ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی
بارہ بنکی انڈیا
اسرائیل نے 600 ایکڑ سرکاری زمین اپنے فوجیوں کی قبریں بنانے کے لئے ایکوائر کی ہے ایسا بتایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے فوج کے اہلکاروں کی موت کا آنکڑا ہمیشہ سے وہاں کی عوام اور میڈیا سے چھپایا جاتا رہا ہے، اُس کی وجہ صِرف یہ ہے کہ عوام پینک نہ ہو اور اُس میں سرکار اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے لئے جو غصّہ ہے وہ پھوٹ کر باہر نہ نکلنے پائے کیونکہ وہاں کی سنجیدہ عوام نیتن یاہو کے کارناموں سے بہت اچھی طریقے سے واقف ہے اور وہ انہیں کی وجہ سے پہلے ہی سڑکوں پر اتری ہوئی ہے جِس سے اسرائیل میں خانہ جنگی جیسا ماحول تیار ہے اسرائیل میں پہلے سے ہی یرغمالیوں کی رہائی کرانے کو لیکر سنجیدہ عوام سرکار پر بھرپور دباؤ بنانے کے لئے یرغمالیوں کے رشتہ دار سڑکوں پر موجود ہیں اب قبرستانوں میں جگہ کم پڑ جانے کے باعث قبرستان کی تشکیل کے ٹھیکے کس طرف اشارہ کرتے ہیں؟ پِچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 40 اسرائیلی عوام اور فوج کے اہلکاروں سمیت جو لوگ اِس جنگ میں مارے گئے ہیں وہ اسرائیل اور اُس کے اتحادی امریکا کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔ کیونکہ تل ابیب کا نقشہ دھیرے دھیرے اب غزہ کے نقشے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے، وہی چیخ و پکار اب تل ابیب میں بھی سنائی دینے لگی ہے یہاں بھی دھماکوں کی آوازیں فضاؤں میں گونجنے لگی ہیں، بجلیوں کی چمک سے جو آنکھیں غزہ میں روشن ہوا کرتی تھیں اب وہ تل ابیب میں اُسی روشنی سے پھٹی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور وہاں کے سروے کے مُطابق 90 ہوٹل بند ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ انٹر نیشنل برانڈز نے بھی %80 اپنی دکانیں سمیٹ لی ہیں جِس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے اب اُن کے پاس نہ ہاتھ میں پیسہ ہے اور نہ ہی نوکری، سر پر جو چھت بچی تھی اُس گھر کو بھی حزب اللّہ تباہ کئے دے رہا ہے۔ ٹورزم اور ہوٹل کاروبار کو یہ جنگی کیڑا ختم کرنے پر آمادہ ہے اسی وجہ سے یہاں کی اکنامی منھ کے بل زمین میں دھنس گئی ہے اور اپنا دَم توڑ رہی ہے جِس کی وجہ سے کوئی یہاں پر اب آنے کو تیار نہیں ہے بلکہ بھاگنے والوں میں کاروباریوں کی سب سے بڑی تعداد ہے جو اپنا سارا کاروبار بند کر کے اپنی زمین و جائیداد بیچ کر یہاں سے نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکِن اُن کی سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ اُن کی زمینیں آدھے سے بھی کم دام پر کوئی خریدنے والا نہیں مل رہا ہے۔ حزب اللّہ کا خوف دل و دماغ پر اتنا طاری ہے کہ باہر سے لا کر بسائے گئے اسرائیلی اپنی جان بچا کر یہاں سے نکلنے کو بیتاب نظر آرہے ہیں۔ آپ اِس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بین-گورین ہوائی اڈے پر آنے والے طیاروں میں %43 کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اب اسرائیل کے پاس حزب اللّہ اور لبنان سے سوائے سمجھوتے کے کوئی دُوسرا راستہ نہیں بچا ہے لیکن حزب اللّہ تنظیم کوئی بھی سمجھوتا نہیں کر سکتی جب تک غزہ اور فلسطین میں پوری جنگ بندی عمل میں نہیں آجاتی۔
