بتاریخ 17 ستمبر 2026ء بروز جمعرات، بعد نمازِ مغرب مسجد اہل حدیث موضع نکتھر دیوریا میں ایک بامقصد دینی و دعوتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں اہلِ قریہ کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے شرکت کی۔
پروگرام کا مقصد قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنا، معاشرے میں دینی شعور بیدار کرنا اور بالخصوص نماز، اولاد کی تربیت، پردہ اور اسلامی معاشرتی آداب کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔
پروگرام کی نظامت مولانا فخرالدین ریاضی صاحب نے انجام دی، اور مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کرایا، اس کے بعد برادرم توفیق گلزار توحیدی صاحب نے نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نذرانہ پیش کیا۔
نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مولانا محمد جبرائیل محمدی صاحب نے ’’مال اور اولاد فتنہ ہیں‘‘ کے موضوع پر مؤثر خطاب کیا۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا کہ مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں بھی ہیں، لیکن انسان کے لیے آزمائش اور امتحان کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾
’’تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو محض آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘
مولانا موصوف نے خصوصاً نماز کی پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ مال و اولاد انسان کو اللہ کی اطاعت سے غافل نہ کریں، بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے۔
انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ انسان دنیا میں مکمل آزادی کے ساتھ نہیں چھوڑا گیا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور اس کی زندگی شریعت کے تابع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ»
’’دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔‘‘
لہٰذا مومن کی خواہشات، معاملات، کاروبار، گھر، اولاد اور معاشرت—سب اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق ہونے چاہئیں۔
خطاب کے دوران موجودہ دور کے ایک اہم مسئلے موبائل فون اور اس کے غلط استعمال کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ والدین کو متنبہ کیا گیا کہ بچوں کو بے لگام موبائل، انٹرنیٹ اور نامناسب مواد کے حوالے نہ کیا جائے۔ بچوں کی نگرانی، دینی تربیت اور ان کے اوقات کی حفاظت کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔
اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت، صحبت، موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر مناسب توجہ دیں۔
بعد ازاں ناظم پروگرام مولانا فخرالدین ریاضی صاحب نے ’’پردے کی اہمیت و ضرورت اور بے پردگی کے نقصانات‘‘ کے عنوان پر ایک جامع خطاب کیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں حیا، عفت اور پردے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا ہے اور اس کے لیے ایسے احکام دیے ہیں جو معاشرے میں پاکیزگی اور عفت کو فروغ دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مؤمنہ عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا
«﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ﴾
’’اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور دور جاہلیت کی طرح بن سنور کر نہ نکلو۔‘‘
فخرالدین ریاضی نے واضح کیا کہ گھر عورت کے لیے محض رہنے کی جگہ نہیں بلکہ اس کی عزت، عفت اور خاندانی کردار کی تعمیر کا اہم مرکز ہے۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے ایک بلند مقام عطا کیا ہے، اس لیے اس کی عزت و عصمت کی حفاظت پورے خاندان اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
خطاب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عورت کو محض نمائش اور بازار کی زینت بنانے کے بجائے اس کے حقیقی مقام اور وقار کو ملحوظ رکھا جائے۔ بلا ضرورت بازاروں میں آمد و رفت، غیر ضروری اختلاط اور نامحرموں کے ساتھ بے تکلفی معاشرے میں فتنہ و فساد کے اسباب پیدا کر سکتی ہے۔
خطاب کے اخیر میں انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ اگر کسی ضرورت کے تحت عورت کو گھر سے باہر نکلنا پڑے تو شرعی حجاب، حیا اور اسلامی آداب کا اہتمام کرے۔ اس سلسلے میں درج ذیل امور کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔
– بلا ضرورت باہر نکلنے سے اجتناب کیا جائے۔
۔ پردے اور حجاب کا مکمل اہتمام کیا جائے۔
– خوشبو لگا کر گھر سے باہر نہ نکلا جائے۔
– نگاہوں کی حفاظت کی جائے۔
– مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچا جائے۔
– راستے میں وقار اور حیا کے ساتھ چلا جائے۔
– نامحرم دکاندار یا کسی دوسرے مرد کے ساتھ تنہائی سے اجتناب کیا جائے۔
– خریداری کے دوران گفتگو ضرورت کے مطابق، مختصر اور باوقار ہو، لچک دار آواز میں بات نہ کی جائے۔
اس پروگرام کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت یہ بھی رہی کہ مسجد کے باہر بیٹھ کر بڑی تعداد میں خواتین نے پروگرام کو سنا اور علمائے کرام کے خطابات سے استفادہ کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں دینی و اصلاحی موضوعات کے حوالے سے خواتین میں بھی دینی رہنمائی حاصل کرنے کا جذبہ موجود ہے۔
پروگرام کے اختتام سے قبل جناب توفیق گلزار توحیدی صاحب نے ایک اصلاحی و دعوتی نظم پیش کیا۔ اس کے بعد مجلس کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔
