ڈاکٹر سراج الدین ندوی
9897334419
قرض لینا پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرض کے معنیٰ کاٹنے کے ہیں۔ اس لیے کہا جاتاہے کہ قرض ایک قینچی ہے یہ تعلقات کو ختم کردیتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ دوآدمیوں میں بڑے اچھے تعلقات ہیں۔ دونوںبہت بڑے اور بے تکلف دوست ہیں مگرقرض کے لین دین نے ان کے خوشگوارتعلقات میں دراڑڈال دی۔کہاں وہ ایک دوسرے کے لیے جان پر کھیلنے کو تیاررہتے تھے اور اب ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوگئے ہیں یا کم از کم تعلقات میں پہلی جیسی گرم جوشی باقی نہیں رہی۔ چنانچہ آنحضـور ﷺقرض کے عذاب سے بھی پناہ مانگتے تھے۔یہ اس معنی میں عذاب ہے کہ قرض لے کر آدمی دوسرے کی نظر میں گرجاتا ہے۔ قرض دینے والے کی نگاہ میں اس کی کوئی وقعت نہیںرہ جاتی۔ وہ قرض خواہ کے سامنے سرجھکائے رہتا ہے۔ اس کی جرأت وہمت سلب ہوجاتی ہے اور انسان خود اپنی نظرمیں اپنے کو حقیرسمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے قرض لینے سے حتی الامکان بچئے۔ اگر کبھی شدید ضرورت پڑے توضرورت کی تکمیل کی حد تک قرض لیجئے۔ بلا ضرورت یا ضرورت سے زیادہ قرض کبھی نہ لیجئے۔کم سے کم قرض لے کر اپنی ضرورت پوری کرلیجئے اور جلد سے جلد قرض کے بوجھ سے نجات پانے کی کوشش کیجئے۔قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول نہ کیجئے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: خوش حال آدمی کا(قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔(بخاری)
قرض لیتے وقت اس کی ادائیگی کی نیت ضرور رکھئے۔ یہ بالکل نہ سوچئے کہ اگرحالات ساز گار ہوئے تو قرض ادا کردوں گا ورنہ کوئی بات نہیں۔ قرض لیتے وقت عزم کرلیجئے کہ پہلی فرصت میں قرض کی ادائیگی کریں گے۔ اللہ سے دعا کیجئے اور کوشش کیجئے کہ وہ ایسے حالات پیدا کردے کہ آپ کو قرض سے نجات مل جائے اور آپ بے فکری کی زندگی گزارسکیں۔
حضرت ابوہریرہؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس شخص نے لوگوںسے مال(قرض ) لیا اور یہ چاہا کہ اللہ اسے ادا کرادے تو اللہ ضرور ادا کرادے گا اورجس شخص نے اس ارادہ سے لیا کہ اسے ضائع کردے تواللہ تعالیٰ اس (قرض دار) کو تباہ کردے گا۔(بخاری)
ایک دن رسول اللہ ﷺلوگوںکے درمیان کھڑے ہوئے اور ان کے سامنے بیان کیا کہ اللہ کی راہ میںجہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا افضل ترین اعمال ہیں۔ یہ سن کر ایک شخص کھڑا ہوگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺآپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں خدا کی راہ میں قتل ہوجائوںتو کیا یہ بڑے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا؟ آپؐ نے فرمایاکہ ہاں بشرطیکہ تم اس حالت میںاللہ کی راہ میں قتل ہوکہ صبر کرنے والے،نیک نیت، آگے بڑھنے والے ہو اور پیٹھ دکھانے والے نہ ہو۔ پھر آنحضور ﷺنے اس شخص سے دوبارہ معلوم کیا کہ تم نے کیا کہا تھا؟ اس شخص نے عرض کیا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میںاللہ کی راہ میں مارا جائوں تو کیا یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا؟آپؐ نے فرمایا کہ ہاں بشرطیکہ تم صبر کرنے والے، نیک نیت ،آگے بڑھنے والے اور پیٹھ نہ دکھانے والے ہو۔ (تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے) سوائے قرض کے، جبرئیل نے یہی مجھ سے کہا ہے۔(ترمذی)
آج کل شادی بیاہ اور خوشی وغم کی تقریبات کو نہایت شان کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے اور اس کے لیے بڑی بڑی رقمیں قرض لی جاتی ہیں۔ بعض اوقات سود پر قرض لیا جاتا ہے۔یہ نہایت افسوس اوردُکھ کی بات ہے۔ اس کی اصلاح کرنی چاہیے۔اول تو غیرشرعی رسوم پھر ان میں فضول خرچی اورقرض لے کر اپنے کو عذاب میں مبتلا کرنا تین گنابے وقوفی اور گناہ کی بات ہے۔ ایسی رسومات اور تقریبات سے اپنے آپ کو دور رکھئے۔
دوسری طرف اسلام نے دولت مندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں۔ اگر کوئی شحص مجبوری میں قرض طلب کرتا ہے اور آپ اس کی فی سبیل اللہ مدد نہیں کرسکتے ہیں تو اسے قرض دے کر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کا بندوبست کرادیجئے یہ بڑی نیکی کا کام ہے۔ جس کو آپ نے قرض دیاہے اس کی عزت نفس کا خیال رکھئے۔ اس کے ساتھ سختی کامعاملہ نہ کیجئے۔ اس کی ضرورتوںکاخیال رکھئے۔ جتنی مہلت آپ اسے دے سکتے ہیں ضرور دیجئے۔اگر قرض دار زیادہ تنگ دست ہے تو اپنے قرض کو اس کے لیے صدقہ کرکے اجر وثواب کا خزانہ جمع کیجئے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا:
’’اگر(قرض دار) تنگ دست ہوتو اس کی خوشحالی تک اسے مہلت دو اور اگر تم صدقہ کرو(یعنی قرض معاف کردو) تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔‘‘(البقرہ:۲۸۰)
حضرت ابوالیسر ؓ روایت کرتے ہیں کہ میری ان دونوں آنکھوںنے دیکھا، میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یادرکھا کہ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی تنگ دست(قرض دار) کومہلت دی یا اس کاقرض معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔(مسلم)
حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں سے ایک شخص کی روح فرشتے لے کرچلے تو اس سے دریافت کیا کہ کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟ وہ بولا: نہیں۔ فرشتوںنے کہا کہ اچھی طرح یاد کرو۔ وہ بولا کہ میں لوگوں کو قرض دیاکرتا تھا اور اپنے ملازموں کو اس بات کا حکم دیا کرتا تھا کہ تنگ دست کو مہلت دو اور مالدار پر آسانی کرو، اس پراللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا کہ تم بھی اس پرآسانی کرو۔
اگر قرض دیتے وقت آپ کی یہ نیت تھی کہ قرض واپس نہیں لیں گے تو پھر کبھی بھی اسے واپس نہ لیجئے۔ چاہے آپ کے حالات تبدیل ہوجائیں اور آپ کی خوش حالی خدانخواستہ افلاس میں بدل جائے تب بھی قرض کی واپسی کا خیال دل میںنہ آنے دیجئے۔الا یہ کہ قرض دار آپ کی حالت دیکھ کر رقم واپس کریں تو کوئی مضائقہ نہیں۔
اگر آپ نے کسی کو قرض دیاہے تو اس کا دوسرے لوگوں سے چرچا نہ کیجئے۔قرض دار کی ضرورت لوگوں کے سامنے نہ بتائیے۔کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالئے جس سے قرض دار کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘(مسلم )
جس شخص کو آپ نے قرض دیاہے ۔اس سے کوئی خدمت نہ لیجئے۔ نہ مفت اور بلااجرت کوئی کام کرائیے۔ نہ کوئی معاوضہ یا بدلہ چاہیے اور نہ ہی اس کی صلاحیتوں اور املاک سے کوئی نفع حاصل کیجئے۔ کہیں یہ نفع سودمیں شامل نہ ہوجائے۔
لوگوں نے دیکھا کہ امام ابوحنیفہؒ ایک شخص کے مکان کے سامنے کھڑے ہیں۔ برابر میں مکان کا سایہ ہے۔مگرآپ سایہ کو چھوڑ کر تپتی زمین پر تیز دھوپ میں کھڑے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا:’’حضورسایہ میں کھڑے ہوجائیے۔‘ آپ نے فرمایا :مالک مکان نے مجھ سے قرض لیاتھا۔ میںنہیں چاہتا کہ اس کے مکان کے سایے سے فائدہ اٹھائوں اور یہ فائدہ سود میں لکھا جائے۔‘‘
جب آپ قرض کا لین دین کریںتو کسی نیک کاتب سے اسے تحریرکرالیجئے۔تحریر لکھتے وقت دو معتبر گواہوں کی گواہی بھی ثبت کرالی جائے تاکہ کسی وقت نزاع نہ پیدا ہوسکے اور اگر نزاع پیدا ہوجائے تویہ تحریروقتِ ضرورت کام آسکے۔
سورہ بقرہ کے ایک پورے رکوع میں اس سلسلہ میں ضروری ہدایت دی گئی ہیں:
’’جب تم آپس میں معاملہ کرو ادھار کا کسی وقتِ مقررہ تک تو اس کو لکھ لیاکرو اور چاہیے کہ لکھ دے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف سے۔‘‘(البقرہ:282)
قرض دینے والے کو چاہیے کہ ضرورت مند کو خوش دلی سے قرض دے ۔ اس پر کوئی تنگی نہ کرے، نہ تو اسے طعنہ دے نہ اسے عار دلائے، نہ احسان جتائے نہ اسے کوئی اذیت پہنچائے نہ اس سے کوئی خدمت لے اور نہ ہی کوئی فائدہ حاصل کرے۔ اگر قرض دار مہلت طلب کرے تو اسے زیادہ سے زیادہ مہلت دے کر اجروثواب کمائے۔
ملی تنظیموں کو کوئی اجتماعی کوشش کرنا چاہئے جہاں ضرورت مندوں کوبغیر سود کے قرض فراہم کیا جائے اور ان سے ضمانت کے طور پر ایسی دستاویز لکھوائی جائے کہ قرض کی واپسی یقینی ہو۔بحالت مجبوری زکاۃ کی رقم سے قرض ادا کیا جانا چاہئے۔
قرض دار کو چاہئے کہ وہ قرض اس مدت سے پہلے واپس کرنے کی کوشش کرے جو اسے دی گئی ہے ۔اگر کسی وجہ سے قرض ادا کرنے کے لیے رقم فراہم نہیں ہوسکی ہے تو قرض خواہ کو مطلع کردے اور مہلت چاہے ۔البتہ خواہ مخواہ قرض کو اپنے اوپر لادے نہ رہے ۔قرض کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجانا بہت بڑے نقصان کا باعث ہے ۔آج کل قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنے اور قرض لے کر فرار ہوجانے کے واقعات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ۔جس کے سبب قرض دینے والوں نے بھی اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔لامحالہ ضرورت مندسود پر قرض لینے کو مجبور ہورہے ہیں ۔
قرض ایک قسم کا عذاب ہے اور اللہ کے رسول ﷺنے اس عذاب سے نجات کی دعا مانگی ہے۔ خواہ مخواہ اپنے آپ کو اس عذاب میںمبتلا نہ کیجئے۔ اپنی ضروریات کو محدود کرلیجئے۔ تنگ دستی کے ساتھ گزراوقات کرلیجئے مگر قرض کے لیے دستِ سوال دراز نہ کیجئے۔علامہ عبدالبدیع صقرؒ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’ پہاڑ کا بوجھ زیادہ ہے لیکن قرض کا بوجھ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔‘‘(لازوال نصیحتیں)۔
