مسرت جہاں

             حج صرف ایک عبادت نہیں،ایک ایسا روحانی سفر ہے جس میں دنیا کے ہر کونے سے آنے والے لاکھوں مسلمان ایک ہی لباس، ایک ہی مقصد اور ایک ہی جذبے کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں ۔رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے تمام فرق مٹ جاتے ہیں اور انسانیت کا ایک عظیم منظر دنیا کے سامنے آتا ہے۔ مگر اس روحانی اجتماع کے پس منظر میں ایک اور حققیقت بھی موجود ہوتی ہے، اور وہ ہے لاکھوں انسانوں کی کی حفاظت، سہولت اور رہنمائی کی بھاری ذمہ داری۔ اس سال سعودی حکومت نے حج بیت اللہ کے موقع پر جس اعلیٰ درجے کے منصوبے، انتظامی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر کے مبصرین اور حاجیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ بلاشبہ حج 2026 کے انتظامات حالیہ برسوں میں بہترین انتظامات شمار کئے جا سکتے ہیں۔

              اس مرتبہ سعودی حکومت نے حاجیوں کی سہولت کو محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک امانت کے طور پر نبھانے کی کوشش کی ۔ شدید گرمی، لاکھوں افراد کی موجودگی اور مسلسل نقل و حرکت جیسے چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ ہر سطح پر حاجیوں کے آرام اور تحفظ کو اولین ترجیح دی گئی ۔مکہ مکرمہ سے لے کر منٰی،عرفات اور مذدلفہ تک ہر مقام پر انتظامات میں ایک واضح سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت دکھائی دی۔

           خاص طور پر اس سال چند جدید ٹیکنالوجی کا استعمال توجہ کا مرکز رہا ۔مصنوعی ذہانت، جو کبھی صرف سائنس فکشن کہا نیوں کا حصہ سمجھی جاتی تھی، اب حجاج کرام کی خدمت میں مصروف نظر آئی۔ ہجوم کی نگرانی، راستوں کی صورتحال کا جائزہ، مختلف مقامات پر افراد کی تعداد کا اندازہ اور ممکنہ خطرات کی بر وقت نشاندہی جیسے کام جدید نظاموں کے ذریعے انجام دئے گئے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ٹیکنالوجی انسان کی جگہ نہیں لے رہی بلکہ انسان کی خدمت کو زیادہ موئژبنا رہی ہے۔

ہزاروں سی سی ٹی وی کیمرے اور فضائوں میں پرواز کرتے ڈرون صرف نگرانی کے آلات نہیں تھے بلکہ لاکھوں جانوں کے تحفظ کا حصہ بن چکے تھے۔ان کی مدد سے انتظامیہ ہر لمحہ حالات سے با خبر رہی اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں فوری اقدامات کئے گئے۔اس طرح کے انتظامات نے نہ صرف سیکورٹی کو مضبوط بنایا بلکہ حاجیوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا۔

              اس سال ایک اور نمایاں خصوصیت شدید گرمی سے نمٹنے کے لئے کئے گئے اقدامات تھے ۔سورج کی تپش میں عبادت اور سفر آسان کام نہیں، خصوصاً بزرگوں اور بیمار افراد کے لئے۔ لیکن مختلف مقامات پر نصب جدید کولنگ سسٹم، ٹھنڈی ہوا فراہم کرنے والے پنکھے، پانی کے وافر انتظامات اور لو سے متاثر ہونے والوں کے لئے برف والی جیکٹس نے اس مشکل کو کافی حد تک کم کر دیا۔ کئی حاجیوں نے اپنے تاثرات میں یہ اعتراف کیا کہ گرمی کی شدت کے باوجود انھیں وہ مشکلات پیش نہیں آئیں جن کا انھیں اندیشہ تھا۔

             طبی سہولیات کا دائرہ بھی پہلے سے زیادہ وسیع اور فعال دکھائی دیا۔ڈاکٹروں ،نرسوں اور طبی عملے کی مسلسل موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ انسانی جان کی حفاظت کو کتنی اہمیت دی جا رہی ہے ۔کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری مدد کی دستیابی نے حاجیوں کو ذہنی اطمینان فراہم کیا۔

              ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری محسوس کی گئی۔حج کے دوران چند گھنٹوں میں لاکھوں افراد کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقلی دنیا کے مشکل ترین انتظامی کاموں میں شمار ہوتی ہے ،لیکن اس سال اس عمل میں غیر معمولی نظم و ضبط نظر آیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے حاجیوں نے اپنے تجربات کو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ قرار دیا۔

              حرمین شریف کی خدمت سعودی عرب کے لئے صرف ایک انتظامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم اعزاز اور دینی ذمہ داری بھی ہے ۔گزشتہ کئی دہایئوں سے سعودی حکومت مسلسل حرمین شریفین اور حج کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ مسجد الحرام کی توسیع، جدید ٹرانسپورٹ نظام، پیدل چلنے والوں کے لئے وسیع راستے، جدید طبی مراکز اور سیکیورٹی کے مضبوط انتظامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ حاجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور انتظامی چیلینجز بھی بڑھتے گئے، لیکن سعودی حکومت نے ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے نظام کو جدید بنانے کی کوشش جاری رکھی۔

              آج کا حج پچاس یا ساٹھ سال پہلے کے حج سے بالکل مختلف ہے۔ ماضی میں بہت سے کام انسانی اندازوں اور روایتی طریقوں سے انجام دئے جاتے تھے، جبکہ اب ڈیجیٹل نظام، مصنوعی ذہانت، جدید مواصلاتی ذرائع اور ڈیٹا مینجمنٹ انتظامات کا لازمی حصہ بن چکے ہیں ۔اس سال حج کے دوران ان تمام جدید وسائل کا جس انداز سے استعمال کیا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ مستقبل کا حج مزید محفوظ، منظم اور سہل ہوگا ۔

             یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حج صرف عبادت گزاروں کے اجتماع کا نام نہیں بلکہ یہ دنیا کی سب سے بڑی عارضی انسانی بستی بھی بن جاتا ہے۔چند دنوں کے لئے لاکھوں افراد ایک محدود جغرافیائی علاقے میں رہتے ،سفر کرتے، کھاتے پیتے اور عبادت کرتے ہیں، ایسے میں پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، صحت، بجلی، مواصلات اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں کو مسلسل فعال رکھنا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ اس سال ان تمام شعبوں میں ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ مہارت نمایاں طور پر نظر آئی۔

             حج 2026 نے یہ بھی ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور انسانی خدمت ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی معاون ہو سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت ،سی سی ٹی وی کیمرے اور ڈرونز اگر چہ مشینیں ہیں ،لیکن ان کا مقصد انسانوں کی حفاظت اور سہولیت کو یقینی بنانا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال نے انتظامات میں سرد مہری پیدا کرنے کے بجائے انسانی خدمت کے عمل کو مزید موئثر بنا دیا ۔

          حج کے دوران مختلف ممالک سے آنے والے حجاج کرام کے تاثرات بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں ۔متعدد حاجیوں نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انھیں رہائش ،خوراک ،طبی امداد اور نقل و حمل کے سلسلے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سہولتیں میسر آئیں ۔خاص طور پر بزرگ افراد اور خواتین کے لئے کئے گئے انتظامات کو سراہا گیا ۔

        حج کا اصل مقصد اگر چہ روحانی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے،لیکن بہتر انتظامات اس مقصد سفر کو مزید آسان اور پرسکون بنا دیتے ہیں ۔جب حاجی بنیادی مسائل اور پریشانیوں سے آزاد ہوکر اپنی تمام تر توجہ عبادت پر مرکوز کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو حج کی روحانی کیفیت مزید نکھر کر سامنے آتی ہے ۔

           یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حج 2026 صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں تھا بلکہ جدید انتظامی صلاحیتوں ،انسانی خدمت کے جذبوں اور ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی ایک زندہ مثال بھی تھا ۔دنیا بھر میں بڑے بڑے عالمی اجتماعات منعققد ہوتے ہیں ،مگر لاکھوں افراد پر مشتمل ایسا روحانی اجتماع جس میں ہر فرد کی سلامتی ،سہولت اور عبادت کا خیال رکھا جائے، اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔

         حج کے اختتام پر جب حاجی اپنے اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ صرف عبادتوں کی یادیں نہیں لے جاتے بلکہ وہاں کے انتظامات کے بارے میں بھی رائے قائم کرتے ہیں جنھوں نے ان کے سفر کو آسان یا مشکل بنایا ۔اس سال زیادہ تر تاثرات میں شکر گزاری ،اطمینان اور تحسین کا عنصر نمایاں تھا۔ یہی وہ کامیابی ہے جو کسی بھی انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا اعزاز سمجھی جا سکتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مضمون نگار سیاسی تجزیہ کار اور ماہر تعلیم ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے