عازمین حج کے لیے ہر ممکنہ سہولت کی فراہمی سعودی حکومت، اس کے متعلقہ اداروں اور تمام ذمہ داران ور کارکنندگان کی اولین ترجیح
مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
حج، اسلام کا رکن ایک مالی اور بدنی عبادت ہے جس میں عازم حج کو سفری صعوبتوں کے ساتھ مشاعر مقدسہ میں اعمال حج کی ادائیگی کے لیے پر مشقت مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔
حج صرف مستطیع پر فرض ہے اور صرف ایک بار ہی فرض ہے، مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ میں مناسک حج کی ادائیگی کے انتظام کا معاملہ ہمیشہ متولی حرم کی رہی ہے اور یہ فریضہ انجام پاتا رہا ہے۔
عصر حاضر میں عازمین حج کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے اس لیے تمام انتظام و انصرام اور سہولیات کے فراہمی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آتا ہے۔
اس وقت امور حج کی ذمہ داری سعودی حکومت کی ہے اور شاہ عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ کے دور سے اب تک یہ سلسلہ قائم ہے۔ اس سعودی مملکت توحید و سنت نے حرمین شریفین اور حج وعمرہ اور زیارت سے متعلقہ امور و معاملات میں ایسی غیر مثالی شاہکار خدمات انجام دی ہیں جس کی مثال ماضی کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔
اس دور ترقی میں ایسی اعلی ترقی یافتہ اسباب ووسائل اختیار کیا جس میں مالی لاگت کو شمار کرنا مشکل ہے۔
حرمین شریفین کی توسیع کا عظیم الشان منصوبہ اور تمام مقامات مقدسہ اور مشاعر میں توسیع و تسہیل کا محیر العقول منصوبہ ہو سڑکوں کی توسیع و تعمیر کا کام ہو تمام منصوبوں کی تکمیل پر اربوں کھربوں ریال خادم الحرمین الشریفین نے اپنے دور میں صرف کیا۔
حسن انتظام کا کیا ہی پوچھنا، اسی کا ثمرہ ہے کہ کئی کئی لاکھ عازمین حج سہولت کے ساتھ حج وعمرہ ادا کرتے ہیں اور انہیں کسی نوع کی دقت نہیں پیش آتی۔
خادم الحرمین الشریفین اور ان کی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ موحد حکومت ہے، علمائے سعودی عرب توحید پر قائم ہیں اور اس کی نشر واشاعت میں ہمہ دم مصروف رہتے ہیں، اسی لیے حج میں وہاں صرف توحید کا غلغلہ اور سنت کا احیا اور اس پر عمل کا نظارہ عام ہے، شرک وبدعت کا کوئی مظہر نہیں۔
اللہ تعالی سعودی حکومت کی خدمات قبول فرمائے اور اسے قائم و دائم رکھے آمین

