بسونا کے یوم ِ پیدائش 30؍اپریل کے موقع پر خصوصی مضمون
سید مقصود
راشٹریہ مسلم مورچہ دہلی۔
بھار ت میں دو نظریوں کے درمیان کشمکش کی تاریخ بہت ہی قدیم ہے۔ ایک نظریہ مساوات، بھائی چارہ، آزادی اور انصاف کی بنیاد پر سماج کی تشکیل چاہتاہے۔ دوسرا اس نظریہ کو بڑی شدت سے رد کرتاہے ۔ اس بنیاد پر کہ ہم برہما کے مکھ (منہ) سے پیدا ہوئے ہیں اور زمین پر چلتے پھرتے نظر آنے والے خدا ہیں۔ ’’اہم برہماسی (میں برہما ہوں ، یعنی میں خدا ہوں)، یہ کائنات دیوتاؤں کے قبضے میں ہے۔ دیوتامنتر کے قبضے میں ہے اور منتر برہمنو ں کے تسلط میں ہے۔ اسی لئے برہمن ہی سب کا دیوتا ہے‘‘ (بحوالہ دلت مسئلہ ۔ جڑمیں کون؟، انتظارنعیم ، ساہتیہ سوربھی، دہلی ،صفحہ 103)
اس مغرورانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ منوواد، برہمن واد اسی کی پیداوار ہے۔ وَرن ویوستھا اسی کانتیجہ ہے۔ ’’مساوات سے دشمنی، آزادی سے نفرت ، بھائی چارگی کامخالف‘‘ (تقریرو تحریریں ، باباصاحب امبیڈکر، جلد تین ، باب نمبر 5، صفحہ نمبر66) اسی برہمن واد کو کئی دفعہ چیلنجس کا سامناکرنا پڑا۔ بدھ مت ، جین مت کے بعد اسلام اس سوچ کے لئے بڑا چیلنج بنا۔ اسلامی اثرات نے سکھ ازم اور سنتوں کی برہمن مخالف تحریک جنم لی۔ ہزاروں سنتوں نے ہر علاقے ، ہر دور میں اس نظریہ کی مخالفت کی ۔ بارہویں صدی میں سرزمین دکن سے ایک معتبر آواز اٹھی ، اسی برہمن دھرم کے لئے ایک چیلنج بن گئی اور اس برہمن دھرم کے خاتمہ کے لئے ایک نئے دھرم کی بنیاد رکھی ، اس دھرم کا نام لنگایت دھرم ہے۔
لنگایت دھرم کے بانی گروبسونا کی داستانِ حیات: گروبسونا کاجنم ، 1106، 1131اور 1134ء میں ہوا ، اس قدر اختلافات ہیں۔ مگر مشہور جہدکار ماتے مہادیوی بسواکلیان کی بات کو مان کر چلتے ہیں۔جن کے مطابق گروبسونا کاجنم 30؍اپریل 1134ء کو ہوا۔ یہ برہمنوں کے اعلیٰ خاندان میں پیدا ہوئے۔(اس بات پر کافی اختلاف پایاجاتاہے ) ریاست کرناٹک کے ضلع بیجاپور کے گاؤں بھاگین واڑی ، والد مدی راجا، اور ماںمادھالامبیکاکے گھر بسونّا پید اہوئے ۔ یہ ان کی تیسری اولاد تھے۔ ان سے بڑے دیوراجا ، اور بہن ناگماں جو آگے چل کر بسونا کی تحریک میں بھائی کے دوش بدوش شامل رہیں۔ بسونّا جب 8سال کے ہوئے ، خاندانی روایات کے مطابق ان کی زنارپوشی کی رسم انجام دینا پایا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ۔بسونّا نے اس بات پر اصرار کیاکہ زنارپوشی اپنی بڑی بہن ناگماں کی کیوں نہیں ؟ دھرم کے اصول اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ خواتین کی زنارپوشی کی جائے ۔ اس بات پر بسونا نے کہاجودھرم لنگ بھید ( مردوزن میں فرق) کرتاہے وہ دھرم ، دھرم نہیں ہوسکتا۔ ناراض ہوکر کوڈلا سنگم چلے گئے۔ ایچ تپے رُدراسوامی کے مطابق ، زنارپوشی کی رسم انجام نہیں دی جاسکی۔
قیامِ کوڈلا سنگم اور عرفان کاحاصل ہونا: کرشنا اور اس کی معاون ندی مل پربھا کے سنگم پر کوڈلا سنگم واقع ہے۔ وہاں پر ایک گروکل ایشنیا گروجن کوجاتاویدا منی بھی کہاجاتاہے ، ان کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ، پجاری کاکام بھی انجام دینے لگے ۔ ایک دن سنسکرانتی کو خاص پوجا کا اہتمام تھا۔ بھکت بہت دور دور سے آئے ہوئے تھے ۔ ان میںسے ایک بھکت کی بیل گاڑی کے نیچے بلی کچل کر مرگئی۔ اس کو بہت اشبھ ماناگیا۔ بھکت نے اس گناہ کاکفارہ کسطرح ہوسکتاہے پوچھا۔ پجاریوں نے کہا’’سونے کی بلی بناکر مندر پر چڑھاوا چڑھانے سے ہوسکتاہے ‘‘ بھکت نے کہا’’میں غریب کسان ہوں ۔ یہ ممکن نہیں ہے ‘‘اس نے پتری(بیل پھل کے پتے ) مندر پر نذر کر نا چاہا۔ وہ بھی گرباگڑی (جہاں پر بت نصب ہوتاہے ) میں جاکر ۔ اس کو پجاریوں نے روکا۔ گروبسونّا
نے اس میں مداخلت کی۔ بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی مگر بسونا کا حساس دل پسیج گیا۔ اور غوروفکر کرنے لگے کہ یہ کیسا دھرم ہے ؟اس کو تبدیل ہوناچاہیے۔ تبدیلی کی سوچ کی بنیادیہاں سے پڑی ۔ اسی لئے آج بھی لنگایت بارہ سے 15جنوری کو کوڈلا سنگم میں شرن میلا کے نام سے مناتے ہیں۔ اور اس کو ’’بسواکرانتی دیوس‘‘ کے طورپر منایاجاتاہے۔آپ نے یہیں جدید دھرم لنگایت کے تانے بانے ، بننا شروع کیا۔ آخر کار کلیانی پہنچنے کے بعد انوبھومنڈپ کے ذریعہ اس دھرم کو عملی شکل دی۔ اور اس کا پرچارکرڈالا۔ 12؍سال کوڈلا سنگم میں گزارنے کے بعد 1153ء میں اپنے ماموں کے پاس منگلا ویڑا آگئے۔ آج کل مہاراشٹر(پنڈھر پور) میں یہ مقام واقع ہے۔ یہ شہر حکومت تاردوادی کاصدر مقام تھا۔ یہاں پر راجا بجل کی حکومت تھی۔ بسونّا کے ماموں بلدیو دراصل راجہ بجل کے وزیر خزانہ تھے۔ بلدیو کی بیٹی گنگامبیکے اور راجہ بجل کی لے پالک بہن نیلامبیکے سے ان کی شادیاں ہوئیں۔ (بحوالہ بسویشور، ایچ تپے ردرے سوامی ، جسکا اردو ترجمہ حمیدالماس صاحب گلبرگہ نے کیا، ساہتیہ اکیڈمی دہلی ، 1990میں پہلا ایڈیشن شائع کیا، صفحہ نمبر 14) راجا بجل کلیان فتح کرنے کے بعد اپناصدرمقام منگل ویڑا سے کلیانی کوتبدیل کردیا۔ گروبسونا نے 1160ء کو کلیانی پہنچ گئے۔ اور نئی سلطنت میں گروبسونا کو ان کے ماموں کی جگہ وزیرخزانہ بنایاگیا۔ قیام ِ کلیانی کے زمانے میں 9؍سال بعد 1169ء میں انوبھومنڈپ کا قیام عمل میں لایا۔ اس سماجی ادارہ سے سماج سدھار ہی نہیں ہوابلکہ سماجی تبدیلی بڑے پیمانے پر آئی اور اس انداز سے شیوشرنوں(لنگایت دھرم کے ماننے والے ) کی ذہن سازی کی گئی۔ ورن ویوستھا کی لگائی ہوئی ، ساری پابندیاں یکلخت ختم ہوگئیں۔
