لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی کے سب سے عمر رسیدہ ممبر اسمبلی عالم بدیع اعظمی کا 22 جولائی 2026 کی شب میں انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جماعت اسلامی ہند یوپی مشرق کے امیر حلقہ ڈاکٹر ملک محمد فیصل نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی سیاسی، سماجی، تعلیمی اور رفاہی خدمات کا عرصہ تقریباً 65 سالوں پر محیط ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر جلیل فریدی مرحوم کی قائم کردہ مسلم مجلس میں سرگرم حصہ لیا۔ بعد میں وہ سماجوادی پارٹی میں شامل ہوگئے اور ملائم سنگھ یادو کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ 1996سے وہ اعظم گڑھ ضلع کی نظام آباد سیٹ کی نمائندگی کرتے رہے۔ اسمبلی میں ان کی تقریر بہت توجہ سے سنی جاتی تھی۔ سادگی، ایمانداری اور بے باکی کے لئے مشہور تھے۔ ملت کا درد ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ پرسنل لاء کی حفاظت اور اوقاف کے تحفظ کے لئے بہت فکر مند رہتے تھے۔ انھوں نے بابری مسجد تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اصلاح معاشرہ اور فروغ تعلیم پر زور دیتے تھے اور سیاست میں ہندو مسلم اشتراک کے علمبردار تھے، اسی لئے برادران وطن میں بھی وہ مقبول تھے۔ علم دوست اور مطالعہ کے شوقین تھے، تاریخ پر ان کی اچھی نظر تھی۔ علامہ شبلی نعمانی علیہ الرحمہ کے گاؤں بندول سے ان کا تعلق تھا لیکن ایک زمانے سے شہر اعظم گڑھ میں رہائش پذیر تھے۔ عمر کے آخری حصہ تک مطالعہ کا سلسلہ جاری تھا۔سیاسی گلیارے میں ایک ایماندار، بیلوث، سیاست داں کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ان کے سانحۂ ارتحال سے ایک بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ یقیناً یہ ملک وملت کا ایک عظیم خسارہ ہے۔
امیر حلقہ ڈاکٹر ملک محمد فیصل نے پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

مذکورہ اطلاع جماعت اسلامی ہند، یوپی مشرق کے شعبہ میڈیا کے ذریعہ جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے