محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ جلتے ہوئے لوگ 
نیشنل پریس ڈے مناناضروری تھا۔ لیکن شہر کے معروف کالجس امتحانات کی وجہ سے مصروف تھے۔ ایک سینئر صحافی سے ملاقات ہوگئی تو میں نے کہا’’نیشنل پریس ڈے مبارک‘‘ ۔ انھوں نے بہت ہی غصہ میںکہا’’کوئی کسی کے لئے کچھ نہیں کرتا، مشکلات کو خودہی جھیلناپڑتاہے۔ اگر صحافی متحد ہوتے تو ہم پر اتنی پریشانیاں نہ آتیں، ہماری مددنہ حکومت کرتی ہے اور نہ ہی صحافیوں کی تنظیمیں‘‘۔
سینئرصحافی کی بات اور ان کاغصہ درست تھا۔ میں نے انہیں چائے کی پیش کش کی ، قبول کرلی گئی۔ پھر ہم چائے پینے چل پڑے۔ وہ سگریٹ کے عادی تھے۔ ایک پیتے تھے اور دورکھ لیتے تھے۔ اورمیں اپنی جیب کے بارے میں سوچ رہاتھاکہ آیا اتنے پیسے ہیں یا نہیں؟
۲۔ امن پسندی 
ضروری تھاکہ سب مل جل کرزندگی کرتے ، لیکن چند ایک باتیں ایسی تھیںکہ ایک دوسرے سے الگ رہناپڑااور بعض باتوں میں ایک دوسرے کے خلاف پستول بھی چلانا تھا۔مگر ان لوگوں تک جس صورت میں اسلام پہنچنا تھااس کے مطابق وہ ایک دوسرے سے الگ تو رہ گئے لیکن ایک دوسرے کے خلاف کبھی پستول نہیں اٹھایا۔ان کے ایک شدت پسند مولوی نے کہابھی کہ ’’پستول چلانا عین اسلام کے مطابق رہے گا۔کیوں کہ صحابہ کرام ؓ نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں اٹھائی تھیں ، اور وہ سبھی سچے تھے‘‘
علیحدہ علیحدہ بستیاں رکھنے والوں کے کان پرجوں تک نہیں رینگی ۔مولوی صاحب نے زور دے کرکہابھی ’’شیروں کی تربیت جب بکریوں کے ریوڑ میں ہوجائے تواس سے زیادہ خطرناک پوزیشن سامنے آتی ہے، تم سب منافق ہو ‘‘
۳۔ شہر چھوڑنے والے 
’’اللہ اکبر ، اللہ اکبر‘‘ اذان ہورہی تھی۔ اور لاؤڈاسپیکر پر بھجن بھی زوروشور سے جاری تھا۔ مکیش اور امان خان ایک ہی موٹرسائیکل پرسوارتیزی سے اپنی اپنی گرل فرینڈس سے ملنے جارہے تھے۔ مکیش نے پیچھے بیٹھے ہوئے امان خان سے کہا’’یار ، یہ اذان اور بھجن کا لفڑا ایک دن شہر میں فساد کرائے گا‘‘
امان خان نے مکیش کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا’’تو صحیح کہہ رہاہے مکیش ، یہ مذہبی لوگ سماج کو چین سے رہنے نہیں دیتے ‘‘مکیش نے پوچھا’’اگریار فساد ہوجائے تو ہم دونوںکیاکریں ؟‘‘ امان نے اس کی فکرمندی کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا’’دوستی ہر چیز پربھاری ہوتی ہے ، ہم دونوں کوکسی بھی جانب سے لڑنانہیں ہے ، یاتو نیوٹرل رہیں گے یاپھر شہر ہی چھوڑ دیں گے ‘‘
فساد ہوا اور دس ہلاک ہوگئے ۔ ان میں ایک نعش مکیش کی تھی۔
۴۔ باخبری 
اسکوبروقت اطلاع ہوجاتی تھی۔ ہم لاکھ بھی کوشش کرتے کہ علیحدہ سے کوئی پروگرام کرلیں لیکن ایسا کبھی نہ ہواکہ اس نے ہم سے پہلے پروگرام نہ کیاہو۔ آج ہم صحافیوں نے مل جل کر ’’نیشنل پریس ڈے ‘‘ منایااور یقین کرلیاکہ اس کوپتہ نہیں ہوگا۔ پروگرام کی خبر شام کو اشاعت کے لئے اخبارات کو روانہ کردی گئی اوردوتین نیوزپورٹل نے شام ہی کو ہمارے کئے گئے پروگرام کی خبر بھی نشر کردی۔
میں بڑی خوشی خوشی نیوزپورٹلس کی دی گئی ہم صحافیوں کی خبر یں واٹس ایپ پر شیئر کررہاتھاکہ دیکھا صبح 8بج کر 7منٹ پر اس نے ایک افسانچہ شیئر کیاہواہے جس میں ’’قومی یومِ صحافت‘‘ کاذکر ہے
۵۔ فوری انتظام 
کتاب اشاعت کے لئے بھیجنا تھا، اس نے بیوی کی جانب دیکھا۔ بیوی سمجھدار تھی ۔ کچھ ہی دیر میں وہ الماری میں رکھے ہوئے سونے کے اپنے گہنے نکال لائی۔ اس کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ تھی۔ اس کی کتاب کی اشاعت کاانتظام ہوچکاتھا۔
۶۔ کل یگ کا دھرم 
اس نے سمجھاتھاکہ اس کی اپنی تنظیم میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔وہ دنیا کی سب سے اچھی اورانصاف پسند تنظیم ہے لیکن جب تنظیم کے سبھی عہدیدار اور ورکر’’اسٹیٹ سمیلن‘‘ میں شرکت کے لئے چلے گئے اور شہر میں صرف کوورکر باقی رھ گئے ۔ تب تنظیم کی’’ویکلی میٹ‘‘اس لئے نہیں رکھی گئی کہ تمام عہدیدارشہر میں نہیں ہیں۔ عہدیداروں کی جگہ کسی کو انچارج بناکر بھی ’’ویکلی میٹ‘‘ کی جاسکتی تھی، پہلے بھی ایسا ہواتھا لیکن جب ایسا نہیں کیاگیاتو وکرم سنگھ کو پہلی بار شدت سے احساس ہواکہ یہ دور وکرمادتیہ بادشاہ کا نہیں ہے ۔ آج کاوکرمادتیہ صرف ایک کو ورکر ہے جس کو سیٹ نہ دینا ہی کل یگ کا دھرم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے