محبوب نگر،۱۸؍ستمبر:آج بروز جمعرات تقریباً ساڑھے بارہ بجے سدھارتھ نگر کے معروف گاؤں محبوب نگر میں قائم مدرسہ ضیاء العلوم و ضیاء گرلس کالج میں حاضری کا موقع ملا۔ ادارے کے ناظم محترم حافظ سمیع الدین صاحب حفظہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس علمی و تعلیمی مرکز کا دورہ میرے لیے خوش آئند اور یادگار تجربہ رہا۔
حافظ سمیع الدین صاحب اور قرب و جوار کے لوگوں سے مدرسہ ضیاء العلوم کا ذکر متعدد مرتبہ سننے کو ملا تھا، لیکن وقت اور حالات کی ناسازگاری کے باعث اس سے قبل حاضری کا موقع نہ مل سکا تھا۔ الحمدللہ، آج یہ خواہش پوری ہوئی اور ادارے کو قریب سے دیکھنے، اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے اور منتظمین و اساتذہ سے ملاقات کا موقع ملا۔
حافظ سمیع الدین صاحب نے مدرسہ کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی تعارف کرایا۔ مدرسہ کی عمارت دو منزلہ ہے، جس میں متعدد کمرے اور برآمدے موجود ہیں۔ زیریں منزل کے کمروں اور برآمدے میں ابتدائی درجات کے طلبہ و طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ بالائی منزل میں ضیاء گرلس کالج کی طالبات پردے اور اسلامی نظم و ضبط کے ماحول میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
دورے کے دوران یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ گرلس کالج کی طالبات کے لیے ایک نئی عمارت کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ نئی عمارت کی تکمیل کے بعد طالبات کو وہاں منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے ادارے کی تعلیمی ضروریات کو مزید بہتر انداز میں پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
طالبات کی آمد و رفت کے لیے ادارے کی جانب سے دو گاڑیوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے، جس سے دور دراز علاقوں سے آنے والی طالبات کو سہولت حاصل ہوتی ہے۔
مدرسہ کے مغربی جانب ایک خوب صورت اور عالیشان مسجد قائم ہے، جہاں پنج وقتہ نماز کا اہتمام ہوتا ہے۔ مسجد ہی میں شعبۂ حفظ بھی قائم ہے، جہاں طلبہ قرآنِ کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ مسجد اور مدرسہ کا یہ باہمی تعلق ادارے کے دینی ماحول کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
مدرسہ میں ایک بڑا گراؤنڈ بھی موجود ہے، جس میں مختلف اقسام کے پھل دار اور سایہ دار درخت لگائے گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کشادہ اور سرسبز ماحول طلبہ و طالبات کے لیے نہ صرف خوش گوار فضا فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ مدرسہ کے احاطے میں موجود یہ سبزہ اس کے ماحول کو مزید دل کش بناتا ہے۔
مدرسہ میں تقریباً سات اساتذہ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں مولانا شمس الدین صاحب قاسمی، مولانا صدر عالم صاحب ندوی، مولانا قطب الدین صاحب مفتاحی ، حافظ عبد المعید صاحب کے علاوہ ہندی، انگریزی اور حساب کے اساتذہ شامل ہیں۔ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں محنت، لگن اور دل جمعی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
ادارے میں دینی علوم کے ساتھ عصری مضامین کی تعلیم کا بھی اہتمام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہاں طلبہ و طالبات کی تعلیمی ضروریات کو مختلف پہلوؤں سے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دورے کے موقع پر محترم مولانا نجم الدین صاحب قاسمی، قاسمی پرنٹنگ پریس لوٹن، سدھارتھ نگر بھی موجود رہے، جس سے اس ملاقات کی خوش گواری میں مزید اضافہ ہوا۔
مختصر قیام کے دوران مدرسہ ضیاء العلوم و ضیاء گرلس کالج کے تعلیمی ماحول، اساتذہ کی مصروفیات، طالبات کے لیے کیے گئے انتظامات، شعبۂ حفظ، مسجد اور ادارے کی تعمیراتی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مجموعی طور پر یہ دورہ ایک ایسے تعلیمی ادارے سے تعارف کا ذریعہ بنا جہاں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم اور طالبات کی تعلیمی ضروریات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ مدرسہ ضیاء العلوم و ضیاء گرلس کالج کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس کے اساتذہ و منتظمین کی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور یہاں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کو علمِ نافع اور عملِ صالح کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے