دبستانِ نعت” اور تحقیقی کتاب "سید الشہداء حضرت امیر حمزہ: حیات اور کارنامے، فضائل و مناقب” کی رسم ِ رونمائی
ؓ بنگلور۔ 27؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): جناب عبداللّٰہ نادر عمری کے مطابق ہفتہ کوادبی و ثقافتی ادارہ "محفل” کے زیر اہتمام ڈاکٹر ممتاز احمد خان میموریل ہال بنگلور میں ایک پروقار تقریب "تقریبِ رسمِ رونمائی” کا انعقاد ہوا، جس میں نعتیہ ادب کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی گئی اور دو اہم کتب کی رونمائی عمل میں آئی۔ اس تقریب میں ملک کے نامور شعراء ، ادباء، محققین اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی اور نعتیہ ادب کی ترقی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب کی صدارت معروف شاعر و دانشور ڈاکٹر راہی فدائی نے کی، جنہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ نعتیہ ادب ایمان کی تازگی اور روحانیت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ زوال آمادہ دور کی علامت ہے کہ مدارس کے طلبہ ایسی نعتیہ محفلوں سے دور ہیں۔تقریب میں نعتیہ ادب کے کتابی سلسلے "دبستانِ نعت” اور تحقیقی کتاب "سید الشہداء حضرت امیر حمزہ: حیات اور کارنامے، فضائل و مناقب” کی رونمائی محترم محمد عبیداللہ شریف (مدیرِ اعلیٰ روزنامہ پاسبان بنگلور، صدر انجمن ترقی اردو ہند) اور جناب سید اشرف (نائب صدر انجمن ترقی اردو ہند) کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا جس کی سعادت نیاز الدین نیاز نے حاصل کی، جبکہ حمد باری تعالیٰ جناب منیر احمد جامیؔ اور نعت رسول جناب مبین منور ؔنے پیش کی۔ استقبالیہ کلمات عبداللہ نادر عمری نے ادا کرتے ہوئے مہمانوں کا استقبال کیا اور تقریب کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔کلیدی خطاب ڈاکٹر سراج احمد قادری نے کیا، ڈاکٹر داؤد محسن نے نعتیہ ادب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی شاعری وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تعریف و توصیف میں صرف ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب میں مذہبی بنیادیں مضبوط ہونی چاہئیں اور نعتیہ ادب انسان کی روحانی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔تقریب کے دیگر مقررین میں پروفیسر سجاد حسین، مولانا ڈاکٹر بشیر الحق ویلور، اور قاضی امتیاز رشادی شامل تھے۔ پروفیسر سجاد حسین نے نعت کی بلند مرتبہ پر روشنی ڈالی، جبکہ مولانا بشیر الحق نے منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور نعتیہ ادب کی ترویج کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔معروف نعت خواں مبین منور او مولانا ڈاکٹر ابوالکلام شمسی قاسمی نے اردو زبان کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو کی حقیقی ترویج اسی خطے میں ممکن ہے جہاں پہ یہ زبان پروان چڑھی۔تقریب کے آخر میں ناظمِ اجلاس منیر احمد جامی ؔنے تمام مہمانوں ان کا شکریہ ادا کیا۔
