سہارنپور(احمد رضا): قرآنِ کریم کی تلاوت اور ذکر و اذکار کی بدولت لاکھوں اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر پوری دنیا کو روحانی فیض سے مالا مال کر دیا پوری دنیا میں ازل سے ابد تک نظام خدا وندی رائج ہے اور تا قیامت یہی نظم و نسق رائج رہیگا اس حقیقت سے پوری دنیا میں کوئی بھی انکار نہی کر سکتا میرے رب کریم کا فضل و کرم ہے کہ حکم رب ذوالجلال والاکرام مسلسل پہلے کی شکل و صورت میں جاری و طاری ہے آج بھی کلام پاک کی تلاوت اور حمد و ثنا کے ورد سے بڑی بڑی محفلیں آباد ہیں جہاں سے کروڑوں افراد دن رات اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر رہے ہیں پوری دنیا پیار اور محبت کے ساتھ ساتھ حق اور انصاف کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے ، روحانی مجالس نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے بزگوں کی علم و ریاضت کی رمق لگاتار کل کائنات میں موجود ہے ، نانکہ گندیوڑہ میں ایک عظیم الشان دینی روحانی اصلاحی تعلیمی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں علمائے کرام، مشائخ عظام ، حفاظ، ائمہ مساجد اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت فرمائی یہ دینی تعلیمی اصلاحی پروگرام روحانیت، اصلاحِ باطن اور دینی تعلیمات کے فروغ کے حوالے سے نہایت اہم اور مؤثر ثابت ہوا حاظرین محفل نے بڑے اطمینان کے ساتھ دینی اصلاحات سے خد کو روشناس کرایا باوقار مجلس کی صدارت جامعہ ہذا کے صدر اور عارف باللہ حضرت حافظ جمیل احمد نانکوی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی نانکوی ناظم جمعیت علماء سہارنپور نے نہایت عمدگی کے ساتھ انجام دیے۔ پروگرام کے کنوینر الحاج فضل الرحمان رحیمی نانکوی نبیرۂ قطب عالم نے تمام مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کیا اور اختتام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مجلس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز جامعہ کے استاذِ حفظ قاری محمد اعظم کمال رحمانی کی پُرسوز اور دلنشیں تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا جس نے حاضرین کے دلوں کو منور کر دیا۔ اس کے بعد جامعہ کے طلباء نے نعتیہ کلام، نظمیں اور تقاریر پیش کر کے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
اس روحانی مجلس کا ایک اہم مرحلہ وہ تھا جب سلسلۂ رائے پور کے عظیم روحانی پیشوا حضرت شیخ حافظ عبد الستار نانکوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادہ و جانشین حضرت حافظ جمیل احمد نانکوی نے مولانا مفتی رئیس احمد قاسمی دہرہ دون اور حضرت الحاج قاری سعید احمد تڑفوی کو اجازتِ بیعت سے سرفراز فرمایا۔ اس موقع پر حاضرین میں خوشی اور روحانی جذبات کی ایک خاص کیفیت دیکھی گئی۔
مہمانِ خصوصی مولانا مفتی رئیس احمد قاسمی نے اپنے تفصیلی خطاب میں قطبِ عالم حضرت شیخ حافظ عبد الستار نانکوی رحمۃ اللہ علیہ کی تقویٰ، طہارت، عاجزی، انکساری، اخلاص اور اعلیٰ اخلاق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت کو سلسلۂ رائے پور کے بزرگ حضرت شیخ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ سے بے حد محبت تھی اور یہی نسبت ان کی روحانی عظمت کا اہم سبب بنی۔ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت کی وفات کے روح پرور واقعات بھی بیان کیے جنہیں حاضرین نے انتہائی عقیدت کے ساتھ سنا۔
حضرت مولانا حبیب اللہ قاسمی شیخ الحدیث جامعہ کاشف العلوم نے ذکر اللہ کی اہمیت اس کی برکات اور انسان کی روحانی کامیابی میں اس کے کردار پر مدلل خطاب فرمایا۔ ممبئی ملاڑ سے تشریف لائے رحمانیہ مسجد کے امام و خطیب مولانا مفتی شاہد قاسمی نے “تعلق مع اللہ ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے” کے عنوان پر پُراثر گفتگو کی۔ جبکہ مولانا اطہر حقانی ندوی نے ذکر الٰہی کی مجالس میں شرکت کے فضائل اور اجر و ثواب پر روشنی ڈالی۔
پروگرام کے اختتامی مرحلہ میں کے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔ اسی طرح حالیہ مسابقاتی پروگراموں تجوید، سیرت النبی ﷺ اور جنرل نالج کے تینوں فروع میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء کو بھی خصوصی انعامات اور اسناد پیش کی گئیں۔
اس موقع پر متعدد اہم شخصیات نے شرکت فرمائی جن میں قاری محمد اشرف، مولانا سرور عالم قاسمی، مولانا خالد ندوی، مفتی ضیاء الرحمن نانکوی، عثمان ملک، حاجی گل رحمان، قاری مطیع الرحمن، حاجی شفیق الرحمن، مولانا نوید مظاہری، قاری عبد الرحمن سندر پور، قاری محمد فرقان، قاری محمود دھتولی، قاری محمد حسین نیتا جی، حافظ جنید ملک، مولانا مفتی اطہر جمالی قاری محمد سرفراز الحاج ماسٹر توصیف، قاری صداقت، قاری محمد عابد، قاری محمد سلیمان، عظیم محمد کامل، حاجی اکرام، عبدالرحمن انصاری، یعقوب، حافظ یامین سمیت دیگر معزز حضرات شامل تھے۔
پروگرام مہمان خصوصی حضرت الحاج قاری سعید احمد کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ جس میں امت مسلمہ کی فلاح، مدارس دینیہ کی ترقی اور ملک میں امن و بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
