لکھنؤ: 22 جون (پریس ریلیز): راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور نہایت بابرکت مہینہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں دین اسلام کی سربلندی، حق و صداقت پر قائم رہنے اور باطل کے سامنے نہ جھکنے کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور بزرگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو محرم الحرام کی تاریخی اہمیت اور واقعۂ کربلا کے عظیم اسباق سے روشناس کرائیں تاکہ نوجوانوں کے دلوں میں دین اسلام کی محبت اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا جذبہ پیدا ہو۔
محمد آفاق نے کہا کہ حسین ؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اسلام کی بقا اور حق کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن ظلم و جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ واقعۂ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مسلمان ہر حال میں سچائی، انصاف، دیانت داری اور اسلامی تعلیمات پر قائم رہے، خواہ اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اسلام سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اپنی عملی زندگی میں اسلامی احکامات، اخلاقیات اور سنت نبویؐ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور اپنے کردار سے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں۔
محمد آفاق نے مزید کہا کہ جمعہ کے روز یومِ عاشورہ کی بڑی فضیلت ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس دن روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ ؐ نے 9 اور 10 محرم یا 10 اور 11 محرم کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس مبارک موقع سے فائدہ اٹھائیں، روزہ رکھیں، توبہ و استغفار کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی، اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کی خیر و برکت کے لیے دعائیں مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کا پیغام اصلاحِ معاشرہ، اخوت، بھائی چارہ، اتحاد اور انسانیت کی خدمت کا بھی درس دیتا ہے۔ آج کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم فرقہ واریت، نفرت اور باہمی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ملک کی ترقی، امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کے لیے مل کر کام کریں۔ آخر میں محمد آفاق نے تمام اہلِ وطن سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے مقدس مہینے میں امن، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کو فروغ دیں اور ملک کی خوشحالی، سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔
