تلخیاں۔
خاص رپورٹ
ڈیزل، پیٹرول اور گیس کی قلت آگ میں گھی ڈالنے کا کر رہی ہیں کام
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر۔
وہ کیسا زمانہ تھا جب 30-35 سال قبل گرمیوں کے موسم میں اسکول صبح 7 بجے سے 11 بجے تک صرف نصف وقت ہی چلا کرتے تھے تب گرمی بھی اتنی شدت سے نہیں پڑتی تھی۔ لیکن اب وقت بدلا، اسکول کا نصاب بدلا، نسلیں بدل گئیں اور بہت سی چیزیں بدل گئیں۔ اس لیے یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ آج کے حالات کے بنسبت پرانے دن ہی بہتر تھے۔
41 ڈگری سیلسیس سے زیادہ پڑ رہی شدید گرمی، 13 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں، اور دوپہر کی شدید گرمی میں چھوٹے بچے اسکول سے گھر واپس آتے ہوئے اپنے نرم و نازک کندھوں پر 5-6 کلو سے بھی زائد کتابوں اور کاپیوں کا وزنی بیگ اٹھائے ہوئے جب گھروں کو واپس لوٹتے ہوں گے تو اس صورت حال کا اندازہ صرف وہ بچے خود یا ان کے سرپرست ہی صحیح معنوں میں بخوبی لگا سکتے ہیں۔
ائیر کنڈیشنڈ کمروں اور ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں دن رات رہنے اور سفر کرنے والوں کو باہر کے درجہ حرارت کا اندازہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ صرف فرمان جاری کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ باقی عوام کا کیا عوام تو جیسے چکی میں پسنے ہی کے لیے پیدا ہوئی ہے۔
گیس کی قلت ہو یا پیٹرول ڈیزل کی قلت اس سے کسی لیڈر یا آفیسرز کے ماتھے پر شکن پڑنے والا نہیں۔
پرائیویٹ اسکولوں نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑ رکھا ہے۔ ہر سال فیسوں میں اضافہ، ہر سال نئی کتابیں، ہر سال نیا نصاب اور اس کے علاوہ لاتعداد پیسے وسولنّے کے مختلف ہتھکنڈوں اور چالوں نے عوام کی مالی حالت کو پتلی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کچھ اندرونی خفیہ بیماریاں اور پریشانیاں سب کو ستاتی ہیں مگر اسے کسی سے ظاہر کرنا ہر کوئی اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے آج ہمارے آس پاس اور ملک میں ٹھیک وہی حالات چل رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے