ڈاکٹر غضنفر اقبال سہروردیِ
آج قوم و ملّت کے امکانات کے آسمان پر سب سے روشن ستارہ اگر کوئی نظر آتا ہے تو وہ تقدس مآب حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ  دامت برکاتھم کی شخصیت ہے۔17ستمبر 1984وہ مبارک و مسعود دن تھا جب حضرت موصوف کی ولادت ہوئی۔حضرت علی الحسینی ‘ہمارے اور آپ کے آقا‘ نبی کریم رسول اکرمؐ کی چھیالیسویں پشت سے ہیں۔ جگر گوشہ ٔرسول اکرمؐ ‘ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ کے گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔علی الحسینی صاحب قبلہ 9نومبر 2024کو بارگاہ بندہ نوازؒ کے چوبیسویں سجادہ نشین ذی شان کی حیثیت سے مسند سجادگی پر جلوہ افروز ہوئے ہیں۔حضرت موصوف کے والدگرامی محترم المقام ‘ غفران مآب حضرت سید محمد خسرو حسینی صاحب قبلہؒ (1945-2024)‘ اور آپ کے جد بزرگوار‘ غفران مآب حضرت سید محمد محمد الحسینی خواجہ ثانی صاحب قبلہؒ (1922-2007) کی عظیم و کریم شخصیات کی یادیں آج بھی امّت مسلمہ کے دلوں میںروشن ہیں۔ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔ حضرت سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ اسی سلسلۃ الذہب کی کڑی ہیں‘ ہم جیسے نیاز مندان بارگاہ بندہ نواز و طالبان خیرکی امیدوں کا مرکز ہیں۔
دکن بلکہ ہندوستان بھر میں مقبول و معروف اس خانوادے کی دینی‘علمی‘ عملی‘ تعلیمی اور سماجی خدمات ہم سب کے لیے عموماً مشعل راہ اور ہمارے دینی ‘ علمی ورثے کے حامل خانوادوں کے لیے خصوصاً قابل تقلیدہیں۔ حضرت علی ا لحسینی قبلہ اپنے قابل صد احترام خانوادے کی دینی‘ علمی‘ سماجی خدمات کے قابل فخر ورثے کے امین اور اس ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کے ذمہ دار ‘فرد فرید ہیں۔دین اور دنیا کی بھلائی اور قوم و ملّت کی ہمہ جہتی ترقی اس خانوادے کی قابل فخر روایت کا حصہ ہے۔جہاں اس خانوادے کے بزرگوں اور خصوصاً حضرت موصوف کے والد قبلہ اور جد محترم نے دینی‘ علمی‘ اخلاقی اعتبار سے خلق اللہ کو فائدہ پہنچایا ہے وہیں قوم و ملّت کے نونہالوں‘ نوجوانوں کو عصری علوم کے زیور سے بھی آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اسکول‘ کالج‘ پیشہ ورانہ تعلیم اور طبی تعلیم کی فراہمی کے لیے قائم ادارے ان کی کامیاب کوششوں کا ثبوت ہیں۔ خواجہ بندہ نواز یونی ورسٹی اس کی سب سے روشن مثال ہے۔23 اکتوبر 2024کو‘ آپ کے والدگرامی غفران مآب حضرت سید خسرو حسینی علیہ الرحمہ کے دست مبارک سے‘ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ ٹیچنگ اینڈ جنرل ہاسپٹل میں جدید تر عصری سہولتوں سے آراستہ ‘ جی- بلاک کا افتتاح عمل میں آیا۔اس بلاک کی تعمیر و تشکیل میںحضرت علی الحسینی کا بھرپور حصہ رہا ہے۔
حضرت محمد علی الحسینی صاحب قبلہ نے تعلیمی‘ روحانی ‘ علمی مدارج میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔سب سے بڑی بات تو یہ کہ آپ حافظ قرآن ہیں بلکہ تعلیمات قرآنی و ارشادات نبویؐ پر عمل پیرائی کا نمونہ ہیں۔آپ نے عثمانیہ یونی ورسٹی سے ایم-اے (عربی) کے علاوہ میگل یونی ورسٹی‘ کینیڈا سے ایم-اے(صوفی ازم) کی اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کیں۔علم کو عمل کے سانچے میں ڈھالا۔خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر انتظام متعدد تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیں۔ کئی ذمہ دار عہدوں پر فائز رہتے ہوئے حضرت علی الحسینی صاحب قبلہ نے ان تمام اداروں کی ترقی و ترویج میں ذاتی دل چسپی لی ۔ جدید تر تعلیمی وسائل کے نفاذ میں کامیابی حاصل کی۔نہ صرف نصابی تعلیم بلکہ طلبہ کی صحت و تندرستی اور کھیل کود کے میدان میں ان کی کامیابی پر بھی خصوصی توجہ دی۔اہم بات یہ کہ ان اداروں میں قومی یک جہتی اور مذہبی رواداری کے قابل فخر اسلامی صوفیانہ مزاج کے روشن نشان اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔اسی لیے نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر ابنائے وطن کے دلوں میں بھی حضرت موصوف کی محبت قائم و دائم ہے۔ یقین واثق ہے کہ آپ کی سرپرستی میں  قوم و ملّت کے یہ ادارے اور زیادہ ترقی کریں گے۔
حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے خانوادے کے چشم و چراغ ‘ حضرت موصوف نے تحریر و تقریر کے وسیلے سے بھی دینی‘ علمی خدمات کے ضمن میں قابل فخر  کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ ’’حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی تعلیمات میں شریعت کی اہمیت‘‘ ایک ایسا ہی علمی کارنامہ ہے جس میں آپ نے حضرت خواجہؒ کی تعلیمات میں شریعت مطہرہ کی اہمیت جیسے اہم موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنے نکتۂ نظر کو نہایت علمی اور استدلالی انداز سے پیش فرمایا ہے ۔ مقالے کے تعارف کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں:
میں نے یہ کوشش کی ہے کہ ابتداء ً ارادت کی چند اہم تعلیمات میں شریعت کی اہمیت کو پیش کیا جائے۔بہت سے بزرگ صوفیوں نے شریعت اور طریقت کے تعلق کو بیان فرمایا ہے اور سب کا اپنا الگ الگ اندازپایا گیا ہے لیکن اس کا مفہوم و ہی رہا۔ حضرت گیسودرازؒ نے واضح طور پر اپنی تعلیمات کو شریعت سے ثابت کیا ہے۔  (رسالہ ‘ شہباز 2021: ص 51)
آپ نہ صرف تحریر کے میدان میں بلکہ خطابت و مواعظ کے میدان میں بھی انفرادیت اور اہمیت کا پیکر ہیں۔ تحریرکی طرح آپ کی تقریر بھی مدلل‘ مبسوط اور دل نشین ہوتی ہے۔دل سے نکل کر دل میں گھر کرجانے والی بات ۔ حضرت محمد علی الحسینی نے خانوادۂ بندہ نواز گیسودرازؒ کی زرّیں روایات کی پابندی اور ان روایات کی توسیع میں قابل قدر کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔رواداری‘ وسیع النظری اور تحمل کا پیکر ہوتے ہوئے بھی آپ نے حق کی پاسداری اور باطل کی مخالفت میں کبھی کسی مصلحت کو راہ نہیں دی۔حالیہ دنوں میں وقف ترمیمی ایکٹ کی بھرپور مخالفت اس کا ثبوت ہے۔خلق اللہ کی خدمت اسلامی تصوف کا اہم پہلو ہے۔ایسی تمام خدمات کسی بھی اعزاز اور تعریف سے مستغنی ہوتی ہیں۔بے لوث‘ قابل تقلید خدمات کے اعتراف میں پیش کیا جانے والا کوئی بھی اعزاز‘ دراصل اس اعزاز کے لیے فخر کا باعث ہوتا ہے۔حضرت موصوف کی خدمت میں پیش کیے جانے والے اعزازات بھی اسی زمرے میں شمار ہیں۔حضرت علی الحسینی صاحب قبلہ کی ہمہ جہتی علمی‘ تعلیمی‘ سماجی خدمات کے اعتراف میں پیش کیے جانے والے چند اعزاز اس طرح ہیں: اسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز ایکسیلنسی ایورڈ (2018) ‘ پرامزنگ انڈین ایوارڈ (2019)‘ ایوارڈ آف ایکسیلنسی (2019)‘ بہمنی فاؤنڈیشن کا شان گلبرگہ ایوارڈ (2022) وغیرہ۔
حضرت علی الحسینی صاحب قبلہ اپنے بلند اخلاق و کردار‘ علمیت‘ تحمل و بردباری‘ ہم دردی و انسان دوستی کی صفات کے پیش نظر عامۃ الناس میں مقبول ہیں تو اپنے دینی‘ علمی‘ روحانی اور صوفیانہ مزاج کے باوصف ہم جیسے شیدائیان بارگاہ بندہ نوازؒ کی نظروں اور امیدوں کا مرکز ہیں۔بقول تابش مہدی:
بیٹھے جو ان کی بزم میں‘ محسوس یہ ہوا
صحبت ہوئی نصیب ہمیں روشنی کے ساتھ
خدائے بزرگ و برتر سے دست بدعا ہوں کہ روشنی کا یہ سلسلہ جاری رہے، پھیلتا رہے! پھیلتا رہے، آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے