محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ رب کی مہربانی
وہ کہہ رہاتھا ’’غلطیاں ایسے بھی سرزد ہوجاتی ہیں کہ پتہ نہیں چلتاغلطی ہورہی ہے‘‘ میں نے کہا’’ ایسی غلطیوں کومن جانب رب مان لیں ، میں سمجھتاہوں کہ اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا‘‘
اس نے سختی کرتے ہوئے کہا’’مفتی نہ بنو، ڈھیل دوگے تو تم خود پکڑے جاؤگے‘‘ مجھے ہنسی آگئی، میں نے ہنستے ہوئے کہا’’اگرپکڑنا ہووہ کہیں سے بھی پکڑ لے گالیکن میر ا رب انسانوں پر مہربان ہی ہے ‘‘
۲۔ تعلق
جانے والے خوش تھے۔ نہیں جاپانے والوں کی بھی خوشی کم نہیں تھی۔یہ تماشہ چند فرشتے دیکھ رہے تھے اور حیرت زدہ تھے ۔ ان کاخیال تھاکہ حضرت ِ انسان میں خوش ہونے کا مادہ ضرور ہے مگر سچی خوشی کس کو حاصل ہے یہ تو رب کائنات ہی جانے گا، ہم نہیں ۔
۳۔ ہدف اپنا اپنا
اُس کو ہیڈکوارٹر تک پہنچنا تھا، اور وہ پہنچ چکا۔حیرت ہوتی ہے کہ جنہیں ان کا مقام ریجکٹ کردیتاہے ، انہیں اعلیٰ مقام اپنالیتاہے۔اس واقعہ پر یادآیاکہ نانا جان کہاکرتے تھے’’ سمندر کے کسی نہ کسی حصہ سے گٹربھی جاملتے ہیں۔دنیا میں یہ سب ہوتارہتاہے، افسوس اس پر کیاکیجئے ‘‘
۴۔ اجتماعی سفر
ذہن ودل۔۔۔۔۔ آمادہ ہوںیانہ ہوں، دنیا وی رسوم کے لئے آدمی اجتماعی سفر بھی کرلیتاہے۔ تمام دوستوں کایہ خیال تھامگر ہمارے بدھودماغ رکھنے والے ماسٹر سعیدپانی کہتے ہیں کہ اجتماعی سفر سے لوگ باز اس لئے آتے ہیں کہ انہیں اپنا سفر بہتر بنانا ہوتاہے۔
۵۔ سوشیل اسٹیٹس
عجیب آدمی ہے ۔ جب بھی کوئی پوسٹ سوشیل میڈیا کے لئے لکھتاہے ، اس کے لئے ائرپورٹ کے لاؤنج کااستعمال کرنانہیں بھولتا۔ سال ختم ہونے آرہاہے ،اس نے اب تک تمام کے تمام 6پوسٹ ائرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھ کر ہی لکھے ہیں۔جس میں اس بات کا ذکر بھی کردیاہے کہ وہ کہاں جارہاہے اور کہاں سے آرہاہے ۔ پچھلے سال چار پوسٹ لکھے تھے ۔یعنی پچھلے سال کے مقابلے اِمسال اس نے ہوائی سفر زیادہ کئے ہیں۔
۶۔ بصیرت بے بصارت
سب اس کو شک کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور وہ انہیں یقین کی نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچ رہاتھاکہ یہ اوپراوپر دیکھنے والے لوگوں کی بصیرت میں اللہ نے بصارت پید انہیں کی ہے تو کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ یہ اندھیرا بے وجہ ممکن نہیں
۷۔ ممبرشپ
زیادہ ممبرشپ کی انھیں خوشی تھی۔اس کے لئے ایک خصوصی تقریب رکھی گئی اور یہ احساس پیش کیاگیاکہ ہماری تعداد میں اضافہ ہواہے جس پر سبھی کو خوشی منانا چاہیے کیوں کہ یہ ہماری ان تھک کوششوں کانتیجہ ہے۔ تقریب کے بعداکلوتے سینئر ڈائرکٹر نے نصیحت کرتے ہوئے کہا’’ممبرشپ کا آنا دیوالی کا گفٹ ہے اور کچھ نہیں ، زیادہ خوشی نہ منائیں ، گفٹ وائوچر کوزندگی نہیں بلکہ کارپوریٹ سیکٹر کاکاروبار کہتے ہیں ‘‘.
