محمد وسیم راعین محمدی

دعا مطلوب کے حصول اور مکروہ سے بچنے کے لئے نہایت ہی مؤثر ہتھیار ہے ۔ دعا عبادت بھی ہے اور دنیا وآخرت کا خیر سمیٹنے کا بہترین ذریعہ بھی ۔

اللہ تعالی نے دعا کرنےکا حکم دیا ہے اور قبول کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے : {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} [غافر: 60] ’’اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم پہنچ جائیں گے‘‘۔

شریعت ہمیں اپنی ضرورت کی تمام چیزیں اللہ تعالی سے ہی مانگنے کی ترغیب دلاتی ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ حَاجَتَهُ كُلَّهَا حَتَّى يَسْأَلَ شِسْعَ نَعْلِهِ إِذَا انْقَطَعَ»(سنن الترمذي:3604)’’ تم میں سے ہر شحص کو اپنی تمام ضرورتیں اپنے رب سے مانگنی چاہیے حتی کہ اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کے بارے میں بھی اسی سے سوال کرنا چاہیے‘‘۔

مانگنے اور سوال کرنے سے انسان ناراض ہوتا ہے لیکن اللہ تعالی کا معاملہ ایسا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نہ مانگنے والے سے ناراض ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«إِنَّهُ مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ»(سنن الترمذی:3373) ’’جو اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ اس سے ناراض اورناخوش ہوتاہے‘‘۔

شریعت نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے تمام شعبو ں سے متعلق تعلیم دی ہے ۔ دعا کے آداب اور طریقے بتائے ہیں، ان امور سے دور رہنے کی تاکید کی ہے جو دعا کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور ایسے امور سے گریز کرنے کا حکم دیا ہے جو دعا کرتے ہوئےمناسب نہیں ہیں ۔

انہیں امور سے جو دعا کے آداب کے برخلاف اور توحید کے تقاضے کے منافی ہے‘دعا کرنے والے کا دعا میں اس قسم کے الفاظ کا استعمال کرنا ہے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو معاف کردے اور چاہے تو بخش دے ۔آئیے اس کے سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری کیا رہنمائی کی ہے دیکھتے ہیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمِ المَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ "(صحيح البخاري:6339،صحيح مسلم:2679)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ ” یا اللہ ! اگر توچاہے تو مجھے معا ف کردے ۔ میری مغفرت کردے “ بلکہ یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے‘‘۔

دعا میں اس قسم کا صیغہ کا استعمال کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے ایک تو یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کو کسی کام کے کرنے پہ کوئی مجبور کرتا ہے ۔یہ خالق میں نقص ہے کہ یہ تصور کیا جائے کہ کوئی کام اس سے مجبوری میں ہوتا ہے ۔

دوسری وجہ جس سے مذکورہ صیغہ کا استعمال کرنا حرام ہے وہ یہ ہے کہ اس قسم کے صیغے کے ساتھ دعا کرنا رغبت کی کمی ‘ مطلوبہ چیز کے مانگنے میں اہتمام کی قلت اور اللہ تعالی سے بے نیازی کو بتلاتا ہے ۔لہذا ایسے تمام ہی صیغوں سے گریز کرنا چاہیے ۔

دعا تو یقین کے ساتھ کرنا چاہیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ»(سنن الترمذي:3479)’’تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی، اور (اچھی طرح) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا‘‘۔

اللہ تعالی ہمیں دعا کے آداب کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے دعا کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے