(یوم اردو کی مناسبت سے لکھی گئی خصوصی تحریر)
عبدالرحمن عمری
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
۹ نومبر اقبال ڈے کے نام سے موسوم ہے- علامہ اقبال رحمہ اللہ کی پیدائش ۹ نومبر ۱۸۷۷ کو سیالکوٹ میں ہوئی آپ نے ابتدائی تعلیم مقامی درس گاہ میں حاصل کی اس کے بعد سیالکوٹ کے سکاچ مشن کالج میں داخلہ لیا اور متعدد زبانوں میں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا-
علم کی غیر معمولی شغف اور تشنگی کے باعث علامہ نے دنیا کی معروف یونی ورسٹی کیمرج کا رخ کیا نیز جرمنی کے شہر میونخ میں واقع ایک یونی ورسٹی سے پی ایچ کی ڈگری کے لیے اپنا تحقیقی مقالہ مکمل کیا-
آپ کو مختلف یونی ورسٹیوں سے اعزازی ڈگریاں بھی عطا کی گئیں- ١٩٢٩ میں علی گڈھ مسلم یونی ورسٹی کی طرف سے ، ۱۹۳۳ میں پنجاب یونی ورسٹی کی جانب سے ، ۱۹۳۶ میں ڈھاکہ یونی ورسٹی کی جانب سے ، ۱۹۳۷ میں الہ آباد یونی ورسٹی کی جانب سے اور ۱۹۳۸ میں عثمانیہ یونی ورسٹی کی طرف سے-
علامہ اقبال رحمہ اللہ کا شاعرانہ سفر ان کے ابتدائی دور سے ملتا ہے آپ کی شاعری ادب کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے نیز پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے-
علامہ کی شاعری سعی پیہم ، حرکت وعمل اور مسلسل جدوجہد کا مطالبہ کرتی ہے اسی لیے کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے-
آپ کے کلام کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ نے ہر عمر اور ہر طبقے کے لیے اپنی نگارشات پیش کیں-
آپ کو شاعر مشرق ، ادیب اور مفکر کے طور پر پہچانا جاتا ہے- حساس دل ودماغ کے آپ مالک تھے مزید براں نور محمد کے فرزند علامہ اقبال رحمہ اللہ افکار قرآن کا عکس ، رموز خودی کے علم بردار اور دنیائے علم وادب کے امیر تھے-
علامہ اقبال ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ کو لاہور ، پاکستان میں اس جہان فانی سے دار جاودانی کو کوچ کرگئے- إنا لله وإنا إليه راجعون۔