انوبھومنڈپ کے بنیادی اصول: انوبھومنڈپ کے بنیادی اصول جن کو شرن اور گروبسونا مانتے تھے ، ان میں سے کچھ اہم اس طرح ہیں۔ (۱) تمام انسان مساوی درجہ رکھتے ہیں (۲) کسی بھی انسان کی بڑائی ، پیدا ئش ، صنف ، یا پیشے کے اعتبار سے نہیں دی جاسکتی ۔ (۳)مردوزن کے درمیان کوئی تفریق نہ ہو، وہ اپنے ارتقاء کی راہ پر مرد کے شانہ بشانہ چل سکے (۴) ہر ایک کواپنی مرضی کاپیشہ اختیا رکرنے کی آزادی ہو(۵) ورن اور آشرم کو مکمل طورپر ترک کرنا ہوگا (۶) رہبانیت اختیار کرنا بزدلی کی علامت ہے۔ زندگی کی حقیقتوں سے فرار کی راہ ہے۔ اسی لئے رہبانیت اختیار نہیںکرناچاہیے(۷)چھوت چھات کا سماج میں کوئی مقام نہیں ہے (۸) بین طبقاتی شادیاں اور اجتماعی طعام کو بڑھاوا دینا چاہیے (۹)روحانی اور سماجی موضوعات پر سوچ وچار کرنے کی ہر ایک کو آزادی حاصل ہے (۱۰) عوامی زبان ہی کو مذہبی وغیرمذہبی تعلیم کاذریعہ بنایاجائے (بحوالہ Shri Basveshwara commemartion، جلد 1967، صفحہ 41,42)انوبھومنڈپ کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی گئی ہے، اس پر غور کیاجائے تو معلوم ہوگا’’برہمن دھرم میں سماج پر جو پابندیاں لگائی تھیں ، ان سب کاخاتمہ ؑیعنی منو کے لئے لنگایت دھرم موت کا پیغام ثابت ہوا ، بارہویں صدی میں اس انقلابی سوچ سے اندازہ ہوتاہے بسونا کوئی معمولی آدمی نہیں تھے۔ ان کی عظمت غیرمعمولی ذہانت اور ہمت کی غمازی کرتی ہے۔
متبادل تہذیب (Alternative Culture):مروجہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہی انقلاب کا مقصد نہیںہوتا بلکہ یہ ضروری ہوتاہے کہ اس نظام سے بہتر متبادل نظام پیش کیاجائے۔ یہی انقلاب کی تکمیلیت ہے ۔کسی کوغلط کہنا ، بہت آسان ہے۔ سہی کیاہے ، پیش کرنا مشکل کام ہے۔ اس کام کو گروبسونا نے کرکے دکھایا۔ اسی لئے ساڑھے آٹھ سوسال بعدبھی لنگایت دھرم زندہ ہے۔ کیوں کہ برہمنی نظام کے خلاف اس کا متبادل پیش کیا اس کی چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔ نمبر1، کرما سدھانت بمقابلہ کائیکاسدھانت: ۔کرم سدھانت میں پچھلے جنم میں کئے ہوئے اچھے برے کام کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ کائیکا سدھانت پیشوں کی آزادی کی بات کرتاہے۔ کوئی بھی پیشہ اختیار کیاجاسکتاہے ۔ موروثی پیشہ بھی ترک کرسکتے ہیں۔ جیسے ماڑی والا ماچی دیواایک دھوبی تھے ۔مگر گروبسونانے ان کے ہاتھ تلوار تھما کر چھتری کا پیشہ اختیار کرنے کی اجازت دی۔ نمبر2۔ دان کامتبادل داسوہا:۔ دان دینے والا تکبر میں مبتلا رہتاہے لیکن داسوہا کا نظریہ جو تکبر کے جذبات کو ختم کرتاہے۔ اور اپنی ضروریات سے زائد دولت سماج کو واپس کرنا اپنا فرض سمجھتاہے۔ نمبر3۔ ، پیٹھم بمقابلہ مٹھم:۔ پیٹھ کی صدارت صرف برہمن ہی کو مل سکتی ہے۔ جب کہ مٹھم کوئی بھی شرن کسی بھی ورن کاہو، صدر بن سکتاہے۔ مذہبی کام کو انجام دے سکتاہے۔ نمبر 4، زنارپوشی بمقابلہ لنگ دھارن:۔ زنارپوشی برہمن چھتریہ ، ویش کو ہی اجازت ہے۔ زناراعلیٰ ذات کی پہچان ہے۔ اس کے مقابلے میں لنگ دھارن کارواج دیاگیا۔ لنگ اعلیٰ ذات کی پہچان نہیں ہے، بلکہ یہ عبادت کاذریعہ ہے۔ نمبر5 ، مندر بمقابلہ انوبھومنڈپ :۔ مندر میں شودروں کو داخلے کی اجازت نہیں۔ وہ صرف مندر کے کلش کادرشن سے ہی ان کی عبادت پوری ہوجاتی ہے۔ انومنڈپ میں سب کو اجازت ہے۔ تعلیم حاصل کرنے ، مذہبی معاملات پر غوروفکر کرنے ، مذہب کا پرچار کرنے وغیرہ وغیرہ ۔ نمبر6 ، پجاری بمقابلہ جنگم :۔ پجاری صرف برہمن ہی ہوسکتاہے۔ جو خدا اور بھکت کے درمیان رابطہ کاکام کرتاہے۔ اور یہ پیشہ موروثی ہوتاہے۔ جنگم کا پیشہ اختیار ی ہوتاہے ۔ کسی بھی ورن اور ذات سے ہوسکتاہے۔ اپنے مذہب کامبلغ ہی ہوتاہے ۔
کلیانی کرانتی: انوبھومنڈپ کے زیراثر ایساماحول بنا ، ذات پات کانظام پوری طرح ختم ہوگیا۔ یہاں تک کہ سابقہ اتی شودر اچھوت ہرلیہ (موچی) کے بیٹے شیلونت کا بیاہ سابقہ برہمن مدھو ورساکی بیٹی لاونیا سے بسواکلیانی میں 1196ء میں ہوا۔ پھر کیاتھا، روایت پسند برہمن وادی اور ان کے ساتھیوں نے راجہ بجل کے پاس شکایت کی ۔ آپ کا وزیر بسونّادھرم کوبھرشٹ کررہاہے ۔ راجہ کا کام تو دھرم کی رکشا کرنا ہوتاہے۔ بسونّا کو دربار میں مجرم کی طرح حاضر ہونا پڑا۔ جب کہ وہ کل تک وزیر خزانہ کی حیثیت سے حاضر ہوتے تھے۔ گروبسونا اور راجہ کے درمیان جو گفتگو ہوئی ، وہ بڑی اہم اور دلچسپ ہے ۔ گروبسونا نے کہا’’میں نے کوئی دھرم بھرشٹ کرنے کاکام نہیں کیا۔ نہ ہی مختلف ورن اور ذات کے درمیان شادی کرائی۔ بلکہ جو کوئی لنگ دھارن کرتاہے ، وہ برہمن رہتاہے نہ ہی شودر۔بلکہ وہ لنگایت ہوجاتاہے۔ میں نے ایک ہی دھرم کے ماننے والوں کے درمیان شادی کروائی ۔ مختلف ورنوں کے درمیان نہیں۔ یہی بات لنگایت دھرم کو ایک علیحدہ دھرم کی حیثیت سے اسکی پہچان دلاتی ہے۔ اس ترک کے باوجود ہرلیہ ، مدھورسا، اور شیلونت کو موت کی سزاسنائی گئی۔ ہاتھی کے پیروں تلے کچل دیاگیا۔ جب شیوشرنوں (لنگایت دھرم کوماننے والوں ) نے احتجاج کیا تو راجہ کی منظم فوج نہتے شرنوں کاقتل ِ عام کرنے لگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ انوبھومنڈپ میں جمع وچن ساہتیہ کو جلا ڈالاگیا۔ جو عظیم سرمایہ تھا۔ انھوں نے سوچااس طرح بسونا کی سوچ کو ختم کرسکتے ہیں۔ مگر شرنوں نے اپنی جان پر کھیل کر جتنا ہوسکے ، اتنا وچن ساہتیہ کولے کر مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ اور اس وچن ساہتیہ کو بچالیا۔ 19؍ویں صدی کی ابتداء میں بیجاپور کے قریب بھاگو فقیرپانامی ایڈوکیٹ کے اپنے گاؤں میں ایک دیوار تھی،لوگ اس کی پوجا کرتے تھے، بھاگو فقیرپاکے تجسس نے اس دیوار کو ڈھادِیا۔ جس کے نیچے ایک صندوق ملا۔ جس میں تاڑکے پتوں پر وچن ساہتیہ کی شکل میں ایک خزانہ ہاتھ لگا ۔ اس کو انھوں نے شائع کروایا۔ اور حقیقی لنگایت دھرم لوگوں کے سامنے تب آیا۔
لنگایت ہندونہیں ہیں: ہندودھرم ایک دھرم نہیں ہے۔ یہ برہمن دھرم ہے۔ برہمن دھرم دھرم نہیں ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو غلام بنانے اور غلام بنائے رکھنے کے سسٹم کانام ہے۔ اصل میں ہندودھرم کانام برہمن دھرم ہونا چاہیے۔ (آنندمشرام ، صدر مکتی مورچہ ، نئی دہلی ) لنگایت دھرم ان سب روایات کا انکارکرتاہے ، اس کی کئی مثالیں وچن ساہتیہ میں ہم کوملتی ہیں۔ پروفیسر سنجے ماکھال ، گلبرگہ نے، 2014ء میں کتاب لکھی ، اس کاعنوان ہے ’’Lingayat an Independent Religion‘‘ بڑی گہرائی سے ان تمام چیزوں کاجائزہ لے کر انھوں نے ثابت کیاکہ لنگایت ہندو نہیں ہیں۔ اس کی ساری تفصیلات ایک مضمون میںممکن نہیں ہیں۔ ہندو، ویدوں کومقدس مانتے ہیں۔ ورن آشرم پر عمل پیرا ہیں مگر گروبسونا نے اس کو بڑی شدت سے رد کیاہے۔ اپنے ایک وچن میں کہتے ہیں ، وچن ؎
وید کو تھیلوں میں باندھ رکھوں گا؍شاستر کو زنجیر پہناؤں گا؍ارتھ شاستر کی چمڑی اُدھیڑدوں گا؍اعظم شاسترکی ناک کاٹوں گا؍اے سخی ِ اعظم ، کوڈلاسنگم دیوا ؍میں وفادار چنیا کے گھر کا وفادار بیٹاہوں (بحوالہ کتاب ’’وچن ‘‘ ، وچن نمبر369، صفحہ نمبر 190، مرتبہ :ڈاکٹر ایم ایم کلبرگی ، اردوترجمہ ، ماہر منصور، بسوا کمیٹی بنگلور، 2004ء ) اس وچن میں برہمن دھرم کی سبھی کتابوں کاجو حشر گروبسونّا نے کیا، اور اپنے آپ کو مادری چنیا (چمار) کے گھر کا وفادار بیٹا کہا ، ذات پات کے نظام کو یکلخت رد کرنا ٹہرا۔دوسرا :۔ ہند وچھوت چھات کومانتے ہیں، لنگایت اس کا انکار کرتے ہیں۔ ایک وچن میں بسویشور کہتے ہیں ؎وید لرز ہ براندام ہیں؍شاستر راستے ہٹ گئے ؍ارتھ شاستر خاموش ہوگیا؍اعظم شاستر راستہ بھول گئے ؍ یہ سب کب ہوا؍جب مادرچنیا کے گھر پر پرساد نوش کرنے گئے ؍کوڈلا سنگما دیوا(وچن نمبر 360، صفحہ نمبر 190، وچن ، بنگلورو ، 2004ء ) برہمن دھرم کی مقدس کتابیں ، جو چھوت چھات کی تعلیم دیتی ہیں۔ اتی شودر چنیا (چمار) کے گھر پرساد نوش کرنے سے ساری کتابوں کی تعلیم ،یکلخت ردّ ہوگئی۔
برہمن اور مورتی پوجا: برہمن دھرم کی جان مورتی پوجا ہے۔ شرک ان کے رگ وپے میں بساہواہے۔ جتنے کنکراتنے شنکر(بھگوان) ، اس کے مقابلے میںلنگایتوں کے پاس خدا کاتصور بالکل واضح ہے۔ وہ خدا کو بے شکل ، بے رنگ ، خوشی وغم ، موت وحیات کامنبع ،اکلوتا خالق کائنات مانتے ہیں۔ایک اہم وچن میں گروبسونا یوں کہتے ہیں ؎بانس کے پتے کتنا ہی چبائیں رس نہیں نکلتا؍پانی کوکتناہی کھولائیں، مکھن نہیں ملتا؍بالو کتنا ہی کاٹو ، سوت نہیں بنتا؍ایسے ہی خدائے واحد کے سوااور کسی دیو کی پرستش کرنا ؍اس آدمی کی محنت ایسی ہے بھوس کو کوٹ کوٹ کر اپنے ہاتھوں کو تھکادینا (مہاتما بسویشور کے وچن ، مترجم :بی وی ڈوگرے ، اودگیر ۔اشاعت : 1359فصلی )ان تمام وچنوں ، نظریات ، خیالات ، رکھنے والے کو ہم ہندو کیسے مان سکتے ہیں ؟
لنگایت دھرم کے موجودہ رجحانات: گروبسونّا،نے تقریباً 850سال پہلے جس دھرم کی بنیاد ڈالی تھی، وہ ایک علیحدہ مذہب ہے۔ نہ وہ ہندودھرم کا حصہ ہے ، نہ کوئی پنتھ ہے۔ آزادی سے پہلے ، 1931ء کی مردم شماری میں لنگایت دھرم کو علیحدہ مذہب کی حیثیت مل گئی۔ اور ان کی گنتی ، ہندوؤں سے الگ تھی۔ ویرشیوا لنگایت سماج کے صدر بھیمنا کھنڈرے نے 2011ء کی مردم شماری سے پہلے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی کہ وہ لنگایتوں کی گنتی ہندوؤں سے الگ کرے۔ 2018ء میں جب یہ مسئلہ عوامی تحریک بن گیا، سی ایم سدرامیا کی حکومت نے کرناٹک اسمبلی میں قرار داد منظور کرکے مرکزی حکومت کو لنگایتوں کی گنتی ہندوؤں سے الگ کرنے کی سفارش کی۔ لنگایتوں کاکہنا ہے، غلام بھارت میں ہم برہمنوں سے آزاد تھے۔ آزاد بھارت میں ہم غلام ہوگئے ہیں۔ یہ تحریک ہماری آزادی کی تحریک ہے۔ سیاسی حیثیت سے کانگریس نے جب لنگایتوں کو نظر انداز کرنا شروع کیا، تو وہ بی جے پی کی طرف جانے لگے۔ بھارت میں جتنے بھی مذاہب ہیں، سنت آندولن کے مہاویر، ان کامزاج جو برہمن ازم کے خلاف لڑتے آرہے ہیں، ان کارویہ احتجاجی اور جارحانہ ہوگیاہے۔ چاہے اسلام کے ماننے والے ہوں ، بدھ ازام کوماننے والے ہوں، سنتوں کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں، خاص طورپر لنگایت اپنے جارحانہ رویہ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ہم کو کسی سے دوستی اور دشمنی کرنے سے پہلے ان کے نظریات، ان کی سائیکالوجی، اور سماجی حالات کو نظر میں رکھ کر تجزیہ کرنا چاہیے۔ بھارت میں جو مساوات ، انصاف ، بھائی چارہ، آزادی کے نظریات کو اپناتاہے، وہ ہمارا دوست ہے ۔ جو اس کو رد کرتاہے، وہ ہمارا دشمن ہے۔ خاص طورسے مسلمان، ہندومسلمان کے نظریہ کے بجائے، مساوات اور عد م مساوات، ورن ویوستھا، اور ورن ویوستھا کے خلاف گروہوں میں تقسیم کرکے ان مذاہب کو دیکھنا چاہیے۔
٭٭٭


