(حافظ)افتخاراحمدقادری
بڑی تبدیلیاں ہمیشہ خاموشی سے جنم لیتی ہیں۔ بعض اوقات بظاہر بے نتیجہ نظر آنے والے واقعات اپنے اندر ایسے امکانات چھپائے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ کسی بڑی پیش رفت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی معاملہ بین الاقوامی سیاست میں ہونے والے مذاکرات کا بھی ہے جہاں ہر نشست کا نتیجہ معاہدہ نہیں ہوتا مگر ہر گفتگو مستقبل کی راہوں کو ضرور ہموار کرتی ہے۔ ایران و امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے جہاں ناکامی کی خبر کے پس پردہ کئی امیدیں اور امکانات سانس لے رہے ہیں۔ حالیہ مذاکرات کے اختتام پر جو بیانیہ سامنے آیا وہ بظاہر ایک تضاد لیے ہوئے تھا۔ ایک طرف یہ کہا گیا کہ بات چیت تعمیری اور بامعنی رہی جبکہ دوسری طرف اس امر کا اعتراف بھی کیا گیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔ یہ دوہرا تاثر دراصل اس پیچیدہ سفارتی عمل کی عکاسی کرتا ہے جس میں پیش رفت اور جمود ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ الفاظ کی حد تک قربت اور عملی سطح پر فاصلے یہی وہ کیفیت ہے جو ایران و امریکہ کے تعلقات کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ان مذاکرات سے کسی فوری بریک تھرو کی توقعات زیادہ نہیں تھیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط بداعتمادی، سیاسی مخاصمت اور تزویراتی کشمکش اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ اسے ایک یا دو نشستوں میں ختم کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسلام آباد میں طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو مبصرین کی نگاہیں تو اس پر مرکوز رہیں مگر امیدوں کا دامن محتاط ہی رہا۔ مذاکرات کا مرکزی نکتہ ایران کا جوہری پروگرام تھا جو طویل عرصے سے عالمی سیاست میں تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور یورپی ممالک اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ یہ پروگرام دراصل جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہی بنیادی اختلاف مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا۔ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں سب سے اہم تقاضا یہ تھا کہ ایران نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے اور اس کے لیے ایک قابلِ تصدیق نظام کو قبول کرے۔ دوسری جانب ایران نے ان شرائط کو اپنی خودمختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی خودمختار ریاست کو اپنے دفاع اور توانائی کے معاملات میں آزادانہ فیصلے کا حق حاصل ہے اور اس حق پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ یہ اختلاف تکنیکی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پس پردہ گہرے سیاسی و تزویراتی عوامل کار فرما ہیں۔ اعتماد کا فقدان اس قدر شدید ہے کہ ایک فریق کی یقین دہانی دوسرے کے لیے ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا اور کسی قابل ذکر لچک کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کا مطالبہ بھی ایک اہم نکتہ تھا جس نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈے نہ صرف اس کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کی علامت بھی ہیں۔ ان اڈوں کا تعلق عالمی تجارتی راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز کے تحفظ سے بھی ہے جہاں سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے۔ ایسے میں امریکہ کے لیے ان اڈوں سے دستبردار ہونا ایک علاقائی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی توازن طاقت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تاہم ان تمام اختلافات کے باوجود اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مذاکرات ایک نہایت نازک وقت میں منعقد ہوئے۔ چند روز قبل تک خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ امریکہ کی جانب سے سخت بیانات اور ایران کے جوابی ردعمل نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا تھا۔ ایسے میں دونوں فریقوں کا مذاکرات کی میز پر آنا بذات خود ایک مثبت پیش رفت ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ سفارت کاری کے دروازے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ عارضی جنگ بندی اور بحری راستوں کو کھلا رکھنے پر اتفاق بھی ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی کیونکہ دنیا کی ایک بڑی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس تناظر میں اس راستے کی سلامتی پر اتفاق عالمی استحکام کے لیے ایک امید افزا قدم ہے جو اگرچہ جزوی ہے مگر غیر اہم نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سفارتی عمل ہمیشہ تدریجی ہوتا ہے۔ کوئی بھی بڑا معاہدہ یکایک طے نہیں پاتا بلکہ اس کے لیے مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور باہمی لچک درکار ہوتی ہے۔ آج کی ناکامی کل کی کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے بشرطیکہ فریقین اپنے رویوں میں نرمی پیدا کریں اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ عالمی سیاست کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل کیا گیا غلبہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ وقت کے ساتھ حالات بدلتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور پالیسیاں بھی نئے تقاضوں کے مطابق ڈھلتی ہیں۔ یہی اصول اس تنازعے پر بھی لاگو ہوتا ہے جہاں آج کی سخت گیر پوزیشن کل کسی مفاہمت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس پس منظر میں ایران و امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کو مکمل ناکامی قرار دینا مناسب نہیں۔ یہ ایک عارضی تعطل ضرور ہے مگر اس کے اندر آگے بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں فریق اپنے مطالبات کو حتمی اور ناقابلِ تغیر نہ سمجھیں بلکہ ایک ایسے درمیانی راستے کی تلاش کریں جو نہ صرف ان کے مفادات کا تحفظ کرے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی رکھ سکے۔ ثالثی کے امکانات بھی اس تناظر میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی غیر جانبدار ملک دانشمندی اور خلوص کے ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرے تو یہ تعطل ٹوٹ سکتا ہے۔ ایسے ممالک جن پر دونوں فریق کسی حد تک اعتماد رکھتے ہوں مستقبل میں اس عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات اگرچہ اپنے فوری ہدف کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکے مگر انہوں نے ایک ایسا دروازہ ضرور کھلا رکھا ہے جس سے مستقبل میں مفاہمت کی روشنی داخل ہو سکتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس بظاہر ناکامی کو ایک معنیٰ خیز پیش رفت میں بدل دیتا ہے ایک ایسی پیش رفت جو ہمیں یہ امید دلاتی ہے کہ تصادم کے سائے میں بھی مکالمے کی شمع بجھنے نہیں پاتی۔
یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بڑے تنازعات ہمیشہ ایک ہی نشست میں حل نہیں ہوتے۔ ان کے حل کے لیے بار بار دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے، بارہا اختلافات کے کانٹوں سے گزرنا پڑتا ہے اور کئی مرتبہ اپنے مؤقف کی سختی کو نرم کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہر ناکام کوشش کے بعد مکالمے کا سلسلہ منقطع کر دیا جائے تو پھر دنیا میں کوئی بھی دیرپا امن قائم نہ رہ سکے۔ اس لیے اصل دانشمندی اسی میں ہے کہ بات چیت کا یہ سلسلہ جاری رہے خواہ اس کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو۔ ایران و امریکہ کے درمیان موجودہ تعطل دراصل اسی وسیع تر حقیقت کی ایک جھلک ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی مسئلہ یک رخ نہیں ہوتا۔ ہر تنازعے کے پیچھے مفادات و خدشات اور تاریخی تجربات کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ جب تک ان تمام پہلوؤں کو سنجیدگی سے سمجھنے اور تسلیم کرنے کی کوشش نہ کی جائے اس وقت تک کسی حتمی حل تک پہنچنا ایک خواب ہی رہے گا۔ آج دونوں فریق اپنے مؤقف کو دہرانے کے بجائے ایک دوسرے کے خدشات کو بھی حقیقت کی نظر سے دیکھیں اور طاقت کے اظہار کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ کیونکہ طاقت کا بے مہار استعمال وقتی طور پر کسی ایک فریق کو برتری تو دے سکتا ہے مگر اس کے اثرات ہمیشہ دیرپا اور اکثر تباہ کن ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر تحمل و بردباری اور دور اندیشی کو اختیار کیا جائے تو بظاہر بند راستے بھی کھلنے لگتے ہیں اور ناممکن دکھائی دینے والی راہیں بھی ہموار ہو جاتی ہیں۔ آج عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ کسی امتحان سے کم نہیں۔ اگر بڑی طاقتیں اپنی پالیسیوں میں اعتدال و انصاف کو جگہ دیں اور چھوٹے ممالک کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیں تو بہت سے تنازعات ازخود اپنی شدت کھو سکتے ہیں۔ اسی طرح علاقائی قوتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے فیصلوں میں جذباتیت کے بجائے حکمت اور ذمہ داری کو مقدم رکھیں کیونکہ ایک غلط قدم نہ صرف پورے خطے بلکہ دنیا کے امن کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوتی۔ وہ صرف مسائل کو ایک نئی شکل دے دیتی ہے، شدت کو بڑھا دیتی ہے اور انسانی المیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان چھوڑ جاتی ہے۔ اس کے برعکس مکالمہ چاہے کتنا ہی طویل اور مشکل کیوں نہ ہو بالآخر کسی نہ کسی حل کی طرف ضرور لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے ہمیشہ انہی کوششوں کو سراہا ہے جو امن کے لیے کی گئیں نہ کہ ان اقدامات کو جو تباہی کا سبب بنے۔ پس موجودہ مذاکرات کی ناکامی کو اگر ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ دراصل ایک وقفہ ہے جو فریقین کو سوچنے سمجھنے اور اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر اس موقع سے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھایا جائے تو یہی تعطل کسی مثبت پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ آخرکار قوموں کی عظمت کا دار و مدار صرف ان کی عسکری قوت پر نہیں بلکہ ان کی اخلاقی بصیرت سفارتی حکمت اور امن کے لیے ان کے عزم پر بھی ہوتا ہے۔ اگر دنیا کے طاقتور ممالک اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لیں تو نہ صرف یہ تنازعہ بلکہ اس جیسے بے شمار دیگر مسائل بھی حل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ شاید اپنے ایک نئے باب کے آغاز پر کھڑی ہے۔ اگر صبر و حکمت اور سنجیدگی کے ساتھ اس باب کو لکھا گیا تو بعید نہیں کہ آج کی یہ ادھوری سطر کل ایک مکمل اور روشن داستان میں بدل جائے ایک ایسی داستان جس میں تصادم کے بجائے مفاہمت اور نفرت کے بجائے انسانیت کی جیت ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،یو.پی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

