ڈاکٹر شارب مورانوی، بارہ بنکی یوپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے ہر زِندگی کو اُس کی ضروریات کے مطابق کُچھ نعمتیں عطا کی ہیں وہ نعمتیں اُسے بغیر مانگے دی گئی ہیں مثلاً انسان کی آنکھیں کِسی بازار کی مرہون منت نہیں ہیں یہ اللّٰہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں افضل ترین نعمت ہے اِن بیکراں نعمتوں میں ہمارا اور آپ کا وجود بھی شاملِ حال ہے یہ نعمت وہ ہے جس کے بارے میں اہل زبان فصیح اللسان و بلاغ الکلام حضرات بھی کلام کرنے سے قبل کئی بار اپنی پیشانی کا پسینہ پونچھتے نظر آتے ہیں اِس سے ظاہر ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے جو بھی عطا کیا ہے یہ اُس کا کرم ہے اُس کی قدرت کا جلوہ چار سو نظر آتا ہے یعنی کرسئ عرش میں اسی کے فضل کا رنگ ہے میزان پر اسی کے عدل کا ڈھنگ ہے رات میں اسی کا جلوہ و آہنگ ہے طبقات فلک پر اسی کا پرتو ہے اِس عرض و سماں میں اسی کی رو ہے شمس و قمر میں اسی کی ضو ہے ستاروں کے چراغوں کی ضیا میں اگر آسمانوں پر نظر کریں تو اسی واجب الوجود کا جلال نظر آتا ہے اور اگر اُسے معرفتِ توحید سے سمجھیں تو اسی کا جمال نظر آئے گا۔ المختصر خلوت میں وہی جلوت میں وہی، رزم میں وہی بزم میں وہی، حال میں وہی خال میں وہی، بدر میں وہی ہلال میں وہی، جلال میں وہی جمال میں وہی، ماہ میں وہی سال میں وہی، سنگ و در میں وہی دشت و در میں وہی، سمر میں وہی شجر میں وہی، عصر میں وہی خبر میں وہی، سفر میں وہی حجر میں وہی، ادھر بھی وہی اور ادھر بھی وہی، کائنات کے ذرّے ذرّے میں ہے جِسے سب اللہ کہتے ہیں۔ یہاں کا ہر ذرہ واجب الوجود کی تسبیح میں مبتلا ہے اور ذرہ ذرہ اسی واجب الوجود کی تسبیح کر رہا ہے اور اُسی کو درود و سلام پیش فرما رہا ہے۔ اب یہاں پر اگر آپ جیسے قارئین نہ ہوتے تو آپ کی منصفانہ فکر کی عدالت نہ ہوتی، اگر عدالت نہ ہوتی تو معرفت کے لیے یہ روحانی اور نورانی تبرک آپ کے سامنے پیش کرنے کی جسارت بھی نہ ہوتی۔ یہ تو توحید کے تعارف میں دو تین شکستہ الفاظ تھے اب ان کی طرف چلیں جو کہ محرم اسرار توحید ہیں اور میں یہ بات آپ کی خدمت میں بڑی ذمّہ داری سے کہہ سکتا ہوں چونکہ ہمارے قارئین کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں یہاں سے روح کی غذا رزق کی معرفت مل جائے اس لیے کہ اگر رزق کی معرفت نہیں ہے تُو کُچھ حاصل نہیں۔ آپ اکثر و بیشتر دیکھتے ہیں کہ ہمارے پاس گاڑیاں ہیں بینک بیلنس ہے اور یہ بھی صاحبان نظر کے لیے جملہ حاضرِ خدمت ہے کہ سماعت حسن نظر رکھنے والی شخصیات سے عرض کرنا چاہتا ہوں، میرا یہ جملہ زائل سماعت نہیں ہوگا مُجھے یقینِ کامل ہے اسے قبول فرمائیے گا کہ آج سب کچھ ہمارے پاس ہے بینک بیلنس ہے ہمارے پاس گاڑیاں ہیں ہمارے پاس بنگلے ہیں ہمارے پاس پراپرٹیز ہیں ہمارے پاس بچے صحت یاب ہیں لیکن ہمارے پاس صرف ایک شے نہیں ہے اور وہ شے ہے سکون جو ہمیں میسر نہیں ہے۔ تو کہیں نہ کہیں ہمارے پاس کوئی کمی ہے کہ جس کمی کو ہم پورا نہیں کر پا رہے ہیں تو یاد رکھیے گا سکون وہاں ہوتا ہے جہاں روح کو رزق مل رہا ہوتا ہے، کاش کہ میرا جملہ واضح ہو جائے! تو میں کہنا چاہ رہا ہوں اور جہاں روح کا رزق نہیں ملتا وہاں پر سکون نہیں ہوتا اسی لئے اکثر اوقات انگریز کبھی اِس گھاٹ پر کبھی اُس گھاٹ پر سکون کی تلاش میں دوڑتے پھرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نظر انسانی قبیلوں پر جائے تو وہاں انسانیت کا فقدان نظر آرہا ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انسان جسم کے رزق کی تلاش میں زندگی خراب کر رہا ہے لیکن وہ جو روح کی غذا ہے اس کا متلاشی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں سے ہمیں روح کی غذا کی ضرورت ہے وہ غذا ہمیں توحید سے مل سکتی ہے۔ لاکھوں درود و سلام اُن ذوات مقدسہ کے لیے کہ جن کے وجود کی گواہی سے آج تک حیاتِ لا الہ الا اللہ کا سفر جاری و ساری ہے۔
