میں ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔

اصغر علی ووہرا کے مطابق وہ وزیراعظم نریندر مودی کے وڈنگر کے بی این اسکول کے زمانۂ طالب علمی کے ساتھی اور دوست رہے ہیں۔ 8 ستمبر کو انہوں نے نئی دہلی میں وزیراعظم سے ملاقات کرکے بھائیندر ایسٹ کے نوگھر علاقے میں اپنی زمین سے متعلق تقریباً 15 برس سے جاری تنازع ان کے سامنے رکھا۔

ووہرا کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 2,810 مربع میٹر زمین انہوں نے 1989 میں خریدی تھی، لیکن 2011 میں اس پر قبضے کا تنازع پیدا ہوا۔ اس معاملے میں سیون الیون کنسٹرکشنز اور بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی نریندر مہتا کا نام بھی سامنے آیا۔

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد معاملے میں انتظامی سطح پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری شریکر پردیشی کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں متعلقہ فریقوں اور حکام نے شرکت کی۔ اطلاعات کے مطابق نریندر مہتا نے زمین اور تعمیراتی اجازتوں سے متعلق اپنے دعوے سے دستبرداری اور بعض اجازتوں کو واپس لینے کی درخواست کی، جبکہ ووہرا کے خلاف پولیس شکایت واپس لینے کی بات بھی سامنے آئی۔

اگر ایک بزرگ شہری کی طویل شکایت اعلیٰ سطح پر پہنچنے کے بعد متعلقہ اداروں کی توجہ حاصل کرتی ہے تو یہ یقیناً اس بات کی مثال ہے کہ ریاستی نظام میں شکایت کو سنا جاسکتا ہے۔

لیکن اسی واقعے کے اندر ایک اور سوال بھی چھپا ہوا ہے۔

کیا ہر عام شہری کو اپنے حق کے لیے وزیراعظم سے ذاتی ملاقات یا کسی بااثر شخصیت تک رسائی کی ضرورت پڑنی چاہیے؟

اگر جواب ’نہیں‘ ہے تو پھر اصل توجہ ایسے ادارہ جاتی نظام پر ہونی چاہیے جہاں شہری کی شکایت اس کے ذاتی تعلق، سیاسی اثرورسوخ یا اعلیٰ سطح تک رسائی سے قطع نظر سنی جائے۔

یہ اصغر علی ووہرا کی ملاقات کی اہمیت کم نہیں کرتا۔ بلکہ اس واقعے سے ایک بڑا سبق سامنے آتا ہے: اعلیٰ ترین سطح پر شکایت پہنچنے کے بعد اگر انتظامیہ حرکت میں آ سکتی ہے تو عام شہری کے لیے بھی ایسا ادارہ جاتی راستہ ہونا چاہیے جو بغیر کسی شخصی رسائی کے اسی مقصد کو پورا کرسکے۔

کیا مسلمانوں کو وزیراعظم سے شکایت کرنی چاہیے؟

یہ سوال اب براہ راست مسلمانوں سے متعلق ہوجاتا ہے۔

اگر کسی مسلمان شہری کو ناانصافی کا سامنا ہو تو کیا اسے وزیراعظم سے رجوع کرنا چاہیے؟

اصولی جواب یہی ہے کہ شہری کو اپنی شکایت مناسب آئینی اور قانونی فورم تک پہنچانے کا حق ہے۔ اس کا مطلب کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں ہوتا۔

وزیراعظم حکومت کے سربراہ ہیں، وزیراعلیٰ ریاستی حکومت کے سربراہ ہیں، عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم ہیں، جبکہ مختلف کمیشن اور انتظامی ادارے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں شکایات سنتے ہیں۔

اس لیے کسی شہری کا حکومت سے انصاف مانگنا حکومت کی سیاسی حمایت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے کسی شہری کے حق میں کارروائی ہوجانے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ شہری پر حکومت کی سیاسی حمایت لازم ہوگئی۔

ریاست اور سیاست کو شہری حق سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

مسلمان اگر اپنے حقوق کے لیے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ سے رجوع کرتے ہیں تو انہیں یہ حق حاصل ہے۔ لیکن شکایت کو مضبوط بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ معاملہ پہلے مناسب انتظامی اور قانونی راستوں سے اٹھایا جائے اور ضرورت پڑنے پر اعلیٰ سطح تک پہنچایا جائے۔

ہر شکایت کو مذہبی مسئلہ بنانا بھی درست نہیں

یہاں مسلم معاشرے کے لیے خود احتسابی کی ایک گنجائش بھی موجود ہے۔

کسی مسلمان کے ساتھ ناانصافی ہو تو اس پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ لیکن ہر انتظامی فیصلہ، ہر تبادلہ، ہر سرکاری غفلت یا ہر سیاسی اختلاف کو فوراً مذہبی امتیاز قرار دینا بھی مسئلے کو کمزور کرسکتا ہے۔

کبھی وجہ انتظامی ناکامی ہوتی ہے، کبھی سیاسی مداخلت، کبھی بدعنوانی اور کبھی محض سرکاری بے حسی۔ ہر معاملے کی نوعیت الگ ہوسکتی ہے۔

اس لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلے سوال پوچھا جائے:

فیصلہ کس نے کیا؟ کس ضابطے کے تحت کیا؟ کیا اس کی تحریری وجہ موجود ہے؟ کیا یہی اصول دوسروں پر بھی لاگو ہوا؟

یہ چار سوال کسی بھی شکایت کو جذباتی بحث سے نکال کر تحقیق کے دائرے میں لے آتے ہیں۔

اگر مغربی بنگال کے افسران کے بارے میں کیے گئے دعوے درست ہیں تو ثبوت انہیں مضبوط کریں گے۔ اگر بشریٰ بانو کا تبادلہ واقعی انتظامی ضرورت کے تحت ہوا ہے تو سرکاری ریکارڈ اس کی وضاحت کرے گا۔ اور اگر اصغر علی ووہرا کی زمین کے معاملے میں ان کے قانونی حقوق متاثر ہوئے تھے تو ملکیت اور دیگر متعلقہ دستاویزات اس معاملے کی بنیاد بنیں گی۔

آج کے دور میں سب سے مضبوط ہتھیار: دستاویز

حقوق کی جدوجہد میں سب سے مؤثر چیز صرف بلند آواز نہیں بلکہ مضبوط دستاویز ہے۔

کسی سرکاری افسر کے ساتھ مبینہ امتیاز ہو تو ڈیوٹی آرڈر، پروگرام کی فہرست، سرکاری خط و کتابت اور متعلقہ احکامات محفوظ کیے جائیں۔ کسی شہری کی زمین کا مسئلہ ہو تو رجسٹری، ریونیو ریکارڈ، نقشے، ملکیت کے کاغذات، میونسپل اجازت نامے اور عدالتی دستاویزات یکجا کی جائیں۔

پھر شکایت متعلقہ ادارے کو تحریری طور پر دی جائے اور اس کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔

اس طریقۂ کار کا فائدہ یہ ہے کہ معاملہ کسی شخصیت کے بیان پر منحصر نہیں رہتا۔ حکومت بدلے، افسر بدلے، سیاسی حالات بدلیں، لیکن دستاویز اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔

یہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی شہری، خصوصاً اقلیتی طبقے کو اختیار کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ تک رسائی: آخری نہیں تو اعلیٰ سطح کا راستہ

مہوا موئترا کا اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے رجوع کرنا بھی اسی وسیع بحث کا حصہ ہے۔

انسانی حقوق کے معاملات میں بین الاقوامی اداروں تک معاملہ پہنچانا ایک معروف راستہ ہے، لیکن اسے داخلی قانونی نظام کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔ ملک کے اندر عدالتیں، کمیشن، انتظامی ادارے اور آئینی راستے موجود ہیں اور ان کا استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

کسی معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے سے پہلے بھی یہ ضروری ہے کہ اس کے حق میں قابل تصدیق شواہد موجود ہوں۔ ورنہ سیاسی الزام اور ثابت شدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے درمیان فرق دھندلا سکتا ہے۔

اسی لیے شکایت جتنی بڑی سطح پر لے جائی جائے، اس کی بنیاد اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے۔

شخصیت نہیں، ادارہ اصل مرکز ہونا چاہیے

اصغر علی ووہرا کے معاملے میں وزیراعظم سے ذاتی تعلق نے شاید شکایت کو براہ راست اعلیٰ سطح تک پہنچانے میں سہولت فراہم کی ہو۔ لیکن جمہوریت کا مثالی نظام وہ ہوگا جہاں ایک ایسے ہی تنازع میں کسی ایسے شہری کی آواز بھی سنی جائے جس کا کسی وزیر، رکن اسمبلی یا وزیراعظم سے کوئی ذاتی تعلق نہ ہو۔

اسی طرح اگر کسی مسلم افسر کے ساتھ امتیاز ہوا ہے تو انصاف اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ معاملہ میڈیا میں آگیا یا کسی سیاست دان نے اٹھایا؛ انصاف اس لیے ہونا چاہیے کہ آئین اور قانون شہریوں کو مساوی حقوق دیتے ہیں۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔

شخصی رسائی مسئلہ حل کرسکتی ہے، لیکن مضبوط ادارہ ہی مسئلے کے دوبارہ پیدا ہونے کے امکانات کم کرسکتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے آگے کا راستہ

مسلمانوں کو اپنے حقوق کے معاملے میں نہ خاموش تماشائی بننے کی ضرورت ہے اور نہ ہر واقعے پر فوری جذباتی ردعمل کی۔

ضرورت ایک ایسی حکمتِ عملی کی ہے جس میں تین چیزیں ساتھ چلیں:

حقائق، قانون اور آواز۔

حقائق کے بغیر آواز کمزور ہوسکتی ہے۔ قانون کے بغیر احتجاج محدود رہ سکتا ہے۔ اور آواز کے بغیر دستاویز بھی فائلوں میں دب سکتی ہے۔

اس لیے جہاں ناانصافی محسوس ہو وہاں سوال کیا جائے، لیکن ثبوت کے ساتھ۔ جہاں سرکاری فیصلہ مشکوک لگے وہاں اس کی تحریری وجہ طلب کی جائے۔ جہاں مقامی سطح پر شنوائی نہ ہو وہاں اعلیٰ اداروں سے رجوع کیا جائے۔ ضرورت ہو تو عدالت، کمیشن، منتخب نمائندے یا دیگر مجاز فورم استعمال کیے جائیں۔

لیکن اس پورے عمل میں ایک اصول کبھی نہ چھوٹے:

انصاف صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، سب کے لیے مانگا جائے۔

جب ایک اقلیتی شہری اپنے لیے مساوات مانگتا ہے اور ساتھ ہی دوسرے شہری کے لیے بھی وہی حق تسلیم کرتا ہے تو اس کی جدوجہد مذہبی مطالبے سے آگے بڑھ کر آئینی مطالبہ بن جاتی ہے۔

شکایت سے آگے، شہری حق تک

مغربی بنگال کے مسلم افسران کے بارے میں لگائے گئے الزامات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں مذہبی شناخت کس حد تک فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے—اور اگر کوئی الزام لگایا جائے تو اس کی غیر جانب دارانہ جانچ کیسے ہو۔

بشریٰ بانو کا معاملہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ سرکاری افسران کے خلاف انتظامی کارروائی میں ضابطوں اور یکساں معیار کی پابندی کس قدر ضروری ہے۔

اصغر علی ووہرا کا معاملہ دوسری طرف یہ دکھاتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر کسی شہری کی شکایت پہنچنے کے بعد انتظامی مشینری تیزی سے متحرک ہوسکتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی چھوڑ جاتا ہے کہ کیا عام شہری کے لیے یہی رسائی معمول کا حصہ بن سکتی ہے؟

ان تینوں واقعات کا مشترک سبق شاید یہی ہے کہ شہری حقوق کو شخصیتوں کے سہارے نہیں بلکہ اداروں کی طاقت پر کھڑا ہونا چاہیے۔

مسلمانوں کو وزیراعظم سے شکایت کرنی ہے یا وزیراعلیٰ سے، عدالت سے رجوع کرنا ہے یا کمیشن سے، رکن پارلیمنٹ کو خط لکھنا ہے یا بین الاقوامی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹانا ہے—یہ فیصلہ معاملے کی نوعیت، ثبوت اور قانونی دائرۂ اختیار کے مطابق ہونا چاہیے۔

لیکن ایک بات طے ہے:

شکایت کرنا کسی حکومت سے دشمنی نہیں، اور انصاف ملنا کسی حکومت کی سیاسی حمایت نہیں۔

جمہوریت میں حکومت شہریوں کے سوالات سے بالاتر نہیں ہوتی۔ اور شہری بھی صرف اس وقت اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرسکتا جب سیاسی ماحول اس کے حق میں ہو۔

اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ایک شہری، چاہے وہ اکثریت سے تعلق رکھتا ہو یا اقلیت سے، بااثر ہو یا بے اثر، حکومت کے سامنے اپنی بات کہہ سکتا ہے؟ کیا اس کی شکایت سنی جاتی ہے؟ کیا فیصلے کی وجہ بتائی جاتی ہے؟ اور کیا قانون سب کے لیے ایک ہی پیمانے سے نافذ ہوتا ہے؟

اگر ان سوالوں کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو جمہوری ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔

اور اگر جواب ’نہیں‘ میں ہے تو مسئلہ صرف کسی ایک فرد یا ایک طبقے کا نہیں رہتا، بلکہ پورے نظامِ انصاف کے سامنے سوال کھڑا ہوجاتا ہے۔

اسی لیے مسلمانوں کے لیے آج سب سے مؤثر راستہ نہ خاموشی ہے، نہ محض احتجاج، نہ شخصی تعلقات پر انحصار۔آئین، قانون، ثبوت، سوال اور مسلسل جدوجہد۔جیسے راستے ہیں۔

کیونکہ انصاف کسی شہری پر احسان نہیں۔ یہ اس کا حق، اور ریاست کی ذمہ داری بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے