مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں استاد کا کردار اور مقام کیا باقی رہ گیا ہے، یہ بڑا اہم سوال ہے۔ اب تو جو مطلوب ہے سب پکا پکایا، بنا بنایا اور لکھا لکھایا، سیکنڈوں میں آپ کے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل کے اسکرین پر موجود رہتا ہے۔ نہ موضوع سے متعلق مواد کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، نہ الفاظ و تراکیب کے استعمال کی حاجت ہوتی ہے۔ ایسے ایسے لوگوں کے مضامین اے آئی کے تیار کردہ شائع ہو رہے ہیں، جن میں اس مضمون اور مقالے میں استعمال الفاظ و تراکیب کے معنی کا فہم بھی نہیں ہے۔ سرکاری سطح پر اسکولوں میں اس کے ذریعہ تعلیم کے حصول پر زور دیا جا رہا ہے اور منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ دھیرے دھیرے یہ طریقہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ طلبہ اپنے دماغ کے بجائے مشینوں کے دماغ سے سوچ رہے ہیں۔ ایسے میں مستقبل میں استاد کا کردار کیا ہوگا، اس پر ابھی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور وسیع کینوس نے استاد کے کردار کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب تعلیم کا حصول اے آئی سے ہوگا، تربیت نیز سلیقہ مندی کا کام استاد کرے گا اور اے آئی کی مدد سے جو علم منتقل کیا جا رہا ہے، اس کی صحت اور غلط کی طرف نشاندہی کا کام بھی اس کے ذمہ ہوگا۔ اس سے طلبہ اور استاد دونوں کی تعلیم کے میدان میں دماغی استعمال میں کمی آئے گی اور ایک وقت وہ بھی آئے گا، جب ہم پورے طور پر مصنوعی ذہانت کے اسیر ہوں گے اور ہمارے دل و دماغ کو جس سمت لے جانا چاہے گی لے جائے گی۔ بعضوں کا خیال ہے کہ اس وقت بھی طالب علم کو سوچنا، محسوس کرنا اور خیا لات کو الفاظ کا پیرہن دینا اور اس میں فرق سمجھانا استاد کی ذمہ داری ہوگی۔ اس لیے کہ مصنوعی ذہانت معلومات دے سکتی ہے، لیکن اسے حکمت میں تبدیل کرنا، صحیح اور غلط کا فرق سمجھانا استاد ہی کے لیے ممکن ہوگا۔
گویا مستقبل میں استاد کا کردار بالکل بدل کر رہ جائے گا۔ وہ معلومات نہیں دے گا، صرف رہنمائی، تربیت، کردار سازی اور فکری و رہبری سے تعلق رکھے گا۔ درسگاہوں میں ابھی تک اساتذہ کا اصل کام معلومات کی فراہمی ہے، دیگر امور استاد کے لیے ثانوی درجے کے ہیں۔ اس لیے اعلیٰ اخلاقی اقدار کا فقدان سب جگہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں ان امور کی طرف توجہ نہ تو اساتذہ کی باقی رہے گی اور نہ گارجین حضرات کی۔ طلبہ خود کو کلاس کے ڈسپلین سے آزاد کر لیں گے اور آن لائن تعلیم کو فروغ ملے گا، جس کا مارکیٹ آج بھی کم نہیں ہے۔ آن لائن میں استاد ہی پڑھاتا ہے، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے یہ دروازہ بھی بند ہو جائے گا اور روبوٹ کام کرنے لگیں گے۔
اے آئی پر انحصار کا ایک نقصان یہ بھی ہوگا کہ اساتذہ اور طلبہ دونوں میں اپنے دماغ سے سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ جائے گی۔ جب ہر سوال کا جواب AI دے گا تو خود تحقیق، غور و فکر اور دماغ سوزی کی حاجت ہی کیا رہ جائے گی۔ طلبہ میں سستی اور کاہلی آئے گی اور نقل کا رجحان بڑھتا چلا جائے گا اور یہ اس حد تک بڑھے گا کہ بعض طلبہ ہوم ورک اور اسائنمنٹ خود تیار کرنے کے بجائے اے آئی سے تیار کروا کر پیش کر دیں گے۔ اس کا ایک برا اثر ان طلبہ پر بھی پڑے گا جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں وہ ان طلبہ سے پچھڑ جائیں گے جو AI کی مدد سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس سے تعلیمی عدم مساوات میں اضافہ ہوگا۔
جب تک یہ خدشات حقیقت میں تبدیل نہیں ہوتے، اس وقت تک اساتذہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال سکھائے۔ جو مضامین مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں، ان میں اس کا حوالہ دے کہ یہ مضمون چیٹ جی پی ٹی یا مصنوعی ذہانت کے دیگر ذرائع سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ اخلاقی ذمہ داری ہے، جو بالکل دیکھنے میں نہیں آتی۔ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مضمون کو اپنے نام سے بغیر حوالہ شائع کرنا یا اس کے مشمولات کو اپنے نام کر لینا ایک علمی بددیانتی ہے۔ استاد کو یہ اخلاقیات بچوں تک منتقل کرنا چاہیے۔ طلبہ کو یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اے آئی سے مدد لینا الگ ہے اور انہیں بعینہ اپنے نام سے نقل کر دینا بالکل دوسری چیز۔ انہیں یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ فراہم کردہ تمام اطلاعات کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس سے حاصل شدہ مواد و معلومات کی اپنے ذرائع سے تصدیق کر لینا بھی ضروری ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیت کو مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالہ کرنا قطعا دانشمندی نہیں ہے۔ اپنا شناخت نامہ اور ذاتی معلومات کو مصنوعی ذہانت تک منتقل کرنا بعد میں پریشان کن ہو سکتا ہے، اس لیے ممکنہ حد تک اس سے گریز کرنا چاہیے۔
اب تک مصنوعی ذہانت جواب دینے کا کام کرتا رہا ہے، اچھے سوال کھڑے کرنے کا کام ابھی اس نے شروع نہیں کیا ہے۔ استاد طلبہ کی تربیت اچھے سوالات کھڑے کرنے کے لیے کرے۔ اچھے سوالات ہوں گے تو مصنوعی ذہانت کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اچھے جوابات فراہم کرے۔ اچھا سوال بھی علم کا ایک باب ہے۔
اس باب میں طلبہ کی مضبوط تربیت کر سکتا ہے۔
ان معروضات کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ نہ اٹھایا جائے، خوب اٹھایا جائے، لیکن بدلے ہوئے دور میں اساتذہ اپنے نئے کردار پر پورا اترنے کے لیے محنت کریں، لائحۂ عمل بنائیں اور حدود و اصول کے ساتھ اسے طلبہ کو استعمال کرنا سکھائیں، جس سے وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بہتر طور پر برت سکیں، یہ انتہائی ضروری ہے۔
اے آئی بالذات خود نقصان دہ نہیں ہے، اس کا غلط اور ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہے، اگر اے آئی کا استعمال طلبہ، اساتذہ کی نگرانی و رہنمائی میں کریں تو یہ تعلیم میں معاون، مددگار اور مفید ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے استاد نیز کتاب کے بغیر اور اپنی محنت سے جان چھڑانے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے منفی اثرات انتہائی سنگین ہوں گے۔
