از:مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی
ناظمِ تعلیمات:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر (راجستھان)
ماہِ محرم، اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسی مبارک مہینے کی دسویں تاریخ کو یومِ عاشورہ کہا جاتا ہے، جو نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ مجموعی انسانی تاریخ کا ایک مقدس اور تاریخ ساز دن ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ ربانی ہے:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ(سورۂ توبہ: 36)
ترجمہ: "اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب میں (یعنی لوحِ محفوظ میں) اس دن سے بارہ ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔”
محرم الحرام انہی چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں حرمت، عظمت اور احترام حاصل ہے۔ اس دن کی فضیلت اس بات سے بھی نمایاں ہے کہ یہ انبیائے کرام علیہم السلام کے کئی یادگار اور نجات و فلاح کے واقعات کا دن ہے۔
یومِ عاشورہ،انبیائے کرام کے ساتھ پیش آئے اہم واقعات:
٭ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ اسی دن قبول ہوئی۔
٭ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر اسی دن ٹھہری۔
٭ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی دن نمرود کی آگ سے سلامت نکلے۔
٭ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات اسی دن ملی۔
٭ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے اسی دن باہر آئے۔
٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور رفع آسمانی بھی اسی دن ہوا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی یاد میں یہود یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اس دن روزہ رکھا اور فرمایا:
"نَحنُ أحقُّ بمُوسىٰ منكم” (بخاری: 2004)
ترجمہ: "ہم حضرت موسیٰ سے تم سے زیادہ قریب ہیں۔”
عاشورہ کا روزہ،ایک فضیلت مند عمل:
نبی کریم ﷺ نے اس دن کے روزے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی:
"صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللّٰهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ”(صحیح مسلم: 1162)
ترجمہ: "میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یوم عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”
مزید فرمایا:
"لَئِنْ بَقِيتُ إِلَىٰ قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ”(مسند احمد: 2154)
ترجمہ: "اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو 9 محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔”
علمائے کرام نے اس حدیث کی روشنی میں لکھا ہے کہ دس محرم کے ساتھ 9 یا 11 محرم کو بھی روزہ رکھنا مستحب ہے تاکہ یہود کی مشابہت نہ ہو (شرح النووی علیٰ مسلم: 8/14)۔
واقعۂ کربلا،حق و باطل کے درمیان ابدی لکیر:
یومِ عاشورہ کی سب سے بڑی شناخت تاریخِ اسلام میں 61 ہجری کو پیش آنے والا واقعۂ کربلا ہے، جہاں نواسۂ رسول ﷺ، جگرگوشۂ بتول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے جانثار رفقاء کے ہمراہ دینِ حق کی بقا، شریعتِ مصطفیٰ کی سربلندی، اور ظلم و استبداد کے خلاف بے مثال قربانی پیش کی۔
یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ:
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
(ڈاکٹر اقبال)
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں یزید کے جابرانہ اور فاسق اقتدار کے آگے جھکنے کے بجائے حق پر ڈٹ کر تاریخ انسانی کو حق و صداقت کا ایسا مینارِ نور عطا کیا، جس سے قیامت تک باطل پر لرزہ طاری رہے گا۔
یوم عاشورہ کا پیغام۔استقامت، قربانی اور صبر:
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ:
حق کے لیے کھڑے رہنا ایمان کا تقاضا ہے، چاہے جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
دنیاوی جاہ و منصب کے مقابلے میں دین کی سربلندی مقدم ہے۔
باطل سے مصالحت نہیں، بلکہ استقامت کے ساتھ مقابلہ ہے۔
ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے، اور حسینیت کا تقاضا یہ ہے کہ سچ کا علم بلند رکھا جائے۔
اہل بیت اطہار،ایمان کا حصہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"أُذَكِّرُكُمُ اللّٰهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي”
(صحیح مسلم: 2408)
ترجمہ: "میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرے اہلِ بیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔”
اسی لیے اہل بیت کی محبت، ان کی عزت و عظمت، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہر مسلمان کے ایمان کا جزو لاینفک ہے۔
آج کا تقاضا،حسینی کردار اپنائیں:
ہمارا فرض ہے کہ یوم عاشورہ کو صرف تاریخی سانحہ کے طور پر یاد نہ کریں، بلکہ اس دن کی روح کو سمجھیں:
جب جب ظلم بڑھے، تو حسینیت کی شمع روشن ہو۔
جب کبھی باطل اپنی چالیں چلے، تو حق کے پرستار امام حسین کے کردار سے روشنی لیں۔
اور جب بھی ایمان متزلزل ہونے لگے، تو میدانِ کربلا کی استقامت و صداقت کو سامنے رکھیں۔
بارگاہ رب ذوالجلال میں دعا ہے کہ اے مالک مولیٰ! ہمیں امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کی محبت نصیب فرما،
ہمیں حق پر قائم رہنے کی توفیق دے،
باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ عطا فرما،
اور ہمیں یومِ عاشورہ کے انوار و برکات سے مالا مال فرما۔
آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم-