۸۔ ناشکرے
’’اب کوئی کسی کاشکرگزار نہیں ہوتا‘‘ شکایت کی گئی۔ جواب ملا’’پیسہ اورمختلف ذرائع کی فراوانی کی بدولت یہ سب ہوا ہے۔ جن کے پیٹ بھرے ہوتیہیں اور جو اپنی خواہشات پوری کرچکے ہوتے ہیں ، انھیں شکرگزاری سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ اس ایک کلیہ کوپہلے سمجھ لو باباتاکہ آئندہ شکایت نہ کرسکو‘‘
۹۔ خوشی کا زہر بن جانا
خوشی پر بات ہورہی تھی کہ ہماری خوشیاں کب زہر بن جاتی ہیں؟ہر ایک کی اپنی رائے تھی۔ ایک نے کہا ’’خوشی تب زہر بن جاتی ہے جب اس کااپنا اس سے دھوکاکرے ‘‘
دوسرے کاکہناتھاکہ’’ خوشی تب زہر بن جاتی ہے جب اس کی بات کواہمیت نہ دی جائے اور اس کی بات کاٹی جائے‘‘
تھوڑے سے فرق کے ساتھ خواتین کاکہناتھاکہ ’’ہماری تو ساری خوشیاں ہماری بات نہ مان کرزہر بنادی جاتی ہیں۔ مرد ذات ہوتی ہی بے وفا ہے‘‘
بڑے ابو جان کافی دیر سے خاموش بیٹھے ہوئے چائے پی رہے تھے۔ ان سے بھی پوچھاگیاکہ خوشی کب زہر بن جاتی ہے ؟ تب بڑے ابوجان نے بڑے ہی اطمینان سے اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایاکہ’’ خوشی تب زہر بن جاتی ہے جب کسی انسان سے حد سے زیادہ توقعات وابستہ کی جائیں۔ انسان بھول جانے والا، اورجلد باز واقع ہواہے۔لہٰذا انسان سے توقعات رکھنے کے بجائے پیداکرنے والے رب سے توقع رکھی جائے کہ وہ ہمار اسہارا ہے ، ہمیں کبھی مایوس نہیں کرے گااور اگر کبھی زندگی میں کچھ ایسا ویساہوجائے تو ہمیں اس سچویشن سے نکال کر ہماراوقار بحال کرے گا۔ رب کریم سے ایسی توقع کی بدولت ہماری چھوٹی موٹی خوشیاں زہر نہیں بلکہ حقیقی خوشیوں میں بدل جائیں گی، خوشیوں کاراست اور حقیقی تعلق رب سے ہے‘‘
سبھی بچوں نے تالیاں بجاکر بڑے ابوجان کی بات کاخیرمقدم کیا۔خواتین کاردعمل البتہ مختلف اور منتشر تھا۔
۱۰۔ عمرِ دراز
رابعہ بتول کو اپنے دادادادی سے بچپن ہی سے بے انتہا محبت تھی۔ رابعہ اب کالج جانے لگی تھی۔ ایک دِن کالج کی عمردراز پرنسپل میم نے رابعہ سے پوچھا’’سناہے تم اپنے دادادادی کو بہت چاہتی ہو؟‘‘
رابعہ نے کہا’’ہاں میم ،میں اپنے دادادادی کو بہت چاہتی ہوں‘‘ میم نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا ’’ان کو صحت مند اور ان کی عمردرازبھی دیکھنا چاہتی ہو گی؟‘‘رابعہ نے اپنی آنکھیں جھپکتے ہوئے سوال کیا’’کیوں نہیں میم ؟‘‘تب پرنسپل میم نے کہا’’ اگر ایسی بات ہے تو تم ان سے اپنی زندگی کی باتوں کو شیئرکیاکرو،کالج کی مصروفیات اور تعلیم بھی کبھی کبھی بتادیاکرو۔ اور تمہارے والدین کو چاہیے کہ گھر کی باتیں تمہارے دادادادی سے نہ چھپائیں۔ گھریلو مسائل میں ان سے مشورہ لیں ، وہ صحت مند بھی رہیں گے اور ان کی عمر دراز بھی ہوگی‘‘۔
