ڈاکٹر عبید الرحمٰن ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی (1952–2026)
امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی (1952–2026)

قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی (1952–2026)، جو "فادر امیر” کے نام سے معروف تھے، 1995 سے 2013 میں اپنے اقتدار سے دستبردار ہونے تک قطر پر حکمران رہے۔ انہیں وسیع پیمانے پر جدید قطر کا معمار سمجھا جاتا ہے۔
حمد یکم جنوری 1952 کو پیدا ہوئے اور 12 جولائی 2026 کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم دوحہ، قطر میں حاصل کی اور 1971 میں برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے گریجویشن کیا۔قطر کے امیر بننے سے قبل وہ وزیرِ دفاع، مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور ولی عہد کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔اس سے بھی بڑھ کر، انہوں نے اپنے ملک کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل کر دیا۔
شیخ حمد کے والد شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی (1932–2016) 22 فروری 1972 سے قطر کے امیر تھے، یہاں تک کہ 27 جون 1995 کو ان کے بیٹے حمد بن خلیفہ نے ایک بغاوت کے ذریعے انہیں اقتدار سے ہٹا دیا۔
اس کے بعد شیخ حمد نے 18 برس تک حکومت کی اور پھر پُرامن انداز میں اقتدار اپنے بیٹے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا۔ اس عرصے میں قطر نے 1996 میں مائع قدرتی گیس (LNG) کی اپنی پہلی کھیپ برآمد کی اور بعد ازاں دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کنندہ بن گیا۔ حمد نے اس دولت کو عالمی اثر و رسوخ میں تبدیل کیا اور اپنے شہریوں کے لیے بے مثال خوشحالی پیدا کی۔
حمد نے بتدریج ملک کے روزمرہ انتظامی امور کی ذمہ داریاں اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ 1995 میں جب شیخ خلیفہ نے اپنے بیٹے کے بعض اختیارات واپس لینے کی کوشش کی تو حمد نے اس وقت اقتدار سنبھال لیا جب ان کے والد سوئٹزرلینڈ میں موجود تھے۔ابتدا ہی سے حمد کو خلیجی خطے اور قطر کے اندر ایک جدیدیت پسند رہنما کے طور پر دیکھا گیا۔ انہوں نے 1999 میں قطر کے پہلے بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے اور ایک آئین کی منظوری دی، جس کی 2004 میں توثیق کی گئی۔
شیخ حمد کے دورِ حکومت میں قطر کی معیشت بیس گنا سے بھی زیادہ بڑھی اور 2013 تک اس کا حجم 199 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
انہوں نے 1996 میں معروف نیوز چینل الجزیرہ کی بنیاد رکھی اور فعال سفارت کاری کے ذریعے قطر کو مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے تنازعات میں ایک اہم بین الاقوامی ثالث کے طور پر نمایاں مقام دلایا۔اس کے علاوہ، انہوں نے عربی زبان کی نشریات کو یکسر نئی شکل دی اور ایک مؤثر بین الاقوامی آواز قائم کی۔انہوں نے قطر فاؤنڈیشن اور ایجوکیشن سٹی قائم کیے تاکہ اعلیٰ درجے کی بین الاقوامی جامعات کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کی جا سکے۔
قطر کے نظامِ تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے باعث انہیں عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کی وسیع قدرتی گیس کی دولت کو بروئے کار لاتے ہوئے ترقی، اصلاحات اور تعلیمی پروگراموں کا آغاز کیا، تاکہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے ایک بلند ہدف کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ان کی قیادت میں خلیجی ریاست نے 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق حاصل کیا، اور یوں پہلی بار یہ عالمی ٹورنامنٹ مشرقِ وسطیٰ میں منعقد ہوا۔
یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ سابق امیر نے معروف اسلامی عالم علامہ یوسف قرضاوی کی ہر ممکن طریقے سے سرپرستی اور حمایت کی۔ وہ 1960 میں مصر سے قطر آئے تھے۔ بعد ازاں انہیں قطری شہریت دی گئی اور امیر کی جانب سے مسلسل تحفظ فراہم کیا گیا۔ علامہ یوسف ستمبر 2022 میں اپنی وفات تک قطر ہی میں مقیم رہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے 2013 میں اپنی مرضی سے اقتدار چھوڑ کر حکومت کی باگ ڈور موجودہ حکمران، اپنے بیٹے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دی تھی ۔
حقیقت یہ ہے کہ شیخ حمد نے اپنی پوری زندگی قطر کی سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی، تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں تبدیلی اور ترقی کے لیے وقف کر دی تھی۔وہ قطر کو توانائی، سفارت کاری اور عالمی معیشت کی ایک طاقتور قوت میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی غیر معمولی خدمات اور بے مثال کامیابیوں کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے