تحریر: انشاء وارثی

(مطالعات فرانسیسی زبان و صحافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ)
ہندوستان کا سماجی تانا بانا ہمیشہ تنوع، باہمی ہم آہنگی اور اجتماعی شراکت داری کی بنیاد پر استوار رہا ہے۔ تاہم ایسے دور میں، جب معاشرہ فرقہ وارانہ بے چینی، سماجی کشیدگی اور جذباتی انتشار جیسے چیلنجوں سے دوچار ہے، امن اور پالیسی سازی سے متعلق مباحث میں ایک نہایت اہم آواز اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے، اور وہ ہے خواتین کی آواز۔مختلف برادریوں اور طبقات میں خواتین آج بھی خاندانوں اور محلوں کی سطح پر امن، مفاہمت اور ہم آہنگی کی خاموش سفیر اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کرتی ہیں، لیکن رسمی فیصلہ سازی کے مراکز اور پالیسی سازی کے اداروں میں ان کی شمولیت اب بھی انتہائی محدود ہے۔
مسلم معاشروں میں اس محرومی اور عدم شمولیت کو اکثر روایت اور ثقافتی اقدار کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اسلامی تاریخ ایک بالکل مختلف اور روشن تصویر پیش کرتی ہے۔ اسلام نے خواتین کو کبھی معاشرے کے خاموش تماشائی یا غیر فعال عناصر کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ انہیں علم و دانش، مشاورت، تجارت، رفاہ عامہ اور اجتماعی قیادت کے اہم شعبوں میں فعال شریک کار تسلیم کیا ہے۔اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں ایسی متعدد خواتین موجود تھیں جن کی بصیرت، حکمت اور فکری رہنمائی نے سیاسی فیصلوں، سماجی اصلاحات اور علمی و فکری سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان عظیم خواتین کی مثالیں اس جدید تصور کو چیلنج کرتی ہیں کہ عوامی معاملات اور اجتماعی زندگی میں خواتین کی شرکت گویا دین اور ایمان سے متصادم ہے۔عصر حاضر کے ہندوستان میں، جہاں مکالمے، باہمی اعتماد اور سماجی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، مسلم خواتین امن کے فروغ، سماجی ہم آہنگی اور پالیسی اصلاحات کی مؤثر علمبردار بن سکتی ہیں۔ ان کی شمولیت محض نمائندگی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے کی اخلاقی قوت، جمہوری اقدار اور اجتماعی استحکام کو مضبوط بنانے کا ایک بنیادی تقاضا ہے۔
اسلامی معاشرے میں خواتین کی فعال شمولیت کی بنیادیں خود اسلام کے ابتدائی دور میں ہی نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ حضرت خدیجۃ الکبری بنت خویلد نہ صرف ایک کامیاب اور باوقار تاجرہ تھیں بلکہ نوخیز مسلم معاشرے کی مضبوط ترین پشت پناہوں میں بھی شامل تھیں۔ ان کی دانائی، معاشی خود مختاری اور غیر معمولی حوصلہ مندی نے ایسے دور میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جب مسلمانوں کو شدید مخالفت، ظلم و ستم اور غیر یقینی حالات کا سامنا تھا۔ ان کی حیات مبارکہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اسلام میں خواتین کو قیادت، اثر و رسوخ اور سماجی کردار سے کبھی محروم نہیں رکھا گیا۔
اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابوبکر اسلامی تاریخ کی عظیم ترین علمی و فکری شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ فقہ، قانون، حکمرانی اور دینی معاملات میں صحابۂ کرام،  علماء اور اہل علم ان سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہزاروں احادیث نبویہ اور فقہی آراء ان کے علمی ذخیرے کے ذریعے امت تک منتقل ہوئیں۔ ان کی علمی خدمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ مسلم خواتین تاریخ کے مختلف ادوار میں علمی مرجعیت، فکری قیادت اور عوامی احترام کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہی ہیں۔
تاریخ حضرت فاطمہ الفہریہ کا نام بھی بڑے احترام سے یاد کرتی ہے، جنہوں نے دنیا کی قدیم ترین جامعات میں سے ایک کی بنیاد رکھی۔ ان کا یہ عظیم کارنامہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلم خواتین نے علمی، تہذیبی اور تمدنی ارتقا میں نہایت گہرا اور دیرپا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے صرف تعلیمی ادارے ہی قائم نہیں کیے بلکہ ایسے فکری مراکز کی تشکیل میں بھی حصہ لیا جنہوں نے صدیوں تک علم، تحقیق اور سماجی ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
تاہم اس عظیم اور درخشاں تاریخی ورثے کے باوجود آج بھی بہت سے مسلم معاشروں میں خواتین کی شرکت کو محض نمائشی اور علامتی دائروں تک محدود رکھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بھی مسلم خواتین اکثر سماجی بحرانوں اور ہنگامی حالات کے دوران تو نمایاں نظر آتی ہیں، لیکن ان پلیٹ فارمز اور اداروں میں ان کی موجودگی کم دکھائی دیتی ہے جہاں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ خواہ مقامی کمیونٹی کمیٹیاں ہوں، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں یا امن و مفاہمت کے فروغ کے لیے قائم کیے گئے فورمز، تقریباً ہر جگہ ان کی نمائندگی مطلوبہ سطح سے کہیں کم ہے۔
یہ عدم شمولیت درحقیقت پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ خواتین سماجی حقائق اور مسائل کو ایک منفرد، گہرے اور زیادہ قریبی زاویۂ نگاہ سے دیکھتی اور محسوس کرتی ہیں۔ بے روزگاری، فرقہ وارانہ کشیدگی، تعلیمی پسماندگی، آن لائن انتہا پسندی اور گھریلو عدم استحکام جیسے مسائل کے اثرات وہ گھروں کے اندر اس وقت محسوس کر لیتی ہیں جب یہ موضوعات ابھی عوامی مباحث یا سیاسی گفتگو کا حصہ بھی نہیں بنے ہوتے ہیں۔ ان کے عملی تجربات اور مشاہدات ایسی بصیرت فراہم کرتے ہیں جو مؤثر پالیسی سازی، سماجی اصلاح اور تنازعات کے پائیدار حل کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔
پورے ہندوستان میں بے شمار مسلم خواتین بطور معلمہ، مشیر، سماجی کارکن، قانونی حقوق کی علمبردار اور بین المذاہب ہم آہنگی کی داعیہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ باہمی بداعتمادی اور سماجی تقسیم سے متاثرہ متعدد محلوں اور آبادیوں میں یہی خواتین خاموشی کے ساتھ نفرت اور تعصب کو گھروں میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔ وہ بچوں کو ہمدردی، رواداری اور انسانی احترام کا درس دیتی ہیں، مشترکہ تہذیبی ورثے اور بقائے باہمی کی روایت کو محفوظ رکھتی ہیں، اور بے چینی و اضطراب کے ادوار میں خاندانوں کے لیے جذباتی استحکام کا سہارا بنتی ہیں۔امن کے قیام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں ان کی خدمات اگرچہ ہمیشہ ٹیلی ویژن مباحثوں یا سیاسی پلیٹ فارمز پر نمایاں نہیں ہوتیں، لیکن ان کی اہمیت اور اثر پذیری سے انکار ممکن نہیں۔ درحقیقت معاشرتی استحکام اور پائیدار امن کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار نہایت گہرا، مؤثر اور دیرپا ہے۔
ایسے دور میں، جب سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات اور تفرقہ انگیز بیانیے نئی نسل کے افکار و رویوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، قیادت اور فیصلہ سازی کے میدانوں میں خواتین کی شمولیت پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو گئی ہے۔ مائیں، اساتذہ اور سماجی رہنما خواتین نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت، فکری تشکیل اور سماجی رویوں کی تعمیر میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ چنانچہ پالیسی سازی اور اجتماعی مشاورت کے عمل سے خواتین کو دور رکھنا درحقیقت معاشرے کی ایک نہایت مؤثر اور قیمتی قوت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، جو تنازعات کی روک تھام، مکالمے کے فروغ اور سماجی ہم آہنگی کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ مسلم معاشرے میں خواتین کو بااختیار بنانے کو نہ تو روایات سے انحراف سمجھا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے بیرونی تہذیبی نمونوں کی اندھی تقلید قرار دیا جانا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام اسلام کے ان بنیادی اصولوں کی طرف رجوع ہے جو مشاورت، عدل، انسانی وقار اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی ہیں۔ قرآن مجید بار بار مردوں اور عورتوں دونوں کو یکساں طور پر اخلاقی جواب دہی، فکری تدبر اور شعوری ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہے۔عوامی اور اجتماعی زندگی میں خواتین کی شرکت پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا اکثر دینی تعلیمات کا تقاضا نہیں بلکہ مردانہ بالادستی پر مبنی بعض ثقافتی اور سماجی رویوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسلام کی اصل روح خواتین کو معاشرے کی ایک فعال، باوقار اور ذمہ دار رکن کے طور پر دیکھتی ہے، جو سماجی تعمیر، فکری رہنمائی اور اجتماعی ترقی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ہندوستان کا جمہوری نظام بھی خواتین کی مؤثر شمولیت کے حق میں ایک مضبوط دلیل فراہم کرتا ہے۔ کوئی بھی متنوع اور کثیرالثقافتی قوم اس وقت تک حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کی نصف آبادی کی آوازیں نظر انداز کی جاتی رہیں۔ پائیدار امن اور ہمہ گیر ترقی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کی شرکت ناگزیر ہے، خصوصاً ان افراد اور گروہوں کی، جو نچلی سطح پر معاشرتی زندگی کی تشکیل، تربیت اور استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلم خواتین میں یہ غیر معمولی صلاحیت موجود ہے کہ وہ مختلف برادریوں، نسلوں اور اداروں کے درمیان رابطے اور مفاہمت کا مضبوط پل بن سکیں، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ ان کی قیادت، بصیرت اور صلاحیتوں کو تسلیم کرے اور ان پر اعتماد کا اظہار کرے۔
عصر حاضر کے ہندوستان میں، جہاں سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، مسلم خواتین کی فعال شرکت پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ انہیں محض نمائشی یا علامتی کرداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، جبکہ تعلیم، فلاح و بہبود، امن، سماجی اصلاح اور کمیونٹی کی ترقی سے متعلق اہم فیصلے ان کی شمولیت کے بغیر کیے جا رہے ہوں ۔ وہ صرف تبدیلی سے مستفید ہونے والی فریق نہیں بلکہ خود اس تبدیلی کی مؤثر رہنما اور محرک بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
حقیقی اور دیرپا امن خاموشی، محرومی یا کسی طبقے کو نظر انداز کرنے سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت فروغ پاتا ہے جب معاشرے مکالمے، ہمدردی، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے لیے کشادہ فضا پیدا کرتے ہیں۔ مسلم خواتین کو پالیسی سازی، سماجی اصلاح اور امن کے فروغ سے متعلق ادارہ جاتی ڈھانچوں میں مؤثر طور پر شامل کرکے ہندوستان نہ صرف اسلامی تاریخ کے ایک روشن اور قابل فخر ورثے کو زندہ کر سکتا ہے بلکہ اپنی جمہوری، تکثیری اور ہمہ گیر قومی روح کو بھی مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے