
ڈاکٹر ناصبؔ قریشی
ایم بی بی ایس ڈی وی ڈی
(ایم ڈی ) ، سینئر اسکین اسپیشلسٹ گلبرگہ (کرناٹک)
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں صحت وتندرستی ایک انمول نعمت ہے ، جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے ۔ زمانۂ قدیم میں حکیم اور وید جڑی بوٹیوں کے ذریعۂ عام سے بیماریوں کا علاج کیا کرتے تھے ۔ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا گیا میدانِ طب میں بھی ترقی ہوتی گئی ۔ ہندوستانی طریقۂ علاج آیوش ہمارے ملک میں رائج ہوگیا، اُس کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے ۔ حکومت وقت ان کی ترقی کے لئے کروڑہا روپیئے خرچ کررہی ہے ۔ انگریزی طریقہ علاج الوپیتھی کہلاتا ہے ۔ کسی مصدقہ و مسلمہ یونیورسٹی سے ایم ایم بی ایس کامیاب ڈاکٹر کی سند دنیا کے تمام ممالک میں تسلیم کی جاتی ہے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اور ستّر کے دہے میں ایم بی بی ایس کا شہرئہ کشش یا CRAZE بام عروج پر رہا ہرکس و ناکس اپنی اولاد کو ڈاکٹر یا پھر دوّم انجینئر بنانا چاہتا تھا ۔ ایم بی بی ایس یعنی بیاچلر آف میڈیسن اینڈ بیاچلر اور سرجری کہلاتا ہے ۔ اس کے بعد پوسٹ گریجویشن کو یعنی ایم ایس ، ایم ڈی کہتے ہیں۔ بیرون ملک مثلاً انگلینڈ یا امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ڈاکٹرس کو اوّلین ترجیح دی جاتی ہے ۔ گلف ممالک میں بھی یہی رجحان ہے ۔ آیئے اب اہم اپنے ملک کا جائزہ لیتے ہیں ۔ حال ہی میں شائع شدہ کتاب مسلمس اِ ن انڈیا Muslims in Indiaکے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں صرف ایک لاکھ ایم بی بی ایس مسلم ڈاکٹرس ہیں ۔ 28ہزار بی یو ایم ایس (BUMS)، تین ہزار بی اے ایم ایس (BAMS) اور 40ہزار بی ایچ ایم ایس (BHMS) ڈاکٹرس ہیں ۔ جملہ مسلم ڈاکٹرس دو لاکھ ایک ہزار ہیں ۔ساٹھ اور ستّر کے دہے میں ہمارے ملک جنت نشان میں ڈاکٹرس کی بہت زیادہ کمی تھی ۔ اس مسئلہ میں حل کرنے کیلئے ارباب اقتدار نے ہر صوبے میں میڈیکل کالج قائم کئے ہیں ، ہماری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ میڈیکل کالج قائم ہیں۔ موجودہ حکومت نے ہر ایک ضلع میں ایک سرکاری میڈیکل کالج قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ جن میں چند ایک کارگرد بھی ہیں ۔ گلبرگہ میں مہادیواپا رامپورے (کانگریس ایم پی ) نے ساٹھ کے دہے میں اوّلین میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی جو MRMCمہادایوپا رامپورے کے نام سے موسوم ہوئی ۔ میرٹ کی بنیادوں پر 1973-74 جنتا بیاچ میں ہمارا داخلہ ہوگیا۔ شکریہ الحمدللہ ، اُس وقت ہمارا داخلہ صرف پانچ ہزار ایک سو بیس (Rs. 5,120 Capitasion Fees) روپیوں میں ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا گیا ، آج کل تو پرائیو ٹ میڈیکل کالجوں میں دیڑھ تا دو کروڑ روپیئے وصول کئے جاتے ہیں اور سرکاری کالجوں کی سالانہ فیس میں چھ تا آٹھ لاکھ روپیئے مقرر ہے ۔ غیر معمولی ذہین بچے ہی مفت سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ، انتہائی سخت مقابلہ ہوتا ہے ۔ اس مقابلہ میں آرائی میں شاہین کالج بیدر سب سے ٹاپ پر ہے ۔ الحاج ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب اور کالج کے اساتذہ قابلِ صد تحسین ہیں۔ دورِ حاضر میں میڈیکل کالجس تجارتی فیکٹری بن گئے ہیں ۔NEET PGمیں ارباب اقتدار نے مل کر سب بڑا اسکام کیا ہے۔ 2024ء میں اخباروں اور ٹی وی چیانلوں کے تبصرے اس بات کی گواہ ہیں ۔ پیپر لیک کا معاملہ بھی اُجاگر ہوگیا۔ راتوں رات ایک پیر 30تا40لاکھ روپیوں میں فروخت ہوا ہے بہت سی چھوٹی مچھلیاں گرفتار ہوگئیں بڑی مچھلیاں پس منظر میں چلی گئیں ہیں ۔ طلباء کی زندگیوں اور ان کا مستقبل تاریکیوں کا شکار ہوگیا۔ اوسط درجے کے بچے کہاں جائیں اور کیا کریں ؟ طلباء میں خود کشی کے واقعات میں بھی کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو عقل سلیم عطا کرے ۔ خیر خدا خدا کرکے کسی طرح ایم بی بی ایس کامیاب ہوگئے ۔ دورِ حاضر میں تعلیم یافتہ طبقہ دریافت کرتا ہے کہ صرف ایم بی بی ایس ہے، ایم ڈی یا ایم ایس ہوتو بہتر ہوتا تھا۔ دیگر ابنائے وطن ایم ڈی سے بھی اعلیٰ DMیا Mchسوپر اسپاشالیٹی ڈاکٹر کو پُر اُمید نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ میدان طب میں یہ انتہائی مشکل ترین امتحان ہوتا ہے ۔ ٹاپ اسٹوڈینٹ ایک سو میں چار یا پانچ ہی طلباء کنارے پر پہنچ پاتے ہیں ۔ فیس بھی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ فی زمانہ میڈیکل تعلیم عام آدمی کے بس سے باہر ہوگئی ہے ۔ مہنگی تعلیم کے پیش نظر چند مفادات پرست اداروں نے زبردست مارکیٹنگ کرواکے MBBS IN CHINAکم سے کم فیس کا پُر فریب وپُر کشش نعرہ دے کر اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں ۔ 2004ء تا2010کے دوران اس کا کافی چرچہ ہوا ، بعدازاں روس (Russia) کے علیحدہ ہوئے ممالک میں No Donationکا چکر چل رہا ہے ۔ فی زنامہUKاور بنگلہ دیش بھی اس دوڑ میں شامل ہیں ۔ مندرجہ بالا کالجوں سے ایم بی بی ایس پاس کرنے والے طلباء کا ملک ہندوستان میں آنے پر SCEERINGیا FMGEٹسٹ کامیاب کرنا لازمی ہوتا ہے۔یہ ٹسٹ کافی مشکل ہوتا ہے اس کو کامیاب کرنے کے لئے بسااوقات ایک یا دو سال درکار ہوتے ہیں ۔ دہلی میں رہ کر کوچنگ بھی لینا لازمی ہوتا ہے ، اچھے اچھے لٹک جاتے ہیں ۔ تب کہیں جاکر ان کی ایم بی بی ایس ڈگری بتوسط MCIحکومت ہند تسلیم کرتی ہے۔ بعدازاں یہ ڈاکٹر ملک میں ملازمت یا پی جی کرسکتے ہیں۔ ملک میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء بھی پریشانی کا شکار ہورہے ہیں ۔
آج گلی محلہ میں ایک دو ایم بی بی ایس ڈاکٹرس ضرور مل جائیں گے۔ آر ایم پی اور چھولا چھاپ ڈاکٹرس و آیوش ڈاکٹروں کی بھی بہتات ہے ۔ تاہم ایم بی بی ایس ڈاکٹرس کی اہمیت ان سب میں زیادہ ہے۔
اولین سطور میں تحریر کیا گیا ہے کہ ایم بی بی ایس کے بعد کی منزل بھی کٹھن ہوتی ہے ۔ آج زندگی کے ہر میدان میں مقابلہ ہے ، صرف ڈگری حاصل کرنا بڑا کمال نہیں ہے ۔ طب کے جملہ مضامین پر عبو حاصل کرنا اور مہارت حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ عام بیماریوں کے ادویات ، علاج و معالجہ میں دسترس کی حاضر دماغی و مکمل دیانتداری کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ تشخیص صحیح ہو تو بیماری کا علا ج بھی صحیح ہوگا، صرف پیسہ کمانا زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیئے ۔ وہی ڈاکٹر کامیاب و کامران ہوتے ہیں جو بندگان خدا کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے ہوں ۔ عوام کا اعتما د حاصل کرنا اور اُن کے دلوں میں جگہ بنالینا بھی کمالِ قدرت ہے ، اس کے لئے وقت درکار ہے ۔ صبر و تحمل سے کام لینا پڑتا ہے یہی عوامل پرائیوٹ یا جنرل پراکٹس (GP)پر کامیابی کے جوہر کہلاتے ہیں ۔ سفید کوٹ (APPRON) فرشتوں کی علامت کہلاتا ہے ۔ پیشہ طب مسیحائی کی شان ہے ۔ بیمار اور دکھی انسانیت کی خدمت قربِ الٰہی کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ ڈگری یافتہ ڈاکٹر کبھی بھوکا اور غیروں کا محتاج نہیں رہتا۔
ایم بی بی ایس کے بعد مندرجہ بالا خصوصیات کے حامل خداپر بھروسہ کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ اگر گورنمنٹ جاب مل جائے تو غنیمت جان کر جوائن کرلینے میں عقلمندی ہے ۔ پی جی (PG) کے چکر میں نوجوانی کی عمر ، پیسہ اور وقت برباد کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ہر سال ٹاپر آنے والے بچے اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ صورتِ دیگر کسی بھی نجی اسپتال میں ڈیوٹی کرتے ہوئے خانگی پرکٹس پر خاص توجہ دینا اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انتہائی ذہین بچوں کے لئے بھی MBBS کے بعد آج کل پوسٹ گریجویٹ (PG) میں سرکاری سیٹ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔ دو تین مرتبہ بھی قسمت آزمائی کرنے پربھی سیٹ حاصل نہ ہو تو بہتر ہے کہ مستقر یا قریبی پھر قرعہ میں اپنا مقام بنانے میں عافیت سمجھیں ۔ اگر گورنمنٹ جاب مل جائے تو شکر ربّی۔ بصورتِ دیگر گورنمنٹ سرویس کرتے ہوئے پوسٹ گریجویشن بھی کرسکتے ہیں ، اس کے لئے کم از کم پانج سال سرکاری ملازمت کرنا ضروری ہے ۔ امتحان KPSCکی کامیابی کے بعد ہم گورنمنٹ جاب کرکے چند سالوں بعد PGکرنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ راقم نے 1992 ء میں میسور میڈیکل کالج سے اِن سرویس PGکی حیثیت سے جلد امراض میں PGکامیاب کیا ہے ۔ بفضل تعالیٰ آج ہم سوسائٹی میں عزت و احترام کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ دوران ملازمت دو مرتبہ حج ڈیوٹی کی ، بفضل تعالیٰ حج کی سعادت اور روضۂ رسولﷺ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔
PGکے بعد ہمارے علاوہ گورنمنٹ ڈاکٹرس میں قابل ذکر ڈاکٹر مرزا منیر بیگ ماہر امراض چشم (Eye Spl) موظف ڈسٹرکٹ سرجن ، ڈاکٹر آصف علی سہروری (RMO) ، ڈاکٹر اسلم سعید (MS) ، ڈاکٹر عبدالحق (MD) گرمٹکالی مرحوم ، ڈاکٹر خواجہ نصیر الدین (MD) ، اہلیہ انجینئر سخی سرمست گلبرگہ وغیرہ وغیرہ نے بڑھاپے میں سرکاری تما م سہولیات سے استفادہ کیا۔ پوسٹ گریجویشن بھی کیا ، حج بھی کیا اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد قابل لحاظ پنشن کے حقدار بھی بن گئے ہیں۔ اولاد کی کرم نوازی کی ضرورت پیش نہیں آئی ،خداکا بڑا کرم ہے ۔ آج کل ڈاکٹرس کی تنخواہیں کافی بڑھ گئی ہیں ۔ غیر مقامی ڈاکٹروں کے لئے رہائشی کارٹرس کی سہولت ہے ۔ بیماری کی صورت میں اسپتال کے اخراجات کی پابجائی حکومت کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے ڈاکٹرس خوش قسمت کہلاتے ہیں ۔ تنخواہ کا انکم ٹیکس ادا کرنا لازمی ہے ۔ PFکی یکمشت رقم آخیر میں ملتی ہے ۔ یہ ہماری Official Lifeکہلاتی ہے ۔
مذہب اسلام میں مایوسی کفر ہے ، ناکامی ، کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے ۔ خلوص نیت اور سچی لگن کامیابی کی ضمانت کہلاتی ہے ۔ ہم اپنی زندگی کے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ چند اہم کلمات ضبط تحریر میں لائے ہیں تاکہ سند رہے اور وقت ضرورت کام آوے۔
