ابو احمد مہراج گنج
اردو زبان میں ‘ج’ اور ‘ذ’ کا رشتہ بڑا نازک ہے۔ جب نقطہ ‘ج’ کے پیٹ میں ہو تو انسان *”جلیل”* بزرگ اور محترم کہلاتا ہے، لیکن وہی نقطہ اگر پھلانگ کر سر پر بیٹھ جائے تو انسان *”ذلیل”* ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ نقطہ اس بات کی علامت ہے کہ عزت آپ کے اندر ہونی چاہیے، اگر دماغ پر سوار ہو گئی تو معاملہ ‘ذال’ تک جا پہنچے گا۔
*جلیل* وہ شخص ہے جسے دیکھ کر لوگ احتراما کھڑے ہو جائیں۔
*ذلیل* وہ شخص ہے جسے دیکھ کر لوگ اپنی جیبیں اور راستہ بدل لیں۔
خدا کسی کو ‘جلیل القدر’ بنائے تو اس کے القابات بڑھ جاتے ہیں، اور اگر کوئی اپنی حرکتوں سے ‘ذلیل’ ہو جائے تو اس کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ (جو یہاں بیان نہیں کیے جا سکتے) بڑھ جاتے ہیں۔
*دفتر* میں باس جب آپ کی تعریف کرے تو آپ خود کو *”جلیل المرتبت”* سمجھتے ہیں، لیکن وہی باس جب مہینے کے آخر میں کام مکمل نہ ہونے پر سب کے سامنے "کلاس” لے، تو وہ لمحہ خالصتاً *ذلیل* ہونے کا ہوتا ہے۔
*گھر* میں مہمانوں کے سامنے ابا جب آپ کا تعارف "ہونہار بیٹے” کے طور پر کرائیں تو آپ *جلیل* ہوتے ہیں، لیکن مہمانوں کے جاتے ہی جب وہ آپ کو آپ کا نکما پن یاد دلائیں، تو وہ "نقطے کی منتقلی” کا وقت ہوتا ہے۔
عربی میں **جلیل** کا مطلب ہے "بہت بڑا”۔ اور ہمارے معاشرے میں اکثر "بہت بڑے” لوگ ہی وہ کام کر جاتے ہیں جو کسی عام آدمی کو *”ذلیل”* کروانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ گویا یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ تھوڑی سی لغزش ایک کو دوسرے میں بدل دیتی ہے۔
انسان کو ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ وہ *جلیل* رہے یا کم از کم ‘ذال’ کے نقطے سے بچا رہے۔ کیونکہ ‘ج’ کا نقطہ بوجھ نہیں بنتا، مگر ‘ذ’ کا نقطہ جب سر پر پڑتا ہے تو پوری شخصیت کو ہی مٹی میں ملا دیتا ہے۔

