تقویٰ، ایثار اور انسانیت کا عظیم پیغام

سہارنپور (احمد رضا): پیرجی حافظ حسین احمد خانقاہ بوڑیہ نے ملت اسلامیہ کو ایک خاص پیغامِ کے ذریعے بٹایا ہے کہ ۔۔۔۔  قربانی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ سے بندگی کا اظہار ہے۔۔۔۔۔ عیدالاضحیٰ اسلام کا عظیم الشان تہوار ہے جو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت، قربانی اور تسلیم ورضا کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنے، اپنی خواہشات کو قربان کرنے اور تقویٰ و اخلاص اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔۔۔۔۔
قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم عبادت اور شعائر اسلام ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔۔۔۔۔
“اللہ تعالیٰ تک نہ ان جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
اسی لئے قربانی کی اصل روح اخلاص، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔۔۔۔
رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل قربانی کرنا ہے۔ قربانی انسان کے اندر ایثار، ہمدردی، سخاوت اور اطاعتِ الٰہی کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔۔ عیدالاضحیٰ کے مبارک موقع پر مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سنتِ ابراہیمی کو پوری محبت اور اہتمام کے ساتھ ادا کریں۔ قربانی کا جانور حلال، صحت مند اور شرعی عیوب سے پاک ہونا چاہئے۔ اسی طرح جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک، صفائی ستھرائی اور قربانی کے آداب کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے
آج کے دور میں قربانی کے موقع پر صفائی اور نظم ونسق کی خصوصی اہمیت ہے۔ گلیوں، راستوں اور عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ قربانی کی آلائشوں کو مناسب جگہ دفن کیا جائے یا انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق ٹھکانے لگایا جائے تاکہ ماحول صاف ستھرا رہے اور کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ اسلام صفائی، امن اور دوسروں کے آرام کا مکمل خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے قربانی میں غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کو شریک کرنا بھی اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے اس عمل سے معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور باہمی ہمدردی پروان چڑھتی ہے عید کی خوشیوں میں کمزور اور محتاج افراد کو شریک کرنا حقیقی اسلامی جذبہ ہے علمائے کرام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دنوں میں عبادت، ذکر واذکار، تکبیراتِ تشریق، نمازوں کی پابندی اور اخلاقِ حسنہ کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ یہ ایام محض رسم ورواج یا دکھاوے کے نہیں بلکہ اپنے ایمان، اعمال اور تعلق مع اللہ کو مضبوط کرنے کے دن ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان عیدالاضحیٰ کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں اطاعتِ الٰہی، ایثار، تقویٰ، صبر اور انسانیت نوازی کو عام کریں اگر قربانی کی روح ہمارے دلوں میں اتر جائے تو معاشرہ محبت، اخوت اور خیر خواہی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا ممنوعہ جانور کی قربانی ہرگز نہ کی جائے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور عیدالاضحیٰ کو امتِ مسلمہ کے لئے امن، خیر وبرکت اور اتحاد کا ذریعہ بنائے۔ آمین آخر میں انہوں نے فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ میں تعطیل عیدالاضحیٰ کا اعلان کیا کہ 8 ذی الحجہ تا 15 ذی الحجہ مطابق 26مئ تا 2 جون منگل سے منگل تک تعطیل رہے گی حضرت پیر صاحب نے طلباء عزیز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طالبعلم کو چھٹی ہونے سے نہیں بلکہ پڑھنے سے خوشی ہونی چاہئے اصل چھٹی تو جنت کے حصول کے بعد ہی ہے بہر حال چھٹیوں کو مفید سے مفید تر انداز میں گزاریں وقت کی قدر کریں نماز کا اہتمام خصوصیت سے رکھیں گھر والوں کی خدمت کریں سابقہ اساتذہ کرام سے ملاقات کریں بستی میں جماعت آئے اس کی نصرت کریں اور بڑے طلباء اپنی بستی اور آس پاس کی بستیوں حاصل کردہ علم کی روشنی میں دینی تعلیمی کام کو فروغ دیں مفید کتابوں کا مطالعہ اور قرآن کریم کی تلاوت کا معمول نہ چھوڑیں قابل احترام شخصیت اور عالم دین حضرت پیرجی حافظ حسین احمد صاحب نے مدرسہ سے گھر تک اور گھر سے مدرسہ تک کام آنے والی مفید باتیں ارشاد فرمائی  یوم عرفہ اور اعمال حج پر بھی روشنی ڈالی آخر میں آپ کی دعاء پر مجلس کا اختتام عمل میں آیا عملۂ فیض العلوم و طلباء عزیز نے اس روحانی مجلس میں شرکت کرتے ہوئے فیض حاصل کیا !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے