تحریر/ زین العابدین ندوی

سنت کبیر نگر۔۔۔یوپی

آج کے اس ڈیجیٹل دور میں تقریباً چیزیں بآسانی انتہائی برق رفتاری سے مہیا کر دی جاتی ہیں خواہ وہ کوئی مادی سامان ہو یا پھر اسکریننگ خبروں کی شکل میں اقتدار و حکومت کی حمایت میں بجایا جانے والا ڈمرو ہو ۔۔۔لیکن پس پردہ کچھ باتیں پھر بھی رہ ہی جاتی ہیں جن کا سامنے آنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، جس پر لب کشائی کرنے یا قلم اٹھانے کی ہمت بہت کم لوگ ہی کرتے ہیں، چونکہ اس کا نتیجہ اور ماحصل عوام کے سامنے ہے جہاں عدالت کو بزبان حال بے وزن اور غیر ضروری سمجھ کر گولیوں سے فیصلے کردئیے جاتے ہیں اور پھر خوف وہراس کا ایک ماحول بنا کر سیاسی کھیل کا بازار گرم کیا جاتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے گویا سیاستدان بننے کے لئے criminal ہونا ضروری ہے جس کے بغیر سیاسی کھیل میں شامل ہونا ممکن ہی نہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ایک بڑی تعداد ہے ایسے ممبران پارلیمنٹ کی جن پر سنگین جرائم کی دفعات لگی ہوئی ہیں اور پھر تعجب ہے کہ ایسے مشکوک اور جرم ملوث افراد ملک میں ترقی کی بات کرتے ہیں، سنگین واردات میں ناک تک ڈوبے ہوئے لوگوں کے صلاح وفلاح کے فارمولے بتاتے ہیں ،انسان اور انسانیت دشمن، نفرت وتشدد کے بیوپاری امن و آشتی اور خیر سگالی کا پاٹ پڑھاتے ہیں ۔۔۔۔شرم ان کو مگر نہیں آتی ۔

ملک کی سمپتی سے بنے پوجی پتیوں کے ہاتھوں ملک بک رہا ہے جس کے لئے کسی دلیل اور ثبوت کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ۔۔۔۔جس پر سوال اٹھائے جانے پر کوئی جواب تک نہیں آتا کیونکہ قرض جو چکانا تھا ،دوسری طرف ملک دوسری طاقتوں کے سامنے جھک بھی رہا، چائنہ کا دن بدن قدم جس کے واضح اشارے کر رہا ہے، اب بس ایک ہی کام رہ گیا ہے وہ ہے ملک کا کنگال ہو جانا اور اس کا کلی طور پر دیوالیہ نکل جانا جس کو آپ لٹنا بھی کہہ سکتے ہیں، اور اس کا نمبر آئے گا 2024 پارلیمانی الیکشن کے بعد اگر ہم نے پھر وہی غلطی کی جو پہلے کر آئے ہیں، آج پورا بھارت جس کا نتیجہ بھگت رہا ہے، اب تو گاہے بگاہے وہ بھی آہ و بکا کرتے نظر آتے ہیں جو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے ، لیکن اب بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو قتل پر جشن مناتے ہیں، جبکہ اگلا نمبر انہیں کا ہے ۔۔۔

ایسے میں ہمیں کرنا کیا ہے اس پر غور کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ملک کو مکمل بربادی سے بچایا جا سکے اس کے لئے صرف ایک راستہ ہے جو کیا جا سکتا ہے ورنہ ہم یہ سمجھیں گے کہ سب ہی چور ہیں اپنی اپنی باری کے منتظر ہیں وہ ہے one in one کا فارمولا ساری اپوزیشن پارٹیاں ایک ہو کر ایک سیٹ سے بس ایک ہی امیدوار کو کھڑا کریں کوئی تیسرا امیدوار نہ ہو، یہ کام ساری صوبائی وعلاقائی پارٹیوں کے لئے مشکل ضرور ہے لیکن یہ یاد رکھئے یہی وہ راستہ ہے جس کی مدد سے ملک کو بربادی سے بچایا جا سکتا ہے ایسے میں تمام اپوزیشن پارٹیوں کو اپنے وقتی مفاد کو ملک کے لئے قربان کرنا پڑے گا تاکہ باقی جو کچھ اثاثہ رہ گیا ہے وہ محفوظ رہ سکے ۔۔۔

یقین جانئے اس سے صوبائی سیاسی پارٹیوں کا نقصان بھی نہیں ہوگا اور مستقبل قریب میں ملک کو ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکے گا ۔۔۔۔۔اس کے علاؤہ بس اللہ کی قدرت ۔۔۔والسلام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے