محمد یوسف رحیم بیدری
بیدر،کرناٹک 
جناب نجم باگ کے افسانے دلچسپ اورتجسس سے بھرے ہوتے ہیں۔ سطر سطر تجسس نہ سہی ، ایک ایک پیراگراف دراصل تجسس کی دنیالئے ہوئے ہوتاہے۔ آپ بھلے ان کے افسانوں کے جملوں پر سے گزرجائیں گے لیکن ان کی کہانی سے سرسری طورپر گزر نہیں سکتے۔ یہ کہانیاں دامن اور دل کادامن دونوں کھینچ لیتی ہیں۔
’’انحراف‘‘ کہانی کھلتی دھیرے دھیرے ہے۔ شادی کی شاہ خرچیوں یا زندگی کی ضرورتوں کو کم کرنے پر آمادہ کرتی ہے لیکن آخرتک بھی اپناسرا پکڑنے نہیں دیتی۔ ایسی کہانیاں ناقدین سے بھی اَن چھوئی رہ جاتی ہیں۔ زندہ رہ جانے والا مرکزی کردارخود کو بچاتے ہوئے کہانی میں سانس لیتاہے۔ کئی ایک واقعات آس پاس کھڑے ہیں اور نجم باگ نے انہیں بیان نہیں کیا۔ اس کو قاری سمجھ لیتاہے۔
’’استقامت ‘‘میں کہانی ہے لیکن نجم باگ اپنی کاٹ اور کرافٹ سے محروم ہیں۔استقامت یہ لفظ پچھلی چار دہائیوں سے اپنے وقت کا انتظارکررہاہے ۔ اُسے یقین ہے کہ کوئی نہ کوئی اس کے پیچھے چھپے راز اور اس لفظ کی معنویت اور خوبیوں کوسامنے لے آئے گالیکن نجم باگ  ایسانہیں کرسکے۔ دیکھناہے کون آگے اس لفظ کوبرتے گااوراس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو انصاف میں بدلے گا۔
’’جبر ‘‘تین بہنوں میں سے بڑی بہن کے ایثار اور اس کی قربانی کی کہانی کو کچھ اس طرح سے باندھاہے کہ کہانی کہہ بھی رہے ہیں اور نہیں بھی ۔ نجم باگ کی کہانیاں اشاروں کنایوں کی کہانیاں ہیں۔ پوری طرح خود کو بتانے سے عار کرتی ہیں۔ گھر میں کچھ نہیں ہے اسکے باوجود اپناآپا چھپاکر رکھنے میں ملکہ حاصل ہے۔ ایسی ہی کہانی ’’جبر ‘‘ ہے۔ لطف آتاہے۔ جدیدانداز کی کہانیاں پسند کرنے والوں کے لئے لطف پنہاں ہے۔
’’رفق ‘‘کہانی کیاہے ، یہ جدید کہانیوں کے رسیا یا جدیدیت کے ناقدین جانیں۔ ایک قاری کی حیثیت سے جب اس کہانی کوپڑھاجاتاہے تو اس کوایک دفعہ نہیں بلکہ دوتین دفعہ پڑھنا پڑتاہے اورا س دوتین دفعہ پڑھنے والی جرأت اور ذوق سے جو کہانی جنم لیتی ہے وہ پہلی والی کہانی سے علیحدہ اور نمایاں ہوگی۔ دوتین پیراگراف تو اس قابل ہیں کہ وہ خود ایک دلچسپ کہانی ہیں۔ جس کی موجودگی میں ’’رِفق ‘‘ نامی یہ افسانہ اونچی اڑان بھر نے میں کامیاب ہے۔ لفظیات بھی وہ ہیں جن پر باشعور اور باعلم ہونے کایقین گزرتاہے۔میں تو کہوں گاکہ اس عہد کو نجم باگ کی کہانیاں پڑھنا چاہیے۔
’’رِیا‘‘کی کہانی منٹوکی یاد بھلے نہ دِلائے لیکن یہ وہ کہانی ہے جو سب کچھ کہہ کر بن کھلی کلی کی طرح خاموش ہی رہتی ہے۔ ’’پھر ہواکیاتھا؟‘‘ شرفاء یہی تو پوچھیں گے ، سو ’’ریا‘‘ نامی یہ افسانہ بھی کھلاپڑا ہے اور بند بھی ہے۔ جب کہ ہم بچوں کی حیرت زدگی لئے نجم باگ کے قلم سے رقم کردہ کہانیاں پڑھتے رہتے ہیں ۔ ایک ختم ہوتی ہے تودوسرے کی طر ف خود بخودچلے آتے ہیں۔
’’شوکاز ۔ ۱‘‘اور ’’شوکاز۔ ۲‘‘ ان دوافسانوں میں دوسرا افسانہ کھل جاتاہے۔ پہلے افسانے میں شجرممنوعہ کہلانے والی عورت ضرور ہے لیکن دوسرا افسانے کی اس سطر کو پڑھیں ’’تمہیں یہ عزم وحوصلہ زندہ رکھناہے کہ تمہیں کوسب کی علم برداری کرنی ہے اور تم ہی کو ظالموں کے چھکے چھڑاناہے ‘‘ اس سطر کے ساتھ افسانہ ختم ہوجاتاہے اور تب کہیں جاکرافسانہ ’’شوکاز۔۲‘‘ کی پوری کہانی سمجھ میں آجاتی ہے۔نجم باگ کے افسانے افسانوی ذوق مانگتے ہیں۔ صرف کہانی کی بنیاد پر نہیں چلتے ۔اردوادب میں ایسا بہت کم ہواہے کہ کہانی ذوق کے حساب سے اپناآپا دِکھائے۔ شعور کی گتھیاں کھولے۔ نجم باگ کے افسانوں کی کہانیاں یہی کچھ کرتی رہتی ہیں۔اور بلاکا لطف دیتی ہیں۔ مگر ان کی کہانیاں اوسط درجے کے قاری کے لئے بورنگ کے سوا کچھ نہیں ہوسکتیں۔
افسانہ ’’ترجیح‘‘ میں نجم باگ کاکردار قلمکار سے کہہ رہاہے ’’اب دیکھونا کیسے کیسے ہنگامہ خیز مواقع تمہیں میسر ہورہے ہیں،غزہ الگ ، الیکشن الگ، ہجومی تشدد الگ ، کرپشن الگ ،موضوعات کی باڑھ آئی ہوئی ہے۔ اور تم فقط اندرون کانوحہ روتے رہتے ہو،تمہاری خلاقیت وحساسیت کیوں ٹھٹھر کر رہ گئی ہے ‘‘یہ سوال اس عہد کا سب سے بڑا سوال ہے۔ 80اور 90کی دہائیوں میں لکھنے والے اب خاموش ہوچکے ہیں ۔ خلاقیت اورحساسیت اہم ہے اور تخلیق کار پر سوار اِن دونوں فرشتوں نے اکیسویں صدی کے آتے آتے دم توڑ دیاہے۔شاید ان فرشتوں کی عمر ہی اتنی ہوگی۔ کئی شہروں میں قدیم لکھنے والوں کے قلم زنگ آلود ہی نہیں ہوئے بلکہ وقت نے ان قلموں کوتوڑ دیاہے یاپھر وہ اپنے اندر کامصنف کہیں کھوچکے ہیں۔ نجم باگ کے افسانوں کے مکالمے کہاں سے شروع ہوتے ہیں، کون ساکردار کون سے مکالمے بول رہاہے ، اس کاپتہ نہیں چلتا۔ وہ خود شاید ایسا ہی چاہتے ہیں یاپھر ان کے افسانوں کوٹریٹ کرنے کایہی طریقہ ہے ۔  یہ طرز’’ترجیح‘‘ میں بھی نظر آتا ہے۔افسانہ ’’وفور‘‘ ایک دو کہانیوں کے ساتھ بندھااور گندھا ہواہے۔ افسانہ ’’وہن‘‘ گویا کردار کی خودکلامی ہے۔ اورافسانہ نگار کی زندگی کاعکس بھی جیسے رقم کردیاگیاہے۔
اب ہم افسانوں کی لفظیات کی طرف آتے ہیں۔ تڑپڑایا( انحراف)پھڑپھڑایا کی نسبت سے استعمال کیاہوگا۔بارش اپنے عروج کی طرف رواں ہے (ترجیح ) کہنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بارش ، ہوا ، سورج وغیرہ کاکوئی عروج نہیں ہوتا(سورج کاوقتِ زوال ضرور ہوتاہے)۔ ’’بے فکر ابنارکھاہے ‘‘جیسے جملے مخصوص علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ٹھسکہ لگا(افسانہ ۔ وفور)بھی اسی علاقے میں شامل ہے۔ ضمنی فکرمندی اچھی ترکیب ہے۔  بہرحال نجم باگ نے اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر اکرام باگ کی طرح افسانوی دنیا کے چہروں کو نوکیلے قلم اور طرز جدید سے رقم کیاہے۔اب یہ پتہ نہیں کہ اس تخلیق کے دوران وہ کس کرب سے گزرے ہیں لیکن ایسا لگتاہے کہ ایک کہانی مسلسل کہی جارہی ہے ۔ اور پڑھنے والا پڑھ رہاہے۔ الف لیلہ کا جدید انداز قابل مبارک باد ہے لیکن حیرت یہ ہے کہ ادبِ اسلامی کی بات کرنے والے قلمکار نے ہشت پہلو زندگی بیان کرنے کی سعی کی ہے لیکن اس میں عبادت واقامت کا پہلو عنقا ہے۔ ہوسکتاہے کہ سابقہ کہانیوں میں انھوں نے دین ِ حنیف کی حقانیت اور اس کی اقامت کی بات کی ہو۔ یا ایسا نہیں ہواہے تو آئندہ دیکھاجائے گاان شاء اللہ ۔ہم کیاکہیں ، خود نجم باگ ہم سے زیادہ اپنے فن اور اسکے موضوعات کے بارے میں باخبر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے