بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): گزشتہ شب بعد نمازِ عشاء، بزمِ تحفظِ اردو کی جانب سے عیدگاہ روڈ، احمد ایجوکیشنل ہال میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کی سرپرستی محمد کلیم مجروح نے کی اور صدارت راہی صدیقی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض حسان ساحر نے انجام دیے۔ محفل کا آغاز حاجی شیخ مطیع اللہ حسینی کی تلاوت سے ہوا۔
محمد کلیم مجروح نے کہا:”مرحوم محمد احمد بھائی قصبہ فتح پور کے ایک معتبر شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ جو بھی ان سے ایک بار ملتا، ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں عوام کے دکھ درد اور مظلوموں کے احساسات کو ہمیشہ اولیت دی۔ احمد بھائی کا انتقال میرا ذاتی خسارہ ہے۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔”
راہی صدیقی نے کہا:”مرحوم محمد احمد میرے ہم عصر تھے۔ وہ بچپن ہی سے بلا کے ذہین اور تیز طرار تھے۔ اگر ان کی مجھ سے ایک روز ملاقات نہیں ہوتی تھی تو وہ بے چین ہو جاتے تھے۔ ان کی یاد ہمارے دل میں ہمیشہ محفوظ رہے گی۔”
احمد سعید حرف نے کہا:”مرحوم ڈاکٹر محمد احمد خوش فکر اور خوش اخلاق شخصیت کے مالک تھے۔ دنیائے ادب میں وہ اپنی الگ پہچان رکھتے تھے۔ ان کے انتقال کو کئی دن ہو گئے ہیں، مگر آج بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے بیچ موجود ہیں، کیونکہ ان کی شاعری اور ان کا اندازِ بیان آج بھی دل میں گھر بنائے ہوئے ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔”
شاداب انور نے کہا:”والد محترم کے اچانک یوں رحلت کر جانے سے میں بہت مغموم ہوں۔ مجھے ان کی کمی تادیر محسوس ہوتی رہے گی۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی بال بال مغفرت کرے۔”
حاجی شیخ مطیع اللہ حسینی نے کہا:”مرحوم محمد احمد خوش اخلاق اور ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ وہ مجھے اکثر اپنی دعاؤں اور نیک مشوروں سے نوازتے تھے۔ ہر کسی سے بڑے خلوص سے ملتے تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔”
حسان ساحر نے کہا:”میں ان سے بہت چھوٹا تھا، مگر شاداب انور کا عزیز دوست ہونے کے ناطے ڈاکٹر محمد احمد مجھے اپنے بیٹے کی طرح ہی مانتے تھے۔ وہ ہمیشہ مجھ سے خوش دلی سے ملتے اور میری ہمت افزائی کرتے تھے۔”
شاعر سلمان فتح پوری نے کہا: "محمد احمد بھائی مجھے بہت عزیز رکھتے تھے۔ اکثر مجھے وہ میرے ہی شعر سنایا کرتے تھے۔ ان کے انتقال سے میں بہت مغموم ہوں۔”
ان کے علاوہ تعزیت پیش کرنے والوں میں حسن نعیم، محمد اقبال منصوری، محمد رضوان، بھورے، محمد عتیق، محمد نیاز، محمد راشد، محمد کاشف، محمد شاہد، محمد وسیم، علی اشہد، ابو درداء وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ آخر میں مرحوم ڈاکٹر محمد احمد کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے