عبدالرحمن راشد عمری

محبتوں کا جو انمٹ نشان رکھتا ہوں

سرور و کیف کا دل میں جہان رکھتا ہوں

شکستہ لوگ ہی تھک کر کے بیٹھ جاتے ہیں

میں عزم نو کی ہمیشہ چٹان رکھتا ہوں

بہت عجیب ہے صحرا نوردیوں کا عذاب

میں اپنے رستے میں اپنا مکان رکھتا ہوں

یہ کم نہیں مرے مالک کہ دھوپ میں سر پر

ترے کرم کا سدا سائبان رکھتا ہوں

شگفتہ لوگوں کی صحبت کا ہے اثر راشد

میں اپنے پاس جو اردو زبان رکھتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے