از: الطاف آمبوری
شہر کی فضا میں ایک عجیب سی سنجیدگی گھلی ہوئی تھی۔ گلیوں کے نکڑوں پر جھنڈے لہرا رہے تھے، دیواروں پر نعروں کی رنگین تحریریں تھیں، اور ہر چہرے پر آنے والے دنوں کی فکر نمایاں تھی۔ انتخابات قریب تھے، اور ہر شخص اپنی اپنی رائے کے ساتھ میدان میں کھڑا نظر آتا تھا۔
محلے کی مسجد کے صحن میں شام کے بعد چند بزرگ اور نوجوان بیٹھے تھے۔ گفتگو کا موضوع بھی وہی تھا جو ہر زبان پر تھا۔ ان میں ایک نوجوان حمزہ بھی تھا، جو پہلی بار ووٹ دینے جا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر جوش بھی تھا اور الجھن بھی۔ “آخر ہم کس کو ووٹ دیں؟” حمزہ نے سوال کیا، “ہر کوئی خود کو حق پر ثابت کرتا ہے، مگر سچ کیا ہے؟”
یہ سن کر بزرگ نے دھیرے سے کہا،“بیٹا، ووٹ صرف ایک حق نہیں، ایک امانت ہے۔ اس میں صرف اپنا فائدہ نہیں، پوری قوم کا مستقبل چھپا ہوتا ہے۔”
حمزہ خاموش ہو گیا۔ اس نے کبھی اس زاویے سے نہیں سوچا تھا۔
بزرگ نے بات جاری رکھی،“آج امت کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ملک کی سالمیت کے لیے متحد ہو جائے۔ اگر ہم آپس میں بٹ گئے، تو نقصان صرف ہمارا نہیں، پورے ملک کا ہوگا۔”
اسی دوران ایک اور نوجوان بولا، “لیکن ہمارے درمیان تو بہت اختلافات ہیں، ہم کیسے ایک ہو سکتے ہیں؟” بزرگ مسکرائے، “اختلاف ہونا فطری ہے، مگر انتشار پیدا کرنا غلط ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہم سب ایک ہی وطن کے باشندے ہیں۔ اگر ملک محفوظ ہے تو ہم محفوظ ہیں۔”
یہ الفاظ فضا میں گونجنے لگے۔ ہر شخص جیسے اپنے اندر جھانکنے لگا ہو۔
انتخابات کا دن آ پہنچا۔ صبح سے ہی پولنگ اسٹیشن کے باہر لمبی قطاریں تھیں۔ لوگ گرمی اور تھکن کے باوجود خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ حمزہ بھی ان میں کھڑا تھا۔ آج اس کے قدموں میں ایک نیا وقار تھا۔
جب اس کی باری آئی، تو اس نے بیلٹ مشین کے پاس پہنچا۔اور ایک لمحے کے لیے اس کے ذہن میں بزرگ کی کہی ہوئی باتیں گونجیں۔ اس نے گہری سانس لی اور سوچ سمجھ کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
باہر نکلتے ہی اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس نے صرف ایک ووٹ نہیں دیا، بلکہ اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔
شام ڈھل رہی تھی۔ شہر کی گلیاں پھر سے خاموش ہونے لگی تھیں۔ مگر اس خاموشی میں ایک امید چھپی تھی ایک ایسا مستقبل، جو اتحاد، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ تعمیر ہو سکتا ہے۔
کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، بلکہ شعور اور اتحاد سے بنتی ہیں۔ اور جب امت اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ملک کی سالمیت کے لیے کھڑی ہو جائے، تو کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکتی۔
