سیاسی و سماجی کارکنوں کا سہارنپور کلکٹریٹ کی قدیمی مسجد کی ازسرِ نو تعمیر کا مطالبہ

لکھنؤ(17 ستمبر): سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع قدیمی مسجد کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے منہدم کیے جانے کے معاملے میں صدرِ جمہوریہ، وزیرِ اعظم اور گورنرِ اترپردیش کو ضلع مجسٹریٹ، لکھنؤ کے ذریعے ایک میمورنڈم پیش کرکے مسجد کی ازسرِ نو تعمیر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان مختلف ذاتوں، مذاہب اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ملک ہے اور گنگا جمنی تہذیب اس کی مشترکہ ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ میمورنڈم میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات اور کارروائیوں کے باعث سماجی ہم آہنگی متاثر ہوئی ہے۔ میمورنڈم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کی تعمیر سال 1911 میں برطانوی دورِ حکومت میں یعقوب خان اور وحید خان کی نجی زمین پر کرائی گئی تھی۔ میمورنڈم کے مطابق بعد میں کلکٹریٹ احاطے کے لیے زمین عطیہ کی گئی اور موجودہ کلکٹریٹ کی عمارت بھی اسی زمین پر واقع ہے۔ اس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ زمین سے متعلق سرکاری ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔میمورنڈم میں مسجد کو منہدم کیے جانے کی کارروائی پر Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991، وقف بائی یوزر اور Limitation Act کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

میمورنڈم پیش کرنے والوں، انڈین نیشنل لیگ کے قومی نائب صدر حاجی فہیم صدیقی، راشٹریہ بھاگیداری آندولن کے کنوینر پی سی کریل، راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن کے کنوینر محمد آفاق، مجلس اتحاد المسلمین کے صدر عثمان انصاری، محمد سلمان، رضوان قریشی، سوربھ شریواستو، محمد رضوان، نزہت خان، وزمی وغیرہ کا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات کی حیثیت اور ان سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لیے مقررہ قوانین کی پابندی کی جانی چاہیے۔

میمورنڈم میں صدرِ جمہوریہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، متعلقہ قانونی دفعات کی خلاف ورزی کی بھی جانچ کی جائے اور اگر کارروائی قانون کے خلاف پائی جائے تو ذمہ دار افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی میمورنڈم میں مسجد کی اسی مقام پر ازسرِ نو تعمیر کرائے جانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ میمورنڈم میں ملک میں مذہبی ہم آہنگی، باہمی بھائی چارے اور سماجی اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے اور مستقبل میں مذہبی مقامات سے متعلق کسی بھی کارروائی میں آئین اور قانون میں مقرر کردہ طریقہ کار کی پابندی یقینی بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔
حاجی فہیم صدیقی قومی نائب صدرانڈین نیشنل لیگ کے ذریعہ جاری ایک پریس ریلیز میں مذکورہ اطلاع دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے