روز انتقال سے ہی حضرت مولانا محمد رابع حسنی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے، تحریر و تقریر کے ذریعہ حضرت کی خوبیوں پر روشنی ڈالی جارہی ہے، پڑھ کر ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتی باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ مولانا مرحوم ملک ہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں ہندوستان کی نمائندگی کررہے تھے، آپ عربی کے بہترین ادیب اور ناقد بھی تھے، پچاسوں کتابوں کی تصنیف وتالیف کا کارنامہ انجام دیا ہے اور بڑے بڑے مناصب جلیلہ پر آپ فائز رہے ہیں، نیز انعام واکرام سے بھی نوازے گئے ہیں،

واقعی یہ شرف وعزت کی باتیں ہیں جو ایک انسان کو معزر بنا دیتی ہیں، مگر آپ کو جو مقبولیت و محبوبیت حاصل ہوئی ہے اس کی وجہ اور بھی ہے،

حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے آپ سچے جانشین ہیں، یہ بات سبھی جانتے ہیں اور تحریر میں بھی لکھتے رہے ہیں، حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے آپ خلیفہ و مجاز ہیں، چاروں سلسلے (قادریہ، نقشبندیہ، چشتیہ، اور سہر وردیہ) سے آپ کو اجازت حاصل ہے، یہ موضوع تشنہ رہ جاتا ہے، جبکہ خانوادہ حسنی کی وجہ فضیلت صلاحیت کے ساتھ صالحیت ہے، دارالعلوم ندوة العلماء کی شناخت ایک بڑے دانشگاہ کی رہی ہے، یہاں کی صلاحیت کے سبھی معترف رہے ہیں مگر صالحیت کا جامع بنانے میں خانوادہ حسنی کا بڑا نمایاں کردار رہا ہے، حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے اس تعلق سے بڑی محنت کی ہے، اور مولانا محمد رابع حسنی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا علی میاں رحمۃ اللہ کی سچی جانشینی کا حق ادا کیا ہے، اس وقت ملک میں سینکڑوں مدارس ہیں جودارالعلوم ندوۃ العلماء سے ملحق ہیں، ان میں پڑھانے والے بیشتر اساتذہ کرام مولانا مرحوم سے بیعت و ارشاد کا تعلق رکھتے ہیں،

حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا محمد رابع حسنی کو بیعت تو کر لیا مگر یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی میاں یہ تمہارے ہیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا علی میاں کو مجمع الکمالات کہا ہے، اور ان کی جانشینی کا کام اللہ نے حضرت مولانا محمد رابع حسنی سے لیا ہے، بقول حضرت مولانا بلال حسنی صاحب کہ، مولانا کو ایسی فنائیت نصیب ہوئی جو بڑے بڑے اللہ والوں کو نہیں ہوتی ہے، مولانا مرحوم جیسی شخصیت بہت کم پیدا ہوتی ہے، اللہ نے آپ کو حسن خاتمہ بھی نصیب کیا، ظہر کے وقت کہا کہ مجھے فورا نماز ادا کراؤ، جماعت کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی، نماز بعد طبیعت بگڑ گئی، ڈیڑھ گھنٹے میں انتقال ہوگیا، اللہ اللہ کرتے دنیا سے چلے گئے، حقیقی معنوں میں وہ برکتہ الدنیا تھے، یہ درحقیقت مولانا کی مقبولیت اور محبوبیت کی وجہ ہے، جنازہ سے پہلے کی تقریر میں حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی نے یہی باتیں پیش کی ہیں، ملاحظہ کیجئے؛

حضرات ! "جو ایمان والے اچھا کام کرتے ہیں اللہ ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے، یہاں کا پیغام توحید و سنت ہے، یہاں مجمع آیا ہوا ہے، حضرت شاہ علم اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ مسجد ہے، انہوں نے اس کی بنا اسی لئے ڈالی، حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے یہی سکھایا ہے، بعد کے لوگوں نے یہی سکھایا ہے، حضرت علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے یہی سکھایا، ان کے جانشین حضرت مولانا محمد رابع نے بھی یہی سکھایا ہے، اسی پر جینا اسی پر مرنا ہے، ہم فکر کریں کہ اللہ کے بندے ایمان میں آئیں، میرے بھائیو! یہی سبق لو، ہمارے حضرت نے ابھی دوہفتے پہلے بیان کیا، فرمایا؛ دنیا کتنے دن کی ہے؟ یہ ختم ہوجائے گی، جو آیا ہے فانی ہے وہ جائے گا، کامیاب کون ہے؟ جو اللہ کو راضی کرکے جائے اور اللہ اس سے خوش ہوجائے، یہی اصل ہے، یہاں مجمع آیا ہے، ہم مجمع سے کہتے ہیں، یہاں کا یہ پیغام ہے، یہی حضرت کا پیغام ہے، ساری زندگی کہتے رہے، ابھی چند روز پہلے کی بات ہے، حضرت فرما رہے تھے کہ مسلمانوں کا کیا حال ہوگیا ہے، ایک طرف مسلمان بے بس بھی ہیں اور بے دین بھی ہیں، ہمیں اللہ پر یقین پیدا کرنا ہے، اسی دین پر جینا ہے اور مرنا ہے، صرف اپنی فکر نہیں بلکہ سب کی فکر کرنی ہے، یہ پیغام لے کر جائیے کہ ہمیں دین پر مرنا ہے اور دین کے لئے جینا ہے، ایک نقطہ سے بھی ہم دستبردار نہیں ہو سکتے ہیں، جان رہے یا جائے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، یہ نبی کی سنت ہے، خدا کا کام پیدا کرنا ہے اور دنیا کا نظام بھی چلانا ہے، یہ دنیا کا نظام اللہ چلا رہا ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں؟ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، سب اللہ ہی چلا رہا ہے، کبھی اپنے دشمنوں کو کھڑا کر دیتا ہے، اپنے دوستوں کی غلطی پر دشمنوں سے پٹواتا ہے، دوستو ! ہمیں توبہ کرنی چاہئے، یہی یہاں کا پیغام ہے، اللہ کے ولی کے جنازے میں آپ شریک ہونے، یہاں سے یہ پیغام لیکر جائیے، حضرت مولانا بار بار کہتے تھے کہ ہر آنے والے کو کچھ سبق دو، جو لوگ یہاں آئیں خالی ہاتھ نہ جائیں، ان کو تحفہ دو، ایمان کا تحفہ دو، سنتوں کا تحفہ دو، یہاں کے بزرگوں نے جس کے لئے اپنی جانیں دیں، حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اسی راہ میں شہید ہوئے ہیں "۔

واقعی حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ العالی نے مولانا مرحوم کی مقبولیت کی تاریخی وجہ بیان فرما دی ہے، سب سے بڑی بات یہ کہ حضرت مولانا محمد رابع حسنی رحمۃ اللہ علیہ کے جنازہ کو بھی دعوت بنا دیا ہے، اس سے زیادہ حقیقی خراج عقیدت مولانا مرحوم کے حق میں اور کیا ہے؟

راقم الحروف

ہمایوں اقبال ندوی ،ارریہ 

۲۳/رمضان المبارک ۱۴۴۴ھ

رابطہ، 9973722710

By admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے